#کالم

کیا جیت ضروری ہے ؟

Untitled 5

جاویدایازخان

اتوار کو روزنامہ جنگ ملتان کی شہ سرخی پڑھ کر حیرت ہوئی جو امریکی صدر کے ایک بیان پر مشتمل تھی "ہم صرف جیتنا چاہتے ہیں ٹرمپ "ان کی خواہش بجا ہے کیونکہ ہر ایک میدان میں اتر کر جیتنا چاہتا ہے کوئی ہارنا نہیں چاہتا لیکن سوال یہ ہےکہ وہ کیسی جیت چاہتے ہیں ؟ کیا وہ ایران اور خطے کی بربادی کو اپنی جیت کا اعلان تصور کریں گے ؟ بےتحاشا بارود اور میزائیلوں کی لگاتار بارش اور ناکا بندیوں کے باوجود اور ایران کے انفراسٹرکچر کی تباہی کے بعد بھی وہ ایسا کیا چاہتے ہیں جو ان کی جیت کا اعلان بن سکے ؟ پوری دنیا اب ایسا کیا کرے کہ وہ جیت اور فتح سے ہمکنار ہو سکیں ؟ گذشتہ عرصے سے جاری جنگ میں ان کے مطابق امریکہ اپنی پوری طاقت سے ایران کی قیادت کے ساتھ ساتھ ان کا سب کچھ تباہ کرنے کے دعوےکر چکا ہےمگر شاید پھر بھی فتح کا تاج سر پر نہیں سجا سکا۔میں کوئی دفاعی تجزیہ کار تو نہیں لیکن اتنا ضرور جانتا ہوں کہ صدر ٹرمپ دنیا کی سب سے بڑی عالمی طاقت کے سربراہ ہیں۔طاقتور اور مضبوط ہونے کے ناتے وہ یہ جنگ صرف اسی صورت میں جیت سکتے ہیں کہ وہ اپنی بڑائی کو ثابت کریں اور انسانیت کی بقا اور دنیا کے امن کے لیے رضاکارانہ طور جنگ بند ی کردیں اور علاقے کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیں ان کا یہ احسان پوری دنیا ناصرف ہمیشہ یاد رکھے گی بلکہ اس طرح وہ امن کا تاج بھی اپنے سر پر سجا لیں گے۔تاریخ میں انہیں ہمیشہ ایک ایسا فاتح سمجھا جاءے گا جس نے طاقت ور ہوتے ہوئے بھی انسانیت کو تباہی سے بچا یا۔یاد رہے کہ امن کی جیت دنیا کی سب سے بڑی فتح ہوتی ہے جو طاقت سے نہیں احساس اور سوچ سے جنم لیتی ہے۔وہ دنیا بھر کے لوگوں کو امن وسلامتی کی خوشخبری دیکر ان کے دل جیت سکتے ہیں کیونکہ ہتھیاروں کی جنگ میں کبھی کسی کی جیت یا ہار نہیں ہوتی ایسی جنگ کا نتیجہ تباہی وبربادی کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔ مجھے اپنی جوانی کا ایک واقعہ یاد آگیا ہے ایک مرتبہ فٹ بال ٹورنامنٹ کے فائنل میچ میں ہمارا مخالف ٹیم سے دو دن تک میچ جاری رہا۔مخالف ٹیم بہت مضبوط اور جاندار تھی اور ہم بھی جیت کا عزم لیکر میدان میں اترئے تھے۔ہمارےکوچ اور استاد خالد خان چانڈیہ مرحوم ہمارا حوصلہ بڑھا رہے تھے۔دو دن کے ایک طویل کھیل کے بعد میچ برابر رہا اور ہم افسردہ ہو کر گراونڈ سے باہر آئے تو خالد خان نے ہمیں سب کو گلے لگا کر شاباش اورمبارک باد دی۔میں نے کہا خان صاحب ہم جیت نہیں سکے تو مبارکباد کیسی ؟ تو وہ مسکرائے اور کہنے لگے بعض اوقات ہم نہ جیت کر بھی جیت جاتے ہیں۔اپنے سے مضبوط اور طاقتور ٹیم سے جیتنا ہی فتح نہیں ہوتا اسے جیتنے نہ دینا بھی جیت ہوتی ہے۔ہار وہ ہوتی ہے جب آپ ہار مان لیں اور ہماری ٹیم نے ہار نہ مان کر یہ میچ جیت لیا ہے۔لوگوں اور تماشائیوں کا ہجوم اپنی تمام تر ہمدردیاں تمہاری ٹیم کے ساتھ رکھتا ہے کیونکہ تم نے ایک بڑی اور مضبوط ٹیم کو ناک کے چنے چبواے اور جیتنے نہیں دیا۔یہ ٹھیک ہے کہ تم گول نہ کرسکے لیکن تم نے دوسری ٹیم کو گول کرنے بھی تو نہیں دیا۔بعض اوقات کسی کو نہ جیتنے دینا بھی جیت ہوتی ہے۔مضبوط اور طاقتور کا نہ جیتنا بھی اس کی شکست ہوتی ہے۔بسا اوقات ہارجیت اور جیت ہار ہوتی ہے جو نظر تو نہیں آتی مگر محسوس کی جاتی ہے۔ایران کی صورتحال آج ہماری ٹیم جیسی ہے جو اپنے سے کئی گنا بڑی طاقت سے ناصرف نبردآزما ہے اور اسے جیتنے بھی نہیں دے رہا اور یہی اس کی جیت ہے۔ دنیا کی نظر ہمیشہ نتیجے پر جاتی ہے۔ جنگ ،کھیل سیاست جو شخص مقابلہ جیت لے، الیکشن میں کامیاب ہو جائے، دولت سمیٹ لے یا اقتدار حاصل کر لے، اسے فاتح قرار دے دیا جاتا ہے۔ مگر وقت کا فیصلہ اکثر اس فیصلے سے مختلف ہوتا ہے۔ تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ ہر جیت، فتح نہیں ہوتی اور ہر ہار، شکست نہیں ہوتی۔ بعض لوگ میدان تو جیت لیتے ہیں مگر اپنا ضمیر ہار جاتے ہیں۔ وہ دولت پا لیتے ہیں مگر عزت کھو دیتے ہیں، اقتدار حاصل کر لیتے ہیں مگر اعتماد گنوا بیٹھتے ہیں۔ ایسی جیت وقتی شور تو پیدا کرتی ہے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ اپنی چمک کھو دیتی ہے۔ تاریخ ایسی فتوحات کو نہیں، بلکہ ایسے کرداروں کو یاد رکھتی ہے جو اصولوں پر قائم رہے۔ اس کے برعکس کچھ لوگ بظاہر شکست کھا جاتے ہیں، مگر ان کا کردار، صبر اور سچائی آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بن جاتے ہیں۔ ان کی ہار دراصل ایک ایسی فتح ہوتی ہے جو انسانوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ اس حقیقت کی سب سے روشن مثال واقعہ کربلا ہے۔ ظاہری نگاہ سے دیکھا جائے تو تعداد، طاقت اور وسائل ایک طرف تھے، لیکن تاریخ نے فتح کا تاج اس کے سر رکھا جس نے حق، انصاف اور اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں معلوم ہوتا ہے کہ فتح تلوار کی نہیں، کردار کی ہوتی ہے۔ روزمرہ زندگی میں بھی یہی اصول کارفرما ہے۔ ایک طالب علم نقل کرکے امتحان میں اول آ سکتا ہے، ایک تاجر دھوکے سے دولت کما سکتا ہے، ایک سیاست دان جھوٹے وعدوں سے اقتدار حاصل کر سکتا ہے، مگر کیا یہ حقیقی کامیابی ہے؟ اگر اس جیت کی قیمت دیانت، اعتماد اور عزت ہو تو یہ سودا خسارے کا ہے۔ اسی طرح ایک ایماندار شخص ملازمت کھو سکتا ہے، ایک سچا گواہ نقصان اٹھا سکتا ہے، ایک اصول پسند انسان وقتی طور پر تنہا رہ سکتا ہے، لیکن اس کی یہ ہار اس کے وقار کو کم نہیں کرتی بلکہ اسے مزید بلند کر دیتی ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ آپ جیتے یا ہارے؟ اصل سوال یہ ہے کہ آپ نے جیتا کیسے اور ہارے کیوں؟ اگر جیت انسان کو تکبر، ظلم اور بے اصولی کی طرف لے جائے تو وہ شکست ہے، اور اگر ہار انسان کو صبر، استقامت، حکمت اور عزت عطا کرے تو وہی حقیقی فتح ہے۔ زندگی کے ہر موڑ پر ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ منزل سے زیادہ راستے کی پاکیزگی اہم ہے۔ کیونکہ دنیا کے فیصلے وقتی ہوتے ہیں، مگر کردار کا فیصلہ وقت، تاریخ اور ضمیر ہمیشہ انصاف کے ساتھ کرتے ہیں۔ اسی لیے حقیقی فاتح وہ نہیں جو ہر قیمت پر جیت جائے، بلکہ وہ ہے جو ہر قیمت پر اپنے اصول، اپنی دیانت اور اپنی انسانیت کو بچا لے۔زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ فتح صرف منزل تک پہنچنے کا نام نہیں، بلکہ اس راستے کا بھی نام ہے جو انسان اختیار کرتا ہے۔ اگر منزل تک پہنچنے کے لیے انسان اپنے اخلاق، انصاف اور انسانیت کو قربان کر دے تو وہ چاہے دنیا کی نظر میں جیت جائے، حقیقت میں ہار چکا ہوتا ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ بعض اوقات شکست انسان کے کردار کو بلند کر دیتی ہے، جبکہ بعض فتوحات انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہیں۔ اصل فتح وہ ہے جس کے بعد سر بھی بلند رہے، ضمیر بھی مطمئن ہو اور کردار بھی بے داغ رہے۔بےشک امریکہ آج بھی لوگوں کے دلوں کو جیت سکتا ہے۔وہ طاقتور ہے اسے ہی جیتنا چاہیے مگر دنیا میں امن اور سلامتی کا داعی بن کر فاتح کہلانا یقینا” ایک اچھا راستہ ہو گا۔

کیا جیت ضروری ہے ؟

04/08/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے