#کالم

اے زندگی!!!ایک مکتوب زندگی کے نام

seher sheail

سحر شعیل

قلم کی زباں کا شکریہ کہ اس کے توسط سے آج تمہیں کچھ کہنے کا موقع ملا ہے۔میں جانتی ہوں یہ خط تم تک کبھی نہیں پہنچ سکے گا مگر صفحہ ?دل سے آج چند لفظ تمہارے نام کرتی ہوں۔وہ لفظ جو میری روح کی آواز ہیں اور تم سے کبھی کہہ نہیں پائی۔زندگی ! تم نے مجھے بہت کچھ دیا۔کبھی پلکوں کی چلمن سے چھلکتے آنسو تو کبھی بے ساختہ ہنسی،کبھی لفظوں کے نشتر تو کبھی لہجوں کے مرہم،کبھی تنہائی کا درد تو کبھی محفل کی رونق، کبھی ناکام کوششیں تو کبھی خوش قسمتی کی بدولت کامیابیاں،کبھی بے تعبیر خواب تو کبھی سچ ہوتے سپنے،کبھی امید کا چراغ تو کبھی مایوسی کا دھواں،کبھی تم سے شکوے رہے تو کبھی شکرگزاری ، کبھی تم نے ٹھوکر دے کر گرایا تو کبھی ہاتھ تھام کر پھر اٹھایا، کبھی بن مانگے دامن بھر دیا تو کبھی بار بار ہاتھ پھیلانے پر بھی خالی لوٹایا۔یہ سب تمہارے تحفے ہیں۔نجانے تم کیا ہو زندگی ؟ محروم بھی تجھے جی گیا اور مستفید بھی۔تمہیں پتہ ہے زندگی تم نے مجھے سب سے اچھا کیا تحفہ دیا؟ تم نے مجھے رشتوں کی خوبصورت زنجیر سے باندھا۔انہی رشتوں کے اتار چڑھاو¿ نے مجھے جینا سکھایا۔میں نے ان رشتوں کی بدولت خود کو کندن بنایا۔انہی رشتوں نے دکھ سکھ میں میرا ساتھ دیا۔انہی رشتوں نے کڑی دھوپ میں سائبان بن کر میری حفاظت کی۔ انہی رشتوں نے مجھے آزمائشوں کی بھٹی سے گزارا۔یہ رشتے چاہے خون کے ہوں یا دل کے ،مجھے بہت عزیز ہیں اور میں ان کے لئے تمہاری شکر گزار بھی ہوں۔زندگی !۔۔۔تمہاری سب سے اچھی خاصیت یہ رہی کہ تم کبھی رکی نہیں۔تمہاری بے ثباتی ہی تمہارا حسن ہے۔تمہارے اندرسمویا ہواتغیر ہی تمہاری شان ہے۔ اگر سب ہمیشہ ایک سا رہتا تو بے قدر ہو جاتا۔ تمہارا ادھورا پن ہی تمہارا مکمل وجود ہے۔تمہاری کمیوں میں ہی تمہارا مکمل پن ہے۔سب کو سب مل جاتا تو تمہارا حسن ماند پڑ جاتا۔میں تمہاری مشکور ہوں ان ادھورے خوابوں کے لئے جنہوں نے مجھے جینے کا مقصد دئیے رکھا۔ان لا حاصل منزلوں کے لئے جن کے سفر نے مجھے تجربات کی بھٹی سے گزار کر کیمیا کیا۔ تم نے ہی سکھایا کہ ہجر میں ہی وصل کا لطف چھپا ہے،ہر طلوع کے دامن میں غروب ہے اور ہر اختتام میں ایک نئی ابتدا پوشیدہ ہے۔میں شکرگزار ہوں زندگی کہ تم نے مجھے کبھی ٹوٹ کر بکھرنے نہیں دیا۔اگر کبھی تمہاری ستم ظریفی نے مجھے تھکایا تب بھی میں نے تمہاری آغوش میں ہی پناہ لی۔ میری ناکام حسرتوں سے دل برداشتہ جب بھی میں مایوس ہوئی تب زندگی ! تم نے ہی مجھے سہارا بھی دیا اور امید بھی۔مجھے تمہاری نا پائیداری کا یقین ہے اور جانتی ہوں کہ وہ وقت کاتبِ تقدیر نے لکھا ہوا ہے جب تم مجھ سے دامن چھڑا لو گی کیونکہ ہرذی روح کو آخرموت کا ذائقہ چکھنا ہے۔میں تم سے بس یہ التجا کروں گی کہ میرے قلم کی صداقت کو زندہ رکھنا۔میرے وجود سےتخلیق ہوئے یہ لفظ ہمیشہ جگنو بن کرانسانیت کی راہ میں روشنی کرتے رہیں۔میرے اندر کے اجالوں کو میری نسلوں تک قائم رکھنا۔میری حیات کے آخری صحفے پر لفظ ” امید ” لکھنا تاکہ میری زندگی کی کتاب کو پڑھنے والا مایوسی کے اندھیروں سے گھبرائے نہیں۔
تمہاری راہوں کا ایک انجان مسافر

اے زندگی!!!ایک مکتوب زندگی کے نام

کیا جیت ضروری ہے ؟

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے