بھائی ننھا
جاویدایازخان
دروازے پر دستک ہوئی تو ہم بچے دوڑ کر دروازہ کھولنے پہنچے تو سامنے ایک بہت ہی بوڑھی خاتون کھڑی تھی۔سفید بال اور بڑھاپے کی جھریوں سے بھرا چہرا پہلی مرتبہ دیکھ کر پوچھنا پڑا کہ اماں جی ! کس سے ملنا ہے تو وہ مسکرائی اور کہنے لگی بھائی ننھے سے ملنا ہے۔کیا ان کا گھر یہی ہے تو میری چھوٹی بہنوں نے کہہ دیا نہیں اماں جی ! یہ تو لفٹیننٹ محمد ایازخان کا گھر ہے۔اتنے میں اباجی بھی دروازے پر آگئے انہیں دیکھتے ہی وہ بوڑھی خاتون "بھائی ننھا "کہہ کر ان کے گلے لگ کر رونے لگی وہ بڑی مشکل برسوں بعد ٹنڈواللہ یار سے ملنے کے لیے اپنے ماموں "بھائی ننھے ” کے گھر پہنچی تھی مگر بچوں کو بھلا کیا پتہ کہ ان کے باپ کو بچپن سے محبت میں "بھائی ننھا "کہہ کر ہی پکارا جاتا ہے۔کئی دھائیوں کے بعد ملنے والی یہ خاتون اسی محبت بھرے نام سے پکار رہی تھی جو ہمارے اباجی کے والدین نے بچپن میں رکھا تھا۔ پھر مجھے یاد آیا کہ میرےدادا جان اور دادی جان یہاں تک کہ بڑے بھائی بھی اباجی کو ہمیشہ ننھا کہہ کر پکارتے تھے۔اباجی اپنے اس نام پر ہمیشہ فخر کرتے تھے اور بتاتے تھے میں آٹھ ماہ کا پیدا ہوا تھا اور بہت کمزور اور چھوٹا سا تھا تو ہماری ایک تائی "مصوما” نے ننھا کہہ کر پکارا تو پھر خاندان بھر میں پیار سے مجھے "ننھا ” ہی پکارا جاتا تھا۔دراصل وہ بزرگ "ننھا”کہہ کر بے ساختگی سے اپنی اپنائیت اور دیرینہ محبت کا اظہار کرتے تھے۔ میری ایک اور عزیزہ پوتے پوتیوں اور نواسوں والی ہو چکی ہے مگر میں اسے ہمیشہ "بے بی "کہہ کر بلاتا ہوں اور حقیقت یہ بھی ہے کہ مجھے آج بھی اس کا اصل نام یاد نہیں ہے البتہ اب وہ "بےبی ” کی بجاے "باجی بے بی ” کہلاتی ہیں۔میرے ایک پھوپھی زاد بھائی ڈکٹر منور بھی ماشااللہ ! بوڑھے ہو چکے ہیں مگر جب کبھی میں انہیں "منا ” کہہ کر پکارتاہوں تو میرے بچے ہنس کر حیرت سے مجھے دیکھتے ہیں۔اپنے بہنوئی سرفرازخان کو آج بھی "پپو بھائی کہہ کر پکارا جاتا ہے۔ہمارے اباجی کہا کرتے تھے کہ مجھے آج بھی اچھا لگتا ہے جب کوئی مجھے "ننھا "کہہ کر پکارتا ہے اور اگر کوئی اپنے بچپن کے ان محبت بھرے نام لینے پر برا منائےتو سمجھ لیں کہ تکبر کے جراثیم داخل ہو چکے ہیں۔البتہ وہ کہتے تھے کہ کسی کے اصل نام کو بگاڑکر لینا یا پکارنا ہرگز درست نہیں ہوتا۔ گذشتہ دنوں مجھے کوٹ ادو جانے کا اتفاق ہوا تو اپنے بچپن کے دوست اور مشہور لوک صوفی گلوکار پٹھانے خان مرحوم کے فرزند اقبال پٹھانے خان سے ملاقات ہوئی جب میں نے اسے” بالی "کہہ کر مخاطب کیا تو اس نے محبت سے گلے سے لگا لیا کہ یار ! اب مزا آیا ہے۔ بعض اواقات انسان کا اصل نام پیچھے رہ جاتا ہے اور ایسے نام اس کی شخصیت کا تعارف بن جاتے ہیں۔بہادرانہ طبعیت اور دلیر مزاجی کی باعث ہمارے ایک تایا جان "پودی "کے نام سے مشہور تھے۔ہم انہیں "تایا پودی "کہتے تھے مگر اصل نام خان محمد خان تھا اور یہ حقیقت بہت کم لوگ جانتے تھے۔قیام پاکستان کے دوران ان کی بہادرانہ خدمات ا?ج بھی ہماری تاریخ کا ایک سنہری باب ہیں۔ہمارے? تایا جی کو پڑھا لکھا ہونے کی وجہ سے "بابو جی ” کہا جاتا تھا۔ اب گھروں سے “ننھا”، “منی”، “بے بی” اور “پپو” جیسے نام واقعی کہیں گم سے ہوگئے ہیں۔ یہ صرف نام نہیں تھے، یہ گھریلو محبت، سادگی، اپنائیت اور بے تکلفی کے استعارے تھے۔ ان ناموں میں ماں کی لوری، دادی کی شفقت، محلے کی آوازیں اور صحن کی رونق شامل ہوتی تھی۔ اب بچوں کے نام رکھنے سے پہلے گوگل سرچ، منفرد اسپیلنگ، جدید تلفظ اور سوشل میڈیا کی “کلاس” دیکھی جاتی ہے۔ پہلے نام دل سے نکلتے تھے، اب اکثر “ٹرینڈ” سے نکلتے ہیں۔ کبھی اماں جی صحن سے آواز دیتی تھیں” اوئے پپو! ذرا دودھ لیتے آنا "اور پورا گھر اپنائیت سے بھر جاتا تھا۔ آج کے نام خوبصورت ضرور ہیں، مگر ان میں وہ مٹی کی خوشبو، وہ دیسی مٹھاس، وہ بے ساختگی کم کم محسوس ہوتی ہے۔ اب “شہزور”، “ایزل”، “ایان”، “ایزلین” عینی "نونی ” شانی ،تو ہیں، مگر “ننھا” جیسی شرارت اور “منی” جیسی معصومیت کہیں پیچھے رہ گئی ہے۔ اصل میں یہ صرف ناموں کی تبدیلی نہیں، معاشرتی مزاج کی تبدیلی ہے۔ مشترکہ خاندان بکھرے، صحن سمٹے، رشتوں میں رسمیت بڑھی، تو پیار کے وہ چھوٹے چھوٹے نام بھی آہستہ آہستہ گھروں سے رخصت ہوگئے۔ اور شاید اسی لیے آج بھی جب کسی بوڑھی ماں کی زبان سے اپنے ساٹھ سالہ بیٹے کے لیے “میرا پپو” نکلتا ہے تو انسان کو محسوس ہوتا ہے کہ محبت کبھی بوڑھی نہیں ہوتی۔کھیل کے میدان میں الگ ہی نام ہوا کرتے تھے جیسے "ٹائیگر "طوفان ” کھبا ‘ یا کھباڑی ” تیز گام ” جو ان کھلاڑیوں کی خصوصیات کے مدنظر رکھے اور لیے جاتے تھے۔ہمارے فٹبال کے دوستوں کو ان کی تیز شوٹ یا چھا کھلاڑی ہونے کی وجہ سے "گنر ” اور گولی "یا بجلی کہا جاتا تھا۔اسی طرح ہر فیلڈ اور شعبے میں اس فیلڈ اور شعبہ کی نسبت سے نام رکھے اور پکارےجاتے تھے مگر انداز اور وجہ محبت کا اظہار ہی ہوا کرتا تھا۔کمال یہ تھا کہ یہ نام عمر کے ساتھ نہیں بدلتے تھے، ان کے ساتھ محبت جڑی ہوتی تھی۔ کوئی “منا” بچپن میں منا ہوتا تھا تو جوانی میں بھی منا رہتا تھا اور بڑھاپے میں بھی پورا محلہ ا±سے “منا چاچا” یا “منا صاحب” کہہ کر پکارتا تھا۔ منی”، “کاکا”، “کاکی”، “بندو”، “کلو”، “ببلو”، “گڈو” پپی "گڈی "چنو "جانی "جانو "بگو "چاند ،بابو ،وغیرہ — یہ صرف پکارنے کے نام نہیں تھے، یہ پیار بھرے رشتوں کی خاص مٹھاس ہوا کرتی تھی۔ کبھی ماں باپ کی زبان سے ان ناموں سے پکارنے کی لذت کو محسوس کریں تو بڑا اچھا لگے گا۔ ان ناموں میں نہ تکلف تھا، نہ بناوٹ، نہ اسٹیٹس کا غرور تھا۔ یہ ا±س دور کی نشانی تھے جب انسان اپنی اصل سے جڑا ہوا تھا اور محبت اظہار کی محتاج نہیں ہوتی تھی۔ بوڑھی مائیں جب سفید بالوں والے بیٹوں کو “میرا کاکا” یا ننھا "اور پپو ” کہہ کر بلاتی تھیں تو اس ایک چھوٹے سے لفظ میں دعائیں، ممتا، بچپن کی یادیں اور عمر بھر کی شفقت سمٹ آتی تھی۔ اور دلچسپ بات یہ تھی کہ ایسے ناموں پر لوگ کبھی شرمندہ نہیں ہوتے تھے بلکہ فخر محسوس کرتے تھے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ نام کسی ڈگری یا عہدے نے نہیں بلکہ محبت نے دیے ہیں۔ آج کے دور میں انسان کے نام تو بڑے جدید ہوگئے ہیں مگر رشتوں کی آوازیں چھوٹی پڑ گئی ہیں۔ پہلے گھروں میں “پپو یا بےبی !” کی آواز آتی تھی تو پورا گھر زندہ محسوس ہوتا تھا، آج اکثر گھروں میں خاموشی، موبائل کی رنگ ٹونز اور رسمی سی گفتگو رہ گئی ہے۔ اصل میں یہ نام سادگی، خلوص اور اپنائیت کی وہ خوشبو تھے جو اب آہستہ آہستہ یادوں کے صندوق میں بند ہوتی جا رہی ہے۔ہمارے نام تو بڑے بڑے ہو چکے ہیں مگر ان ناموں میں سے بچپن کی مٹھا س اور خوشبو نظر نہیں آتی۔یعنی نک نیم صرف ایک نام نہیں رشتےکی نوعیت ،قربت کی شدت اور یادوں کی خوشبو ہوتا ہے۔






