ڈاکٹر نگہت خورشید: سفر، مشاہدہ اور روحانی تجربات کی مسافر
سید محمد اصغر کاظمی
سفر انسان کی شخصیت کو وسعت عطا کرتا ہے۔ یہ صرف ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کا نام نہیں بلکہ نئے تجربات، نئے مشاہدات اور نئی حقیقتوں سے آشنائی کا ذریعہ بھی ہے۔ کچھ لوگ سفر کو محض تفریح تک محدود رکھتے ہیں، لیکن کچھ صاحبِ نظر انسان ایسے بھی ہوتے ہیں جو سفر کے ذریعے دنیا کو سمجھتے، تہذیبوں کو قریب سے دیکھتے اور اپنے فکری افق کو وسیع کرتے ہیں۔ ڈاکٹر نگہت خورشید کی شخصیت بھی اسی حوالے سے ایک منفرد مقام رکھتی ہے، جنہوں نے سفر کو علم، مشاہدے اور روحانی تجربات کا وسیلہ بنایا۔ڈاکٹر نگہت خورشید نے پاکستان کے تقریباً تمام علاقوں کا سفر کیا۔انہوں نے بطور ادیب اسلام اباد کراچی کوئٹہ لاہور پشاور فیصل اباد کا سفر مختلف علمی ادبی کانفرنسز میں مقالہ جات پیش کرنے کے لیے کیا ڈاکٹر نگت خورشید ایک زندہ دل شخصیت ہیں بچپن سے ہی ان کے ہاتھ میں کیمرہ رہا اور اس زمانے سے لے کر اج تک انہوں نے اپنے ذہن کے کیمرے پر بھی تمام تصاویر اور ویڈیوز محفوظ کر رکھی ہیں جو اج ہی انہیں یاد ہیں جدید دور میں موبائل کیمرہ کے ساتھ وہ اپنے ارد گرد کے ماحول اور حرکات و سکنات اور علاقوں کی تہذیب و ثقافت کو اپنے ذہن کے کینوس پر بھی منتقل کرتی ہیں اور اپنے کیمرے میں بھی محفوظ کر لیتی ہیں وطن کے مختلف شہروں، تاریخی مقامات پہاڑی علاقوں اور ثقافتی مراکز کو انہوں نے ہمیشہ شوق اور دلچسپی سے دیکھا۔ پاکستان کے مختلف خطوں کی تہذیب، زبانوں، روایات اور عوامی زندگی کا مشاہدہ ان کے تجربات کا حصہ بنا۔پشاور کا قصہ خوانی بازار ہو یا کالام سوات کے خوبصورت جھرنے باغ کشمیر کی پہاڑی وادیاں مظفراباد دریائے نیلم جھیل سیف الملوک ہو یا کوئٹہ اور ھنا جھیل اور ان وادیوں میں سیب کے خوبصورت درخت انہوں نے اپنے وطن کو صرف نقشے پر نہیں دیکھا بلکہ اس کے مختلف رنگوں، ثقافتی تنوع اور انسانی زندگی کے مختلف پہلوو¿ں کو قریب سے محسوس کیا۔ شمالی علاقہ جات کی خوبصورتی بھی ان کے سفر کا حصہ رہی، اگرچہ اسکردو کا سفر ابھی ان کے اس وسیع سفری سلسلے میں شامل ہونا باقی ہے۔ایک ادیب کے لیے سفر ایک خاموش استاد کی حیثیت رکھتا ہے۔ راستے، لوگ، مقامات اور تہذیبیں اس کے مشاہدے کو گہرا کرتی ہیں۔ ڈاکٹر نگہت خورشید چونکہ خود ایک ادیبہ، محققہ اور استاد ہیں، اس لیے ان کے سفر محض نظاروں تک محدود نہیں رہے بلکہ انہوں نے ہر مقام کو ایک فکری تجربے کے طور پر دیکھا۔اللہ کا ان پر خاص کرم ہے کہ جب بھی ان کے ارد گرد بسنے والے لوگ ان کے کام اور ان کی شخصیت کو سمجھنے میں بخل سے کام لیتے ہیں اور ان کے لیے تنگی کا سامان پیدا کرتے ہیں تو رب تعالی خود انہیں کسی نہ کسی روحانی سفر کے ذریعے سکون اور روحانی بالیدگی عطا کرتا ہے خواہ وہ اندرون ملک بزرگان دین کی درگاہوں کا سفر ہو یا بیرون ملک عمرہ وزیارات کا سفر ہو ان کے یہ سفر بزرگان دین اہل بیت نبی پاک اور اللہ تعالی سے ان کے قلبی اور روحانی رابطے کو ظاہر کرتے ہیں ایسے ہی ایک روحانی سفر کے لیے رب نے انہیں 2018 میں چن لیا اس سفر میں انہوں نے پاکستان کے مقامات مقدسہ اور بزرگان دین کے مزارات پر حاضری دی اور انکی روحانی تجلیات اور فیض سے مستفید ہوئیں کرماں والی سرکار سے لے کے پاک پتن بابا فرید مخدوم جہانیاں اچ شریف خواجہ غلام فرید کوٹ مٹھن سخی سرور ڈی جی خان بابا صدر الدین مرشد لال شہباز قلندر سکھر روڑی کے علاوہ لال شہباز قلندر سہون شریف عبداللہ شاہ غازی کراچی بابا جی اے شاہ نورانی بلوچستان سچل سرمست سندھ،سلطان باہو شورکوٹ،بری امام راولپنڈی داتا گنج بخش ہجویری سائیں میاں میر بی بی رقیہ پاک دامن لاہور اور ملتان کے بزرگان دین کے مزارات پر حاضری ڈاکٹر نگہت خورشید کے قلب و نظر کی پاکیزگی کی وجہ ہںے بابا گرو نانک اور رنجیت سنگھ کی سمادھیی مزار اقبال اور مزار قائد اعظم مغل ارٹ کے تاریخی ورثے لاہور شیخوپورہ سےلے کے تاج محل اگرہ تک کے قلعوں کا ان کے مذہبی تاریخی ثقافتی تناظر میں مشاہدہ کر چکی ہیں اسی لیے ان کی شخصیت میں وسعتِ نظر اور مختلف انسانوں تہذیبوں اور معاشروں کو سمجھنے کی صلاحیت نمایاں نظر آتی ہےان کے سفری تجربات کا ایک اہم پہلو دنیا کے مختلف ممالک کی سیاحت بھی ہے۔ انہوں نے مختلف ملکوں کا سفر کیا،کہیں نیشنل وانٹرنیشنل کانفرنسز کے حوالے سے کہیں اپنی کتابوں پر انعامات وصول کرنے کے حوالے سے اور کہیں تہذیب، رہن سہن اور معاشرتی اقدار کا مشاہدہ کرنے کے لیے ایک حساس ادیب کی حیثیت سے انہوں نے ان تجربات کو صرف یادوں کے طور پر محفوظ نہیں کیا بلکہ ان سے اپنی سوچ اور تخلیقی شعور کو بھی تقویت دی۔ مختلف معاشروں کو دیکھنے سے انسان میں برداشت، وسعتِ فکر اور انسانی رشتوں کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے، اور یہی کیفیت ڈاکٹر نگہت خورشید کی شخصیت میں بھی دکھائی دیتی ہے۔ان کے سفر کا سب سے خوبصورت اور روحانی پہلو مقدس مقامات کی زیارت ہے۔ انہیں حج و عمرہ کی سعادت حاصل ہوئی، جو ان کی زندگی کے نہایت اہم اور بابرکت لمحات میں شمار ہوتی ہے۔ مقدس سرزمینوں کی حاضری نے ان کے دل میں عقیدت، محبت اور روحانی کیفیت کو مزید گہرا کیا۔اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام سے محبت و عقیدت ان کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو ہے۔ انہیں مقدس مقامات کی زیارت کا شرف حاصل ہوا، جن میں حضرت بی بی فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا، امام علی مقام علیہ السلام، حضرت زینب سلام اللہ علیہا، بی بی سکینہ سلام اللہ حضرت عباس علمدار علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کے روضہ ہائے اقدس کی حاضری شامل ہے جس کے لیے انہوں نے حجاز مقدس شام اور عراق کے مختلف شہروں کے سفر کیے۔ اسی طرح ایران تہران۔مشہد مقدس۔قم اور دیگر شہروں میں روحانی مقامات کی زیارت نے ان کے سفر کو ایک خاص معنوی کیفیت عطا کی۔ یہ سفر ان کے لیے صرف راستوں کا سفر نہیں بلکہ عقیدت، محبت اور قلبی وابستگی کا سفر تھا۔امرتسر لدھیانہ چندی گڑھ پٹیالہ دلی اگرہ میں بھی انہوں نے علمی و ادبی اور سیاحتی حوالے سے کئی مشاہدات و تجربات سمیٹےڈاکٹر نگہت خورشید کی شخصیت کا یہ پہلو بھی قابلِ ذکر ہے کہ انہوں نے سفر کو ہمیشہ سیکھنے کے عمل سے جوڑا۔ ایک استاد کی حیثیت سے انہوں نے دنیا کو علم کی نظر سے دیکھا، ایک محقق کی حیثیت سے مختلف معاشروں کا مطالعہ کیا اور ایک ادیبہ کی حیثیت سے انسانی زندگی کے تجربات کو محسوس کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شخصیت میں علمی گہرائی، تہذیبی شعور اور روحانی وابستگی ایک ساتھ نظر آتی ہے۔سفر انسان کے اندر موجود امکانات کو بیدار کرتا ہے۔ ڈاکٹر نگہت خورشید کے سفر بھی ان کی شخصیت کے مختلف پہلوو¿ں کو اجاگر کرتے ہیں۔ انہوں نے راستوں میں صرف فاصلے طے نہیں کیے بلکہ تجربات، یادوں اور مشاہدات کا ایک قیمتی سرمایہ جمع کیا۔ یہی سرمایہ ایک تخلیق کار کے لیے نئی سوچ اور نئے اظہار کا ذریعہ بنتا ہے۔ڈاکٹر نگہت خورشید کی زندگی کا یہ پہلو ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ایک صاحبِ علم انسان کے لیے پوری دنیا ایک کھلی کتاب کی مانند ہوتی ہے۔ ہر شہر، ہر ملک، ہر تہذیب اور ہر روحانی مقام اس کتاب کا ایک نیا باب ہوتا ہے۔ انہوں نے اس کتاب کو صرف دیکھا نہیں بلکہ محسوس کیا، سمجھا اور اپنی شخصیت کا حصہ بنایا۔اسی لیے ڈاکٹر نگہت خورشید کو صرف ایک ادیبہ، استاد یا محقق ہی نہیں بلکہ ایک ایسی صاحبِ نظر مسافر کے طور پر بھی یاد کیا جا سکتا ہے، جن کے سفر نے ان کے علم، فکر اور احساس کو مزید وسعت عطا کی۔ ان کا سفری اور روحانی تجربہ ان کی ہمہ جہت شخصیت کا ایک روشن باب ہے۔ڈاکٹر نگہت خورشید صاحبہ ان خوش نصیب اہلِ قلم میں شامل ہیں جن کے چراغِ علم کی روشنی ان کی زندگی میں ہی دور دور تک پھیل رہی ہے۔ انہوں نے جو خواب علم، ادب اور زبان کی خدمت کے لیے دیکھے، انہیں اپنی محنت اور اخلاص سے حقیقت کا روپ دیا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت، عافیت اور مزید تخلیقی توانائی عطا فرمائے تاکہ ان کا علمی و ادبی سفر اسی آب و تاب کے ساتھ جاری رہے۔






