#کالم

ذہن کی معیشت: کیوں کم سوچنا اکثر بہتر سوچنا ہوتا ہے

ubiad ur rehman

محمد عبید الرحمان

ہر دماغ ایک ایسے گھرانے کی مانند ہے جو محدود بجٹ پر چلتا ہے۔ سوال یہ کبھی نہیں تھا کہ وہ کفایت شعاری کرے گا یا نہیں؛ اصل سوال ہمیشہ یہ تھا کہ وہ کس چیز پر کٹوتی کرے گا۔نفسیات کے طلبہ ایک ایسا تجربہ دن میں کئی بار خود پر انجام دیتے ہیں، مگر اکثر انہیں اس کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ کوئی شخص آپ کے سامنے صرف ایک جملے میں کسی کا تعارف کراتا ہے،مثلاً ایک لائبریرین، ایک فٹبال کوچ، یا ایک بینک منیجر—اور آپ کے شعوری فیصلہ کرنے سے پہلے ہی ذہن میں ایک تصویر بن چکی ہوتی ہے: لائبریرین کے لیے عینک، کوچ کے لیے سیٹی، منیجر کے لیے ٹائی۔آپ نے دنیا کے تمام لائبریرینوں کے بارے میں نہیں سوچا۔ آپ نے یہ نہیں پرکھا کہ شاید وہ ساٹھ سالہ خاتون ہو، یا کوئی ایسا شخص جو شوقیہ باکسنگ کرتا ہو اور ساتھ ہی لائبریری میں مخطوطات کی درجہ بندی کرتا ہو، یا ایسا لائبریرین جس نے زندگی میں کبھی عینک نہ پہنی ہو۔ آپ نے صرف اس زمرے کی سب سے قریب اور قابلِ استعمال تصویر ذہن سے نکالی اور آگے بڑھ گئے۔ یہ سستی نہیں، بلکہ انسانی ذہن کی ساخت ہے۔ادراکی سائنس (Cognitive Science) میں اس اصول کو ادراکی کفایت شعاری (Cognitive Economy) کہا جاتا ہے۔ ماہرِ نفسیات ایلینور روش (Eleanor Rosch) نے اشیائ اور تصورات کی درجہ بندی (Categorisation) پر اپنی تحقیق میں اس نظریے کو باقاعدہ شکل دی، جسے بعد میں نفسیات اور معنیات (Semantics) کی کئی دہائیوں کی تحقیق نے مزید مضبوط کیا۔ اس نظریے کے مطابق ذہن کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ وہ کم سے کم ذہنی محنت کے ساتھ زیادہ سے زیادہ قابلِ استعمال معلومات حاصل کرے۔دماغ کے پاس نہ لامحدود توجہ ہے، نہ لامحدود یادداشت، اور نہ ہی ہر معاملے پر غیر محدود غور و فکر کا وقت۔ بس چھوٹنے سے پہلے یا کسی شکاری کے حملے سے پہلے فیصلہ کرنا ہی پڑتا ہے۔ اس لیے دماغ وہی کرتا ہے جو محدود وسائل رکھنے والا ہر ادارہ کرتا ہے: معلومات کو زیادہ سے زیادہ عمومی شکل میں محفوظ کرتا ہے، ہر چیز کی مکمل فہرست بنانے کے بجائے نمونہ (Prototype) تیار کرتا ہے، اور سب سے زیادہ درست جواب کے بجائے وہ جواب اختیار کرتا ہے جو سب سے کم ذہنی لاگت پر دستیاب ہو۔“درجہ بندی کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ کم سے کم ذہنی کوشش سے زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کی جائیں۔”۔۔۔ ایلینور روش۔۔۔۔مجموعی طور پر یہ انسانی ذہن کے ڈیزائن کا ایک حیرت انگیز شاہکار ہے۔ اگر ہر بار آگ دیکھ کر انسان کو ازسرِ نو یہ ثابت کرنا پڑتا کہ آگ خطرناک ہے، تو وہ شاید جوانی تک زندہ ہی نہ پہنچتا۔ اگر ہر نیا لفظ سیکھنے والا طالب علم ہر لفظ کو بالکل نئی اور غیر متعلق چیز سمجھ کر اس کی الگ تحقیق کرتا، بجائے اس کے کہ اسے پہلے سے موجود معنوی نظام میں جگہ دیتا، تو وہ نہ ایک جملہ مکمل پڑھ سکتا اور نہ ہی کوئی ڈگری حاصل کر سکتا۔1950 کی دہائی میں ہربرٹ سائمن (Herbert Simon) نے محدود عقلیت (Bounded Rationality) کا نظریہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ انسان غیر عقلی نہیں بلکہ کفایت شعار ہے۔ ہم ہمیشہ بہترین ممکنہ فیصلہ نہیں کرتے بلکہ ایسا فیصلہ کرتے ہیں جو کافی حد تک اچھا (Satisfactory) ہو۔ ہم تلاش جاری رکھتے ہیں یہاں تک کہ کوئی قابلِ قبول حل مل جائے، پھر مزید تلاش روک دیتے ہیں، کیونکہ اکثر مزید جستجو کی قیمت، اس سے حاصل ہونے والے معمولی فائدے سے زیادہ ہوتی ہے۔اسی معنی میں ادراکی کفایت شعاری انسانی سوچ کی خامی نہیں، بلکہ وہ بنیادی نظام ہے جو محدود انسانی دماغ کے اندر سوچنے کے عمل کو ممکن بناتا ہے۔لیکن ہر وہ معیشت جو شارٹ کٹس پر چلتی ہے، آخرکار ان قرضوں کو بھی جمع کرتی ہے جنہیں یہ شارٹ کٹس مو¿خر کرنے کے لیے بنائے گئے تھے۔ وہی ذہنی نظام جو آپ کو ایک سیکنڈ کے دسویں حصے میں کتے کو پہچاننے کی صلاحیت دیتا ہے، اسی رفتار سے ایک تعصب (Stereotype) بھی پیدا کر دیتا ہے، اور حیرت انگیز اعتماد کے ساتھ۔اموس ٹورسکی (Amos Tversky) اور ڈینیئل کاہنیمن (Daniel Kahneman) نے اپنی تحقیق میں Availability Heuristic کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ انسان کسی واقعے کے امکانات کا اندازہ اس کی اصل شرحِ وقوع سے نہیں لگاتا، بلکہ اس بات سے لگاتا ہے کہ اس کی مثالیں ذہن میں کتنی آسانی سے آ جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ ہوائی جہاز کے حادثات سے حد سے زیادہ خوف زدہ ہوتے ہیں، حالانکہ وہ نہایت کم ہوتے ہیں، جبکہ سیڑھیوں سے گرنے جیسے کہیں زیادہ عام خطرات کو معمولی سمجھتے ہیں، کیونکہ وہ غیر دلچسپ اور روزمرہ کا حصہ ہیں۔ادراکی کفایت شعاری صرف دنیا کو سادہ نہیں بناتی، بلکہ خاموشی سے اصل دنیا کی جگہ وہ دنیا رکھ دیتی ہے جسے یاد کرنا آسان ہو۔آج اس نظریے پر دوبارہ غور کرنا اس لیے ضروری ہے کہ جس دنیا کے لیے یہ ذہنی نظام وجود میں آیا تھا، وہ اب یکسر بدل چکی ہے۔ یہ شارٹ کٹس اس ماحول کے لیے ارتقا پذیر ہوئے تھے جہاں چند سو چہرے تھے، چند خطرات تھے، اور معلومات اتنی آہستہ آتی تھیں کہ ان کی تصدیق کی جا سکتی تھی۔آج ایک عام انسان ناشتے سے پہلے ہی اتنے دعوے، تصویریں اور آرائ دیکھ لیتا ہے جتنی شاید صنعتی انقلاب سے پہلے کا ایک دیہاتی پورے سال میں بھی نہ دیکھتا ہو۔مگر ہمارے ذہن کو اس اضافی معلومات کے مطابق کوئی بڑا بجٹ نہیں ملا۔ اسے صرف پہلے سے زیادہ کفایت شعاری کرنے پر مجبور کر دیا گیا ہے؛ نمونے (Prototypes) زیادہ تیزی سے بنانے پر، آسانی سے دستیاب معلومات پر زیادہ اعتماد کرنے پر، اور جلد از جلد کسی نتیجے پر پہنچ جانے پر، کیونکہ ہر نئے دعوے پر مکمل غور و فکر کرنا کسی بھی انسانی اعصابی نظام کی استطاعت سے باہر ہے۔اسی خاموش عمل کے نتیجے میں وہ رویے پیدا ہوتے ہیں جو باہر سے غیر عقلی نظر آتے ہیں۔ وہ قاری جو صرف سرخی پڑھ کر خبر کو سچ مان لیتا ہے، مگر مضمون نہیں کھولتا؛ وہ ووٹر جو کسی پالیسی کو اس کے دلکش نعرے سے جانچتا ہے، اس کی معاشی حقیقت سے نہیں؛ یا وہ پیشہ ور شخص جو سب سے زیادہ پراعتماد انداز میں بولنے والے ساتھی کی بات مان لیتا ہے، بجائے اس کے کہ اس شخص پر اعتماد کرے جس نے واقعی تحقیق کی ہو۔یہ سب روایتی معنوں میں حماقت نہیں۔ یہ ادراکی کفایت شعاری ہے، جو بالکل اسی طرح کام کر رہی ہے جیسے اسے بنایا گیا تھا، مگر اب ایک ایسی دنیا میں جہاں معلومات کی کمی نہیں بلکہ ان کی یلغار ہے۔ ایک ایسا ذہن جو قلتِ معلومات کے لیے بنا تھا، اب معلومات کی فراوانی میں ڈوب چکا ہے، مگر پرانی عادت کے مطابق اب بھی سب سے سستا اور آسان جواب تلاش کرتا ہے۔اس حقیقت کا دیانت دارانہ جواب یہ نہیں کہ ہر انسان ہر وقت ہر معاملے پر زیادہ سوچے، کیونکہ یہ نہ ممکن ہے اور نہ ہی قابلِ عمل۔ ایسا کرنا انسان کو فیصلہ کرنے کے بجائے ذہنی جمود کا شکار کر دے گا۔درست راستہ یہ ہے کہ ہم شعوری طور پر یہ طے کریں کہ کون سے فیصلے گہری، محنت طلب اور غیر شارٹ کٹ والی سوچ کے مستحق ہیں، اور ایسی عادات پیدا کریں جو ہمارے محدود ذہنی بجٹ کو وہاں خرچ کریں جہاں واقعی اس کی ضرورت ہو۔۔۔مثلاً:۔۔۔* کسی خبر کو آگے بھیجنے سے پہلے ایک لمحہ رک جانا۔* کسی دعوے پر یقین کرنے سے پہلے کم از کم ایک اور معتبر ذریعہ دیکھ لینا۔* اور ہر اس یقین پر دوبارہ غور کرنا جو غیر معمولی آسانی سے ذہن میں آ گیا ہو۔ادراکی کفایت شعاری کوئی ایسی چیز نہیں جسے ختم کیا جائے۔ یہ انسانی ذہن کا سب سے قدیم، بنیادی اور ناگزیر ادارہ ہے۔ اصل ذمہ داری یہ نہیں کہ شارٹ کٹس کو مٹا دیا جائے، بلکہ یہ پہچانا جائے کہ کون سے فیصلے اتنے اہم ہیں کہ ان میں شارٹ کٹس اختیار کرنا مناسب نہیں۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے