#کالم

امیرالعظیم: پیکرِ صبر و رضا

ammer azeem

ڈاکٹر طارق سلیم، امیر جماعت اسلامی پنجاب

اللہ تعالیٰ بعض بندوں کو ایسی استقامت، صبر، رضا اور اخلاص عطا کرتا ہے کہ ان کی پوری زندگی دوسروں کے لیے ایک روشن مثال بن جاتی ہے۔ وہ صرف اپنے الفاظ سے نہیں بلکہ اپنے کردار سے دین کی دعوت دیتے ہیں، اور ان کی خاموشی بھی ایک مو¿ثر پیغام بن جاتی ہے۔ امیرالعظیم بھی ایسی ہی نابغہ روزگار شخصیات میں سے تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی اللہ کی رضا، دینِ اسلام کی سربلندی اور جماعتِ اسلامی کی خدمت کے لیے وقف کیے رکھی۔ ان کی حیاتِ مبارکہ صبر، شکر، قناعت، استقامت اور وفاداری کا ایسا حسین مرقع ہے جس سے ہر کارکن اور ہر داعیِ دین رہنمائی حاصل کر سکتا ہے۔امیرالعظیم کی زندگی کا سب سے نمایاں وصف یہ تھا کہ انہوں نے ہر آزمائش کا خندہ پیشانی سے مقابلہ کیا۔ حالات خواہ کتنے ہی دشوار کیوں نہ ہوئے، انہوں نے کبھی زبان پر شکوہ نہ آنے دیا۔ زندگی میں بے شمار مشکلات، مالی تنگیاں، تحریکی مصروفیات، قید و بند کی صعوبتیں اور جسمانی عوارض آئے، مگر ان کے چہرے پر ہمیشہ اطمینان اور دل میں اللہ پر کامل بھروسا دکھائی دیتا تھا۔ ان کا یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزماتا ضرور ہے، مگر انہیں تنہا نہیں چھوڑتا۔ان کی پوری زندگی شکر گزاری کی عملی تفسیر تھی۔ وہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے تھے۔ خوشی ہو یا غم، آسانی ہو یا سختی، صحت ہو یا بیماری، ان کی زبان پر ہمیشہ اللہ کی حمد اور دل میں اس کی رضا شامل رہتی۔ انہوں نے کبھی اپنے حالات کو دوسروں کے سامنے رونا نہیں بنایا بلکہ ہر کیفیت کو اللہ کی مشیت سمجھ کر قبول کیا۔ یہی رضا بالقضا ایک سچے مومن کی پہچان ہے اور یہی صفت امیرالعظیم کی شخصیت کا بنیادی حوالہ تھی۔تحریکی زندگی میں کارکنوں کے لیے ان کی شفقت اور محبت بھی مثالی تھی۔ وہ اپنے ساتھیوں کی غلطیوں کو معاف کرتے، ان کی کوتاہیوں پر پردہ ڈالتے اور اگر کبھی کسی کارکن پر کوئی مشکل آتی تو اس کی ذمہ داری اپنے سر لے لیتے۔ انہوں نے زندگی بھر دوسروں کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھا لیکن کبھی اس احسان کا ذکر نہ کیا۔ وہ خدمت کو نمود و نمائش کا ذریعہ نہیں بلکہ اللہ کی رضا کا وسیلہ سمجھتے تھے۔امیرالعظیم نے گھریلو ذمہ داریوں اور جماعتی فرائض کے درمیان ہمیشہ بہترین توازن قائم رکھا۔ ایک طرف وہ اہلِ خانہ کے لیے محبت کرنے والے، شفیق اور ذمہ دار فرد تھے، تو دوسری طرف جماعتِ اسلامی کی ذمہ داریوں کو بھی پوری دیانت اور لگن سے نبھاتے رہے۔ ان کی زندگی اس حقیقت کا ثبوت تھی کہ اگر نیت خالص ہو اور وقت کی صحیح منصوبہ بندی کی جائے تو انسان خاندان اور تحریک دونوں کے حقوق ادا کر سکتا ہے۔ان کی شخصیت میں عاجزی اور انکساری نمایاں تھی۔ بڑے سے بڑا منصب بھی انہیں متکبر نہ بنا سکا۔ وہ کارکنوں کے درمیان ایک رفیق کی طرح بیٹھتے، ان کی بات سنتے، حوصلہ افزائی کرتے اور ہر ایک کو عزت دیتے۔ ان کے نزدیک اصل عظمت منصب میں نہیں بلکہ خدمت میں تھی۔ یہی وجہ ہے کہ کارکن ان سے محبت بھی کرتے تھے اور ان کا بے حد احترام بھی۔ان کی زندگی سنتِ رسول اکرم کی عملی تصویر تھی۔ انہوں نے حضور اکرم کے اسوہ حسنہ کو اپنے کردار کا محور بنایا۔ صبر، حلم، عفو، درگزر، نرم خوئی، وعدے کی پابندی، دیانت، اخلاص اور خدمتِ خلق ان کی زندگی کے مستقل اوصاف تھے۔ اسی طرح وہ سید ابوالاعلیٰ مودودی کی فکر اور تعلیمات سے گہرا تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے مولانا مودودی کے اس پیغام کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنایا کہ ایک داعی کا اصل سرمایہ اس کا کردار، اس کی استقامت اور اس کا اخلاص ہوتا ہے۔ اسی لیے وہ زندگی بھر مقصد سے وابستہ رہے اور کبھی حالات کے سامنے ہمت نہ ہاری۔جب بیماری نے انہیں اپنی گرفت میں لیا تو بھی ان کے حوصلے میں کوئی کمی نہ آئی۔ جسم کمزور ہوتا گیا، مگر ارادہ مضبوط رہا۔ وہ بیماری کو بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش سمجھتے اور صبر کے ساتھ برداشت کرتے رہے۔ ان کے لبوں پر شکایت نہیں بلکہ دعا ہوتی تھی، اور ان کے چہرے پر مایوسی نہیں بلکہ امید کی روشنی دکھائی دیتی تھی۔ انہوں نے بیماری کو اپنی دعوتی اور تحریکی سرگرمیوں میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔اپنی زندگی کے آخری ایام میں بھی جماعتِ اسلامی کے معاملات، کارکنوں کی تربیت اور دعوتی کام ان کی ترجیحات میں شامل رہے۔ وہ جہاں تک ممکن ہوتا، رہنمائی کرتے، مشورے دیتے اور جماعتی امور میں دلچسپی لیتے رہے۔ گویا ان کی سانسوں کی آخری ڈور بھی دین کی خدمت سے بندھی ہوئی تھی۔ یہ مسلسل وابستگی ان کے اخلاص اور وفاداری کی روشن دلیل ہے۔امیرالعظیم کی پوری زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ عظمت شہرت، دولت یا اقتدار میں نہیں بلکہ صبر، استقامت، اخلاص اور اللہ کی رضا پر راضی رہنے میں ہے۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ ایک سچا کارکن ہر حال میں اپنے رب پر بھروسا رکھتا ہے، اپنی ذمہ داری پوری کرتا ہے، لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے اور اپنے مقصد سے کبھی دستبردار نہیں ہوتا۔ ان کی حیات آئندہ نسلوں کے لیے ایک ایسا روشن مینار ہے جو ہمیشہ حق کے مسافروں کو راستہ دکھاتا رہے گا۔آج اگرچہ امیرالعظیم ہمارے درمیان موجود نہیں، مگر ان کا کردار، ان کی مسکراہٹ، ان کی استقامت، ان کی دعوتی لگن اور ان کی خدمات ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ وہ اپنے پیچھے ایک ایسی تابندہ روایت چھوڑ گئے ہیں جو کارکنانِ جماعت، اہلِ علم اور دین کے ہر خادم کے لیے مشعلِ راہ ہے۔اللہ تعالیٰ امیرالعظیم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی تمام لغزشوں سے درگزر فرمائے، ان کی بے لوث دینی، دعوتی اور تحریکی خدمات کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، اسے جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے، ان کے درجات کو بلند سے بلند تر فرمائے، انہیں انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کی رفاقت نصیب فرمائے، ان کے اہلِ خانہ، رفقائے کار اور تمام وابستگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے، اور ہمیں بھی ان کے اخلاص، صبر، استقامت اور وفاداری کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے