#کالم

گڈ گورنس اور نئے صوبوں کی گونج

Untitled 5

جاویدایازخان

گذشتہ دنوں روزنامہ سرزمین لاہور کے چیف ایڈیٹر رانا صفدرعلی خان کا گڈ گورنس کے حوالے سے ایک بہترین کالم پڑھنے کا موقعہ ملا۔رانا صفدر علی خان ایک نہایت ہی محب وطن اور قوم کا درد رکھنے والے صحافی اور تحریر نگار ہیں اور ان کی یہ خوبی ہے کہ وہ ہمیشہ مثبت سوچ کے ساتھ قوم اور ملک کی بھلائی اور یکجہاتی کے لیے کوشش کرتے ہیں اور ایسے قومی موضوعات پر قلم اٹھاتے ہیں جو ایک عام آدمی کی ضرورت ہی نہیں بلکہ دلچسپی بھی ہوتے ہیں۔ان کے مطابق گڈ گورنس ہی اس ملک کی سب سے اہم اور بنیادی ضرورت ہے۔میں ان کی بات سے اتفاق کرتے ہوے انہیں کی بات کو مزید آگے بڑھاتا ہوں۔کیونکہ رانا صفدرعلی خان صاحب نے جس خواہش کا اظہار چند دن قبل کیا تھا آج ہمارے وزیر داخلہ صاحب بھی ایسی ہی خواہش کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔جن کے بیان کے بعد اب ہر سطح پر ایک نئی سوچ نے جنم لے رہی ہے۔اگر میں عام آدمی کے لیے اسے ایک امید کرن کہوں تو بہتر ہوگا۔ پاکستان میں جب بھی گڈ گورننس کی بات ہوتی ہے تو نئے صوبوں کی بازگشت بھی سنائی دینے لگتی ہے۔ یہ مطالبہ کبھی جنوبی پنجاب کے نام سے ابھرتا ہے، کبھی بہاولپور کی بحالی کی صورت میں، کبھی ہزارہ، تو کبھی دیگر علاقوں کی محرومیوں کی آواز بن جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا نئے صوبے واقعی بہتر حکمرانی کی ضمانت ہیں یا ہم ایک بنیادی مسئلے کا حل محض انتظامی تقسیم میں تلاش کر رہے ہیں؟ تاریخ بتاتی ہے کہ ریاستیں صرف اپنے جغرافیےسے نہیں بلکہ اپنے نظم و نسق سے مضبوط ہوتی ہیں۔دنیا کے کئی ممالک نے آبادی میں اضافے، انتظامی پیچیدگیوں اور علاقائی ضروریات کے پیشِ نظر نئی انتظامی اکائیاں قائم کیں۔ ان کا مقصد صرف نقشہ تبدیل کرنا نہیں تھا بلکہ حکومت کو عوام کے قریب لانا، فیصلوں کو تیز کرنا اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا تھا۔ پاکستان میں بھی آبادی کئی گنا بڑھ چکی ہے، مگر بعض صوبوں کا انتظامی ڈھانچہ تقریباً وہی ہے۔ دور افتادہ علاقوں کے عوام کو آج بھی ایک معمولی سرکاری کام کے لیے سینکڑوں کلومیٹر کا سفر کرنا پڑتا ہے۔ جب اختیارات اور وسائل چند بڑے شہروں تک محدود ہو جائیں تو احساسِ محرومی جنم لیتا ہے، اور یہی احساس نئے صوبوں کے مطالبات کو تقویت دیتا ہے۔لیکن اس بحث کا دوسرا رخ بھی اتنا ہی اہم ہے۔ اگر بدعنوانی، اقربا پروری، سیاسی مداخلت، کمزور احتساب اور ناقص منصوبہ بندی برقرار رہے تو صرف نئے صوبے بنانے سے عوام کی قسمت نہیں بدلتی۔ نئی عمارتیں، نئے دفاتر اور نئے عہدے تو وجود میں آ سکتے ہیں، مگر اگر نظام کی روح تبدیل نہ ہو تو مسائل بھی نئے ناموں کے ساتھ زندہ رہتے ہیں۔جس کے لیے ایک حقیقی گڈ گورنس کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔ حقیقی گڈ گورننس کا مطلب صرف اختیارات کی تقسیم نہیں بلکہ اختیارات کے ساتھ جواب دہی بھی ہے۔ ایک ایسا نظام جہاں قانون سب پر یکساں نافذ ہو، میرٹ کو ترجیح دی جائے، وسائل شفاف انداز میں تقسیم ہوں، اور مقامی حکومتیں بااختیار ہوں۔ درحقیقت مضبوط بلدیاتی نظام کے بغیر نئے صوبے بھی اپنے مقاصد مکمل طور پر حاصل نہیں کر سکتےیہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ نئے صوبوں کا معاملہ صرف انتظامی نہیں بلکہ آئینی اور سیاسی اتفاقِ رائے کا بھی تقاضا کرتا ہے۔ ایسے فیصلے جذبات یا انتخابی نعروں کے بجائے قومی مفاد، معاشی صلاحیت، انتظامی ضرورت اور عوامی مشاورت کی بنیاد پر ہونے چاہییں تاکہ یہ تقسیم نہیں بلکہ قومی وحدت اور متوازن ترقی کا ذریعہ بنیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان میں مزید صوبے ہونے چاہییں یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہر شہری کو اس کے دروازے پر انصاف، تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولتیں مل رہی ہیں؟ اگر اس سوال کا جواب نفی میں ہے تو پھر ہمیں صرف نقشہ نہیں، نظام بدلنے کی ضرورت ہے۔جس کے لیے تمام سیاسی پارٹیوں اور ہر مکتبہ فکر کے لوگوں کو مل بیٹھنا ہو گا اور قومی اتحاد و یکجہاتی کی فضا پیدا کرنی ہو گی۔سوال یہ ہے کہ کیا گڈ گورنس کا راستہ نئے صوبوں سے ہو کر گزرتا ہے ؟ گڈ گورننس کا آغاز صرف نئے صوبوں سے نہیں بلکہ ایک نئی سوچ سے ہوتا ہے۔جہاں دیانت دار قیادت، مضبوط ادارے، بااختیار مقامی حکومتیں، شفاف احتساب اور عوامی خدمت کا جذبہ وہ ستون ہیں جن پر ایک مضبوط ریاست کھڑی ہوتی ہے۔ نئے صوبے اس سفر کا ایک ذریعہ ہو سکتے ہیں، مگر منزل ہرگز نہیں۔بڑھتی ہوئی آبادی اس بات کی متقاضی ہے کہ صرف نئے صوبے ہی نہیں بلکہ نئے ڈویڑن ،نئے ضلع اور نئی تحصیلیں بھی بنانا ہو ں گی جو آہستہ آہستہ وارثتی سیاست کے خاتمے کا باعث بن کر ایک عام آدمی کو بھی ملکی ترقی میں کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کر سکتی ہے۔یہ تبدیلیاں انتظامی بنیادوں یا پھر جغرافیائی بنیادوں ہوں تو اس کے نتیجے میں گورنس بھی بہتر ہوگی اور ہمارا ملک بھی انشااللہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو جاے گا۔ آج پاکستان ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں فیصلے نعروں سے نہیں، تدبر سے کرنے ہوں گے۔ اگر نئے صوبے،ذویڑن ،ضلع اور تحصیلیں عوام کو ریاست کے قریب لاتے ہیں، وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بناتے ہیں اور محرومیوں کا ازالہ کرتے ہیں تو یقیناً ان پر سنجیدہ غور ہونا چاہیے۔ اور ہمیں اپنے سیاسی اور ذاتی مفادات کی بجائے قومی مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے یہ مشکل ترین فیصلہ کرنا چاہیے۔ریاست کی مضبوطی کا راز سرحدوں کی تعداد میں نہیں بلکہ اس اعتماد میں پوشیدہ ہے جو ہر شہری اپنے نظام پر کرتا ہے۔ جب عوام کو یقین ہو جائے کہ ان کی آواز سنی جاتی ہے، ان کے حقوق محفوظ ہیں اور حکومت ان کی دہلیز تک موجود ہے، تبھی گڈ گورننس حقیقت کا روپ دھارتی ہے، اور تب نئے صوبوں کی بازگشت محض ایک سیاسی مطالبہ نہیں بلکہ قومی ترقی کی ایک سنجیدہ بحث بن جاتی ہے۔

گڈ گورنس اور نئے صوبوں کی گونج

03/08/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے