مقبوضہ کشمیرمیں یواین اوکی قرار دادوں کے مطابق جلد رائے شماری کرائی جائے
شاہد بخاری
5۔ اگست کو مودی نے کر لیا کشمیر پہ قبضہ پکا
اور یوم یکجہتی کشمیر مناتے ھی رہے ہم
27.اکتوبر کو یوم استحصال کشمیر، بھر پور جوش و جذبے سے مقبوضہ کشمیر میں منایا گیا۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کی اپیل پر وھاں یوم سیاہ پر ،مکمل ھڑتال کر کے،دنیا کو مقبوضہ کشمیریوں کا یہ واضح پیغام جلسوں جلوسوں میں یہ دیا گیا کہ وہ 5۔اگست 2019 ئ کے بھارتی غیر قانونی اقدامات کو تسلیم نھیں کرتے اور انھیں مسترد کرتے ھوئے انھیں واپس لینے ،سیاسی نظر بندوں کی رھائی اور مسئلہ کشمیر کو UNO کی قراردادوں کے مطابق حل کروانے کے خواہاں ھیں۔
یہ حسن اتفاق ہے کہ 14 اگست1931ءکو پہلی بار کشمیر ڈے منایا گیا عین 16 برس بعد 1947 میں اسی تاریخ کو پاکستان کا قیام بھی وجود میں آیا۔خدا کرے ہماری طرح جلد ہی کشمیری بھی یوم آزادی جلد منانا شروع کر دیں۔
84471مربع میل کا جنت نظیر،کشمیر،16 مارچ 1846ءمیں انگریزوں نے گلاب سنگھ ڈوگرہ کے ھاتھ 75 لاکھ نانک شاھی کے عیوض فروخت کر کے کشمیر یوں کو ڈوگروں کا غلام بنا دیا۔1925 میں مہا راجہ ھری سنگھ نے گدی نشین ھونے کے بعد ڈوگرہ ھندو ملازمین کو من مانی کاروائیاں کرنے کی کھلی چھٹی دے دی، جس سے مسلمانوں کا جینا دو بھر کر دیا گیا۔
3جون 47 19کو جب تقسیم ہند کا فارمولا منظور ہوا تو بر صغیر کی 562 ریاستوں کو یہ حق دیا گیا کہ وہ جغرافیائی اور معاشیاتی حقائق کے پیش نظر اپنی اپنی آبادی کے پیش نظر بھارت یا پاکستان سے الحاق کر لیں. ریاست جموں و کشمیر کی آبادی 80 فیصد مسلمانوں پر مشتمل تھی۔ اس کی سرحدوں کے 600 میل مغربی پاکستان کے ساتھ مشترک تھے۔ ریاست کی واحد ریلوے لائن سیال کوٹ سے گزرتی تھی۔ریاست کی دونوں پختہ سڑکیں راول پنڈی اور سیالکوٹ سے گزرتی تھیں۔کشمیر کی تمام درامدات اور برامدات کا راستہ بھی پاکستان ہی سے وابستہ تھا ان حقائق کے پیش نظر جموں و کشمیر کا الحاق پاکستان کے ساتھ قدرتی اور منطقی تھا۔
لیکن مہاراجہ ہری سنگھ اور کانگرسی لیڈروں کے عزائم اس کے برعکس تھے اپنے ان مذموم عزائم کو عملی جامہ پہنانے کے لیے انہوں نے وائس رائے ہند،لارڈ ماو¿نٹ بیٹن کے ساتھ مل کر ایسا جال بنا جس کے پھندے میں مقبوضہ ریاست بے بس اور مظلوم باشندے آج تک بری طرح گرفتار ہیں۔
ع۔۔۔گھٹ کے مر جائیں یہ مرضی میرےصیاد کی ھے
قیا م پاکستان کے3 دن بعد، 17 آگست 1947ءکو تقسیم ہند کے بارے میں جب ریڈ کلف ایوارڈ کا اعلان ہوا تو ضلع گرداسپور پور کی آبادی میں واضح مسلمان اکثریت کے باوجود بغیر کوئی وجہ بتلائے انتہائی شر انگیزی بدنیتی کے ساتھ گرداس پور بھارت کو دے دیا گیا تاکہ وہاں سے کشمیر میں بھارتی فوج داخل ہو سکے۔ :
غیر ممکن ہے کہ حالات کی گتھی سلجھے
اہل دانش نے بہت سوچ کے الجھائی ہے
پاکستان کو دھوکے میں رکھنے کے لیے مہاراجہ کشمیر نے اس کے ساتھ سٹینڈ سٹل ایگریمنٹ کر لیا لیکن دلی طور پر جموں کے صوبے میں پوری مسلمان آبادی کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا، اس مہم کی کمان ہری سنگھ نے اپنے ہاتھ میں لے کر ڈوگرا فوج، پولیس اور آر۔ایس۔ ایس کے دستوں کو ہر جگہ مسلما نوں کو قتل و برباد کرنے کے لیے چھوڑ دیا۔جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے جنرل سیکرٹری غلام عباس کی بیٹی تک کو بھی اغوا کر لیا گیا۔ بے شمار مسلما نوں کو پناہ کا جھانسہ دے کر بسوں اور ٹرکوں میں سوار کیا گیا کہ انہیں سیالکوٹ کی جانب سے پاکستان کی سرحد تک پہنچا دیا جائے گا لیکن راستے ہی میں ڈوگرا پولیس کی نگرانی میں آر۔ ایس۔ ایس کے غنڈوں نے انہیں تڑپا تڑپا کر شہید کر ڈالا۔تمام سامان اورعورتوں کی عزت لوٹ لی۔ جموں کے بیشتر علاقے میں مسلمان آبادی کا صفایا کرنے کے بعد اب مہاراجہ نے مسلمانان پونچھ کی طرف اپنا رخ پھیرا،اوران کو چاروں طرف سے گھیرا۔ پونچھ کی آبادی میں 95 فیصد مسلمان تھے جس کی آبادی کا اکثر حصہ ریٹائرڈ فوجیوں پر مشتمل تھا۔جموں کے مسلمانوں کے قتل عام پر ان کا خون کھول رہا تھا۔انہوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا عزم بالجزم کر لیا۔تمام پونچھ میں پاکستان زندہ باد کا نعرہ گونجنے لگا۔ ڈوگرا حکومت نے ہر جگہ فوج اور پولیس کی نفری بڑھا کر اس آواز کو تشدد سے دبانا چاہا۔ڈوگرا اور آر۔ ایس۔ ایس کے مظالم کی خبریں پھیلتے ہی پاکستان اور افغانستان کے قبائلی لشکر، مقبوضہ کشمیر میں پہنچنا شروع ہو گئے، جنہوں نے ڈوگرا فوج اور راسٹر یہ سیوم سیوک سنگھ کے دستوں کو شکست فاش دے کر کوہالہ،دومیل اور مظفر آباد کو ڈوگرا فوج کے ظالمانہ قبضے سے چھڑا کر، سری نگر کی طرف پیش قدمی شروع کر دی،جہاں ڈوگروں اور آر۔ ایس۔ ایس نے ظلم و ستم کا بازار گرم کر رکھا تھا۔
ہری سنگھ کی طرف سے بھارتی فوج کی مدد حاصل کرنے کے لیے بھارت سے الحاق کر نے کا اعلان 27.اکتوبر کوکروادیا گیا۔فورن بھارتی ہوائی جہازوں نے انڈین فوج کے دستے سری نگر کے ھوائی اڈے پر اتارنا شروع کر دیے،جس سے آزادیئ کشمیر کی جنگ کا پانسہ پلٹ گیا۔
بھارتی وزیراعظم پنڈت نہرو یو۔ این۔ او میں چلے گئے اور کہا کہ کشمیر کا الحاق ،بھارت کے ساتھ وقتی اور ہنگامی ہے۔ الحاق کا حتمی فیصلہ جموں و کشمیر کیے باشندوں کی آزادانہ،منصفا نہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے کروایا جائے گا،جو آج تک نہیں ہو سکی۔
پانچ اگست 2019 کو بھارتی وزیراعظم مودی نے اپنے آئین کے ارٹیکل 370 اور 35 اے ختم کر کے کشمیر کی حیثیت کو بدلنے کے غیر قانونی کام کیے ہیں تاکہ مسلمانوں کی واضح اکثریت کو اقلیت میں بدلا جا سکے۔ مقبوضہ کشمیر یوں کی طرف سے مزاحمت کو روکنے کے لیے ریاست میں کرفیو لگا دیا گیا۔ موبائل فون اور انٹرنیٹ پر بھی بند کر کے تمام دنیا سے مقبوضہ کشمیر کا رابطہ منقطع کر دیا۔عالمی ضمیر سو رہا ہے۔یو۔ این۔ او۔ کو چاہیے کہ اپنی نگرانی میں اپنی قراردادوں کے مطابق جلد غیر جانبدارانہ رائے شما
ری کروائے۔ بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیریوں کا ناطقہ بن کر رکھا ہے۔ہر طرح کا ظلم ان پر ھو رہا ہے۔ بھارتی پروپیگنڈا مشینری بہت فعال ہے، وہ کشمیریوں کی تحریک ازادی کودھشت گرد مشہور کر کے دنیا کو کشمیریوں کی مدد سے باز رکھنے میں فی الحال کامیاب ہے۔
ع۔ رائیگاں خون شہیداں نہیں دیکھا جاتا
ہمارے سابق وزیر اعظم نے یو۔ این۔ او۔میں تقریر کر کے اور دیگر فورمز پر بھارتی پروپیگنڈ ے کا مو ثرجواب دیا۔ روس جو ہمیشہ مسئلہ کشمیر پر بھارت کا ہم نوا رھا ہے، اب پاکستان کی حمایت میں چین کے ساتھ ہے۔ہماری وزارت خارجہ بھی بھارتی پروپیگنڈے کے جواب میں مصروف رھتی ھے۔
اکثر قارئین کے علم میں ھوگا کہ وکٹر شو فیلڈکی کتاب”Kashmir in the cease fire”, کے صفحہ 147سے ثابت ھو رھا ھے کہ جب 27 اکتوبر کی صبح نو بجے انڈین فوج طیاروں کے ذریعے سری نگر ایئرپورٹ پر اتر رہی تھی تب تک دستاویز الحاق پر دستخط نہیں ہوئے تھے اور بھارت نے ریاست جموں و کشمیر میں جارحیت کا ارتکاب کیا تھا”
تب سے ہر سال 27 اکتوبر کو سب کشمیری یوم سیاہ مناتے ہیں۔ 5
فروری کو منقسم کشمیر کے سب ہی حصوں میں بسنے والے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے طور پر پاکستان میں پہلی بار یوم کشمیر 1990ئ میں سرکاری سطح پر منایا گیا،جو ھر سال باقاعدگی سے منایا جارھاھے اور UNO سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ جلد اپنی قراردادوں پر عمل کرتے ہوئے کشمیر میں رائے شماری کروائے مگر۔۔ع۔۔۔
کون سنتا ھے فغان درویش؟
باوجود،مقبوضہ کشمیر یوں کے قتل عام و درد ناک مظالم اور سیاسی ھتھکنڈوں کے مسلم اکثریت کو اقلیت میں نھیں بدلا جا سکا۔اب سننے میں آرھاھے کہ بھارت،مقبوضہ کشمیر کا نام بدل رھا ھے ،تا کہ یہ مسلہ، دنیا کی نظروں سے اوجھل کردیا جائے۔دشمن سے کیا گلہ،عالم اسلام کی بے حسی پر افسوس ہے۔ یا الللہ! کشمیریوں پر جلد رحم فرما وہ کب تک یہ گاتے رھیں گے رہیں گے کہ:
میرے وطن تیری جنت میں ائیں گے اک دن
بہشت گوش تھے، نغمات آب شاروں کے
نظر نواز تھے نظارے مرغ زاروں کے
بھلاو¿ں کیسے مناظر تیری بہاروں کے
ستم شعاروں سے تجھ کو چھڑائیں گے اک دن
میرے وطن تیری جنت میں آ ئیں گے اک دن
شگفتگی گل و نسترن نہیں بھولی
حسین پھولوں کی وہ انجمن نہیں بھولی
وطن بخیر بہار وطن نہیں بھولی
اسی بہار میں پھر،مسکرا ئیں گے اک دن
میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے اک دن
کلی کلی تیرے گلشن کے مسکراتی تھی
نگاہ جلووں کے طوفاں میں ڈوب جاتی تھی
نسیم صبح صحن چمن میں بوئے یار لاتی تھی
ذرا ٹھہر،وہی محفل بسائیں گے اک دن
میرے وطن تیری جنت میں آ ئیں گے اک دن
ہجوم اہل محبت تھا خانقاہوں میں
وہ ذوق و شوق کے جلسے جمال گاہوں میں
سماں وہ پھرتا ہے اب تک میری نگاہوں میں
حریم قدس میں دیپک جلائیں گے اک دن
میرے وطن تیری جنت میں آ ئیں گے اک دن
وہ مہکتی مہکتی ہوائیں ھرے ھرے اشجار
وہ کالی کالی گھٹائیں وہ رقص، ابر بہار
وہ مست مست فضا ئیں،
وہ عالم سرشار
اسے نگاھوں کا مرکز بنائیں گے اک دن
میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے اک دن
جہاد حق کے لیے کر رھے ھیں تیاری
دکھائیں گے صف دشمن کو شان قہاری
ٹھیر سکیں گے ھمارے سامنے کہاں ناری؟
فضائے ھند میں پرچم اڑائیں گے اک دن
میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے اک دن






