#کالم

اندھا اعتماد نہیں ،محتاط ذمہ داری

Untitled 5

جاویدایازخان

ایک بادشاہ تھا جو اپنے وزیر پر بے حد اعتماد کرتا تھا۔ لوگ کہتے تھےکہ "حضور! ہر انسان سے غلطی ہو سکتی ہے، اتنا اندھا اعتماد ٹھیک نہیں۔” مگر بادشاہ ہنس کر کہتا، "میرا وزیر کبھی مجھے دھوکہ نہیں دے سکتا”۔ ایک دن وزیر نے کہا، "بادشاہ سلامت! اگر اجازت ہو تومیں ایک تجربہ کرنا چاہتا ہوں”۔ بادشاہ نے فورا”اجازت دے دی۔ اگلے دن وزیر نے ایک صندوق محل کے بیچ رکھوا دیا اور اعلان کروایا کہ "اس صندوق کو کوئی نہیں کھولے گا”۔ جو کھولے گا، سخت سزا پائے گا۔ چند دن بعد وزیر نے خود بادشاہ سے کہا، "حضور! مجھے شک ہے کہ اس صندوق میں کوئی خطرناک چیز ہے۔ بہتر ہے آپ خود اسے کھول کر دیکھ لیں۔ سب نے وزیر کی بات کو مان لیا۔ بادشاہ نے ایک لمحہ بھی نہ سوچا۔ اس نے صندوق کھول دیا۔ صندوق خالی تھا۔ وزیر مسکرایا اور بولا، "حضور! آپ نے میری پہلی بات پر بھی آنکھ بند کر کے یقین کیا، اور دوسری بات پر بھی مگر آپ نے ایک بار بھی یہ نہ سوچا کہ آخر میں کہنا کیا چاہ رہا ہوں یا کرنا کیا چاہتا ہوں ؟۔بادشاہ وزیر کی بات سن کر حیران رہ گیا تو وزیر نے کہاحضور "اعتماد بہت خوبصورت رشتہ ہے، مگر اندھا اعتماد عقل کو سلا دیتا ہے۔ جہاں سوال ختم ہو جائیں، وہاں غلطیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ بادشاہ نے سر جھکا کر کہا، "آج تم نے مجھے حکومت سے بھی بڑا سبق سکھایا ہےکہ اعتماد ضرور کریں مگر اتنا نہیں کہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہی ختم ہوجائے ۔عقل اور اعتماد جب ساتھ چلیں تبھی انسان محفوظ رہتا ہے۔اس لیے دنیا میں انسان نے دشمن سے کبھی دھوکہ نہیں کھایا جب بھی انسان کے اعتماد کو نقصان پہنچا ان سے ہی پہنچا جن پر وہ اعتماد کرتا تھا۔اندھا اعتماد ایک ایسی بےوقوفی ہے جس کی بسا اوقات بڑی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے ۔آج کل آئے دن بچوں اور بچیوں سے چھیڑ چھاڑ ،جنسی زیادتی اور قتل جیسے واقعات دیکھنے ،پڑھنے اور سننے کو مل رہے ہیں۔گو گرفتاریاں بھی ہو رہی ہیں اورسخت سزائیں بھی مل رہی ہیں مگر ایسے واقعات کم ہونے کا نام ہی نہیں لیتے۔معصوم بچوں سے زیادتی اور قتل کے واقعات نے والدین میں خوف کی ایک لہر دوڑا دی ہے۔اور آج اپنے بچوں کی حفاظت ہی ان کے لیے ایک چیلنج بنتا جا رہا ہے۔اعتبار و اعتماد نام کی کوئی چیز معاشرے میں دکھائی نہیں دیتی۔ہر روز ایسی ہی کوئی نئی خبر ان کو بےچین اور پریشان کردیتی ہے۔بچیوں سے زیادہ آج بچوں کے والدین پریشان دکھائی دیتے ہیں۔معاشرے کا یہ بگاڑ گھروں کے اندر تک پہنچ چکا ہے۔ کہتے ہیں کہ بچپن دنیا کا سب سے معصوم اور انمول موسم ہوتا ہے۔ اس موسم میں بچے ہر مسکراہٹ کو محبت، ہر شفقت کو خلوص اور ہر قریبی شخص کو اپنا محافظ سمجھتے ہیں۔ ان کی معصوم ذہن اور آنکھیں دھوکے، فریب اور ہوس کی زبان نہیں جانتیں۔ مگر المیہ یہ ہے کہ آج اسی معصومیت پر سب سے زیادہ حملے ہو رہے ہیں۔ ہر بار جب کسی بچے یا بچی کے ساتھ زیادتی اور قتل کی خبر آتی ہے تو پہلا سوال یہی ہوتا ہے کہ مجرم کون تھا؟ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ اکثر جواب یہی ملتا ہے کہ وہ کوئی اجنبی نہیں تھا، بلکہ رشتہ دار، ہمسایہ، استاد، دوست، یا خاندان کا ایسا فرد تھا جس پر گھر والوں نے آنکھیں بند کرکے اعتماد کیا تھا۔ یہ دردناک حقیقت ہمیں خوفزدہ کرنے کے لیے نہیں بلکہ بیدار کرنے کے لیے کافی ہے۔ہمارے اباجی کہتے تھے کہ بچوں کو ماں باپ کی نظروں کے سامنے رہنا چاہیے جس کا مطلب یہ تھا کہ ماں باپ بچوں کے بارے میں مکمل باخبر رہیں اور نگرانی میں کمی نہ آنے دیں۔وہ کبھی بچوں کو اکیلے کسی کے گھر نہیں جانے دیتےتھے اور یہاں تک کہ بازار سے کچھ لانا ہوتا تو کہتے تھے کہ ایک نہیں دو بچوں کو ساتھ بھیجو۔آج مائیں بچوں کو قرآن پڑھنے یا کام سکھانے کے لیے دوسروں کے گھروں میں بھیج دیتی ہیں یہ تک سوچنا گوارا نہیں کیا جاتا کہ اس گھر کا ماحول کیا ہے؟ اور وہاں کیا ہو رہا ہے ؟ اکثر واقعات انہیں حالات میں سامنے آے ہیں جہاں بچوں کو ماں باپ کا یہی اندھا اعتماد لے ڈوبا۔آے دن کے واقعات سے ثابت ہوا ہے کہ موقعہ ملتے ہی استاد یا ہمسایہ اور رشتہ دار جو باپ کا درجہ رکھتا ہے اکثر جنسی بھیڑیے اور شیطان کا روپ دھار لیتا ہے۔ خواتیں استانیوں سے پڑھنے یا کام سیکھنے والی بچیاں تو اس گھر کی نوکر بن کر رہ جاتی ہیں اور اپنی استاد کا ہر حکم بجا لاتی ہیں چاہے وہ گھر کی صفائی ہو یا بازار سے سودا سلف کی خریداری ہی کیوں نہ ہو۔آج ہمارے میڈیا اور سوشل میڈیا کا کردار بھی الگ سے بچوں کے ذہنوں پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔اسلام نے انسان کی کمزوریوں کو بہت اچھی طرح سمجھا ہے، اسی لیے اس نے صرف جرم کی سزا ہی بیان نہیں کی بلکہ جرم تک پہنچانے والے راستوں کو بھی بند کرنے کی تعلیم دی ہے۔ قرآن مجید میں صرف زنا سے نہیں بلکہ "زنا کے قریب بھی نہ جاو¿” کا حکم دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام حیا، پردہ، نگاہوں کی حفاظت، محرم و غیر محرم کی حدود، خلوت سے اجتناب اور بچوں کی تربیت پر اتنا زور دیتا ہے۔ یہ احکام کسی پر بے جا پابندی نہیں بلکہ انسان کی عزت اور معاشرے کی حفاظت کا مضبوط حصار ہیں۔۔ اسلام بلاوجہ بدگمانی سے بھی منع کرتا ہے۔ لیکن اسلام غفلت کی بھی اجازت نہیں دیتا۔ اعتماد اپنی جگہ، مگر بچوں کی حفاظت اس سے بھی بڑی ذمہ داری ہے۔ بدقسمتی سے جدید معاشرے نے احتیاط کو قدامت پسندی اور بے پردگی کو آزادی کا نام دے دیا۔ ہم نے حدود کو رسم سمجھ کر چھوڑ دیا، اور پھر شکایت کرنے لگے کہ جرائم کیوں بڑھ رہے ہیں۔ یہ بھی درست نہیں کہ ہر رشتہ مشکوک ہے یا ہر قریبی شخص پر بدگمانی کی جائے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو اعتماد دیں، انہیں سکھائیں کہ ان کے جسم کی حرمت کیا ہے، کون سا رویہ ناقابلِ قبول ہے، اور اگر کبھی کوئی انہیں خوفزدہ کرے یا نامناسب انداز میں چھوئے تو وہ بلا خوف اپنے والدین کو بتائیں سب سے بڑھ کر یہ کہ والدین بچے کی بات کو سنیں، اس پر یقین کریں اور اسے تحفظ فراہم کریں اوراپنی یا بچوں کی بدنامی کےڈر سے اس پر پردہ نہ ڈالیں بلکہ کھل کر ایسے عناصر کی نشاندہی کو اپنا اخلاقی اور قانونی فریضہ سمجھیں۔ آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ ہم صرف مجرموں کو کوستے رہیں، بلکہ اس بات کی ہے کہ ہم اپنے گھروں میں ایسی تربیت، ایسا اعتماد اور ایسی نگرانی پیدا کریں جس سے کسی درندے کو معصوم بچپن تک پہنچنے کا موقع ہی نہ ملے۔ بچوں کی حفاظت صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری نہیں، بلکہ ہر باپ، ہر ماں، ہر استاد اور پورے معاشرے کی مشترکہ امانت ہے۔ جس دن ہم نے اس امانت کا حق ادا کرنا شروع کر دیا، اسی دن بہت سے معصوم بچپن محفوظ ہو جائیں گے۔یاد رکھیے، اعتماد ایک نعمت ہے، مگر احتیاط ایک فرض ہے۔ اور جب بات بچوں کی عزت، معصومیت اور مستقبل کی ہو تو کسی بھی قسم کی غفلت کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔

اندھا اعتماد نہیں ،محتاط ذمہ داری

05/08/2026 Daily Sarzameen Lahore

اندھا اعتماد نہیں ،محتاط ذمہ داری

فرسودہ نظام کا نوحہ

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے