آبروئے غزل ، باقی احمد پوری
فیصل زمان چشتی
جلال_ شاہ سے مرعوب ہو نہیں سکتا
فقیر بات کرے گا انا کے لہجے میں
ہوا چراغ بجھانے جب آئے گی باقی
چراغ بات کریں گے ہوا کے لہجے میں
اردو شاعری کی روایت میں ایسے شعرا ہمیشہ اہم مقام رکھتے ہیں جنہوں نے انسانی احساسات، زندگی کے تجربات اور روحانی اقدار کو سادہ مگر مو¿ثر انداز میں بیان کیا ہو باقی احمد پوری بھی انہی معتبر شعرا میں شمار ہوتے ہیں جن کی شاعری میں محبت، ہجر، وفا، امید، خودداری، صبر، خدا پر یقین اور زندگی کی حقیقتوں کا نہایت خوبصورت امتزاج ملتا ہے۔ ان کی شاعری محض جذبات کا اظہار نہیں بلکہ زندگی کے مختلف پہلوو¿ں کی عکاس بھی ہے۔ ان کے اشعار میں ایک طرف عشق کی لطافت موجود ہے تو دوسری جانب حقیقتِ حیات کا گہرا شعور بھی نمایاں ہے۔زیر نظر کتاب "ہر شعر زندگی ہے” میں کہیں محبت کی شدت ہے، کہیں جدائی کا دکھ، کہیں انسان کی بے بسی، کہیں امید کی کرن، کہیں خدا پر کامل بھروسہ اور کہیں وقت کی بے ثباتی کا احساس موجود ہے اور یہی تنوع ان کی شاعری کو دلکش اور فکر انگیز بناتا ہے۔ ہر شاعر اپنے ماحول، تجربات اور مشاہدات سے اثر قبول کرتا ہے باقی احمد پوری کی شاعری میں بھی یہی عناصر نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے اشعار پڑھ کر قاری کو محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے زندگی کو بہت قریب سے دیکھا ہے، انسانوں کے رویوں کا بغور مشاہدہ کیا اور اپنے تجربات کو شاعری کا حصہ بنایا ہے۔ ان کی شاعری مصنوعی جذبات سے خالی اور حقیقت سے قریب تر محسوس ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار میں زندگی کے حالات، احساسات اور تجربات کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔
کوئی دیوار اور نہ در کا خیال
ایسے رکھتے ہیں اپنے گھر کا خیال
سب سے پہلے وہی شکار ہوئے
جن پرندوں ک تھا شجر ک خیال
عشق و مستی پرانی بات ہوئی
کوئی مضمون حسب حال بندھے
ویسے تو منزلوں پہ پہنچنا محال تھا
رہزن کے انکشاف سے رہبر بھی کھل گئے
باقی احمد پوری کی شاعری کا سب سے نمایاں موضوع محبت ہے لیکن ان کی محبت محض رومانوی نہیں بلکہ ایک گہرا انسانی جذبہ ہے وہ محبوب کی ظاہری خوبصورتی کے بجائے محبت کی سچائی، خلوص اور قربانی کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ ان کے ہاں عشق میں خودداری بھی موجود ہے اوروہ محبت کو عزتِ نفس کے ساتھ نبھانے پر یقین بھی رکھتے ہیں۔ اسی لیے ان کے کئی اشعار میں محبت کے ساتھ وقار اور سنجیدگی نظر آتی ہے۔ محبت کے ساتھ جدائی بھی ان کی شاعری کا اہم موضوع ہے۔ شاعر کے نزدیک جدائی صرف جسمانی فاصلے کا نام نہیں بلکہ روحانی تنہائی بھی ہے۔ ان کے ہاں ہجر صرف رنج نہیں بلکہ انسان کی شخصیت کو نکھارنے والا تجربہ بھی ہے یہی وجہ ہے کہ وہ غم کو مایوسی کے بجائے زندگی کی حقیقت کے طور پر قبول کرتے ہیں۔
تمہارے چہرے پہ تل سجایا گیا ہے جاناں
ہمارے سینے میں داغ روشن کیے گئے ہیں
اب تو احباب سے ملتے ہوئے ڈر لگتا ہے
شوق ہوتا تھا کبھی انجمن آرائی کا
عشق میں غم ہی بےشمار ملا
تو ملا ہے نہ تیرا پیار ملا
اپنی مرضی سے جی سکیں باقی
اس قدر بھی نہ اختیار ملا
اسی طرح بعض اشعار میں انہوں نے منافقت، بدلتے ہوئے تعلقات اور وقتی محبتوں پر بھی اپنا قلم اٹھایا ہے۔ ان کے نزدیک محبت صرف الفاظ سے نہیں بلکہ کردار اور وفا سے ثابت ہوتی ہے۔ اگرچہ باقی احمد پوری کی شاعری میں غم موجود ہے لیکن یہ غم مایوسی پیدا نہیں کرتا۔کیونکہ یہ زندگی کے نشیب و فراز کو انسان کی تربیت کا ذریعہ سمجھتے ہیں مشکلات کے باوجود آگے بڑھنے، اپنی منزل کی طرف سفر جاری رکھنے اور خدا پر یقین رکھنے کا درس ان کی شاعری کا اہم پہلو ہے یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری قاری کو صرف رلاتی نہیں بلکہ حوصلہ بھی دیتی ہے۔ کئی اشعار میں خدا تعالیٰ پر مضبوط ایمان کا اظہار ملتا ہے۔وہ اس حقیقت پر یقین رکھتے ہیں کہ انسان کی کوشش ضروری ہے لیکن کامیابی کا اصل اختیار اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے یہ بات بھی واضح کردوں کے ان کی شاعری میں مذہبی وعظ نہیں بلکہ ایک روحانی احساس پایا جاتا ہے جو قاری کے دل پر گہرا اثر چھوڑتا ہے۔
کون کہتا ہے رب نہیں کچھ بھی
رب نہیں ہے تو سب نہیں کچھ بھی
آسماں کا نہیں زمیں کا نہیں
جو تمہارا نہیں کہیں کا نہیں
ایسا دشمن پسند ہے مجھ کو
سانپ ہو لیکن آستیں کا نہیں
دیار سنگ میں دشواریاں تو ہوتی ہیں
پہاڑ کاٹ کے رستے بنانے پڑتے ہیں
ہمارے ساتھ بھی کچھ دن گزار کر دیکھو
ہماری راہ میں کتنے زمانے پڑتے ہیں
باقی احمد پوری زندگی کو مسلسل سفر قرار دیتے ہیں
ان کے مطابق انسان کو رستے کی مشکلات سے گھبرانا نہیں چاہیے بلکہ ہر آزمائش سے سبق حاصل کرنا چاہیے
زندگی میں خوشی اور غم دونوں لازم ہیں اور یہ دونوں مل کر انسان کی شخصیت کو مکمل کرتے ہیں۔
اسی لیے وہ زندگی کی تلخیوں کو بھی قبول کرتے ہیں اور انہیں انسان کی تعمیر کا حصہ بھی سمجھتے ہیں۔
ماتم سرا بنیں گے یزیدوں کے محل بھی
جس روز انقلاب کے ہوں گے علم دراز
باقی مزاج یار کے بارےمیں کیا لکھوں
گاہے ستم دراز ہے گاہے کرم دراز
دیارِ سنگ میں دشواریاں تو ہوتی ہیں
پہاڑ کاٹ کے رستے بنانے پڑتے ہیں
ہمارے ساتھ بھی کچھ دن گزار کر دیکھو
ہماری راہ میں کتنے زمانے پڑتے ہیں
باقی احمد پوری کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی ان کی زبان ہے انہوں نے نہایت آسان، سادہ اور عام فہم الفاظ استعمال کیے ہیں مشکل فارسی تراکیب یا غیر ضروری لفظی آرائش سے گریز کیا ہے اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے چھوٹی بحور کا بھی کثرت سے استعمال کیا ہے جو ان کے قادر الکلام شاعر ہونے کی تصدیق بھی ہے کیونکہ ناصر کاظمی کے بعد باقی احمد پوری نے یہ کام پورے باطنی احساس اور سچے جذبات کی کامیابی سے ترجمانی کی ہے اس وجہ سے عام قاری بھی ان کے اشعار کو باآسانی سمجھ لیتا ہے جبکہ ادب کا طالب علم ان میں موجود فکری گہرائی سے بھی لطف اندوز ہوتا ہے۔ ان کی زبان میں روانی، شائستگی اور ادبی وقار موجود ہے۔ وہ چھوٹے اشعار میں بڑی بات کہنے کا ہنر بخوبی جانتے ہیں ان کے اشعار میں تصنع نہیں بلکہ فطری اور حقیقی پن محسوس ہوتا ہے یہ قاری کو مشکل فلسفے میں الجھانے کے بجائے سیدھی اور مو¿ثر بات کرتے ہیں اور یہی خوبی ان کی شاعری کو دلپزیر اور موثر بناتی ہے۔
دل کہاں بے سبب لگاتے ہیں
حسن بےحد ہو تب لگاتے ہیں
مصر جانے کا سوچتا ہوں مگر
لوگ قیمت عجب لگاتے ہیں
جن کا نام و نسب نہیں باقی
وہ بھی شرط_نسب لگاتے ہیں
باقی احمد پوری کی شاعری کا ایک اہم ترین وصف انسانی جذبات کی سچی اور بے ساختہ ترجمانی ہے انہوں نے انسانی دل کی مختلف کیفیتوں کو نہایت باریک بینی سے محسوس کیا ہے۔ ان کے ہاں محبت، انتظار، امید، مایوسی، خوشی، غم، بے قراری، تنہائی، حسرت اور خود اعتمادی جیسے جذبات نہایت فطری انداز میں سامنے آتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ انسانی احساسات کا آئینہ معلوم ہوتی ہے۔ اگرچہ باقی احمد پوری نے زندگی کے تلخ تجربات کو بیان کیا ہے لیکن ان کی شاعری قاری کو مایوسی کی طرف ہرگز نہیں لے جاتی وہ ہر مشکل کے بعد آسانی، ہر رات کے بعد صبح اور ہر خزاں کے بعد بہار کی امید دلاتے ہیں یہ رجائیت ان کی شاعری کو مثبت فکر عطا کرتی ہے اور قاری کو زندگی سے محبت کرنا سکھاتی ہے۔
ماتم سرا بنیں گے یزیدوں کے محل بھی
جس روز انقلاب کے ہوں گے علم دراز
اک بند سی گلی میں گزرتی تھی زندگی
آپ آگئے تو میرا مقد بھی کھل گیا
ویسے تو منزلوں پہ پہنچنا محال تھا
رہزن کے انکشاف سے رہبر بھی کھل گیا
باقی احمد پوری ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں لوگ مختلف سماجی،اقتصادی اور معاشرتی مسائل کا شکار ہیں۔ عدم مساوات اور ظلم اور جبر ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ معاشرے میں بےچینی اور خوف کی فضا ہے۔ ایسے ماحول میں ایک حقیقی اور صاحب احساس شاعر کیسے چپ رہ سکتا ہے۔ مٹی سے محبت اور سماج سے جڑت باقی احمد پوری کو حق بات کہنے پر مجبور کرتی ہے اسی لیے اس کتاب میں ایسے لاتعداد اشعار موجود ہیں جن میں لوگوں کے مسائل اور معاشرتی ناانصافی کی بات کی گئی ہے اور ایسی شاعری ہی معاشرے کی تاریخ مرتب کررہی ہوتی ہے۔ ایسے اشعار کہتے ہوئے ان کا لب و لہجہ مضبوط اور توانا نظر آتا ہے۔
نظام ظلمتِ شب ختم ہونے والا ہے
سنا ہے سرخ سویرا یہیں سے گذرے گا
بستیاں آگ کی لپیٹ میں ہیں
گھر دھواں ہو رہے ہیں ٹھیک نہیں
کام جو دشمنوں کے تھے باقی
وہ یہاں ہو رہے ہیں ٹھیک نہیں
کچھ ایسے پرندے ہیں پلٹ کر نہیں آتے
کچھ سوچ سمجھ کر انہیں آزاد کیا کر
فریاد سے اب کام نکلنا نہیں باقی
تلوار اٹھا روز نہ فریاد کیا کر
باقی احمد پوری کی شاعری میں خودداری ایک نمایاں وصف ہے۔ وہ محبت میں بھی انسان کی عزتِ نفس کو برقرار رکھتے ہیں ان کے نزدیک محبت کا مطلب اپنی شخصیت کو مٹا دینا نہیں بلکہ احترام اور خلوص کے ساتھ تعلق نبھانا ہے اسی لیے ان کے متعدد اشعار میں دکھ اور جدائی ہونے کے باوجود خودداری قائم رہتی ہے۔ یہ بتاتے ہیں کہ کسی کے سامنے اپنی شخصیت اور حیثیت کو پامال نہیں کرنا بلکہ صبر اور وقار کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرنا ہے یہ پہلو نوجوان نسل کے لیے بھی ایک مثبت پیغام رکھتا ہے۔ اگرچہ باقی احمد پوری بنیادی طور پر ایک غزل گو شاعر ہیں لیکن ان کی شاعری صرف ذاتی جذبات تک محدود نہیں بلکہ وہ معاشرے میں موجود بے وفائی، منافقت، خود غرضی اور بدلتے ہوئے انسانی رویوں پر بھی گہری تنقید کرتے ہیں ان کے کئی اشعار اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آج کا انسان تعلقات کو مفاد کی بنیاد پر استوار کرتا ہے یہ سماجی شعور ان کی شاعری کو محض عشقیہ شاعری سے بلند مقام عطا کرتا ہے۔ باقی احمد پوری انسانی نفسیات سے بھی گہری واقفیت رکھتے ہیں یہ جانتے ہیں کہ انسان ایک ہی وقت میں امید اور خوف، محبت اور نفرت، کامیابی اور ناکامی جیسے متضاد احساسات سے گزرتا ہے اسی لیے ان کے اشعار میں انسانی شخصیت کی پیچیدگی نہایت خوبصورتی سے سامنے آتی ہے۔ ان کی شاعری میں روحانی رنگ بھی نمایاں ہے وہ خدا پر یقین، دعا، صبر، شکر اور تقدیر کے تصور کو نہایت سادہ انداز میں بیان کرتے ہی انہوں نے مذہبی نعرے بازی کے بجائے انسان کے باطن کو جگانے کی کوشش کی ہے اسی لیے ان کے اشعار میں عاجزی، انکساری اور خدا پر بھروسہ نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ باقی احمد پوری کی شاعری میں کلاسیکی اردو غزل کی مٹھاس بھی موجود ہے اور جدید شاعری کی حقیقت نگاری بھی۔ میر کی سادگی، غالب کی فکری گہرائی، فیض کی انسان دوستی اور احمد فراز کی رومانویت کے اثرات ان کی شاعری میں محسوس کئے جا سکتے ہیں لیکن یہ محض تقلید نہیں کرتے بلکہ اپنی الگ شناخت قائم رکھتے ہیں ان کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ انہوں نے اپنی الگ شناخت اور آواز پیدا کی ہے اس کے ساتھ ساتھ ان کا اسلوب اور لہجہ اپنا وجود رکھتا ہے۔ باقی احمد پوری اردو غزل کے اہم شعرا میں شمار کیے جاتے ہیں انہوں نے روایت کا احترام بھی کیا اور جدید احساسات کو بھی اپنی شاعری میں جگہ دی۔
عشق دریا کو پار کرتے ہوئے
مرگئے ہم تو پیار کرتے ہوئے
ہم درختوں کے ساتھ سوکھ گئے
عمر بھر انتظار کرتے ہوئے
ہم انہیں قافلوں میں شامل تھے
کھاگئی راستوں کی دھول جنہیں
باقی احمد پوری کی شاعری زندگی، محبت، انسانیت اور روحانیت کا حسین امتزاج ہے۔ ان کے اشعار میں عشق کی لطافت بھی ہے، ہجر کی کسک بھی، امید کی روشنی بھی اور زندگی کی حقیقت بھی۔ وہ انسانی احساسات کو نہایت سادہ مگر گہرے انداز میں بیان کرتے ہیں۔ ان کی شاعری قاری کو صرف محظوظ نہیں کرتی بلکہ سوچنے پر بھی مجبور کرتی ہے۔
نئے زمانے میں سب کچھ نیا نہیں ہوتا
پرانے سکے بھی کچھ دن چلانے پڑتے ہیں
کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں یاد میں باقی
بجھائے جا نہیں سکتے بھلانے پڑتے ہیں
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ باقی احمد پوری کا یہ شعری مجموعہ ” ہر شعر زندگی ہے” صرف محبت کی داستان نہیں بلکہ انسانی زندگی کا ایک فکری اور جذباتی سفر ہے۔ ان کی شاعری دل کو بھی متاثر کرتی ہے اور ذہن کو بھی بیدار کرتی ہے۔ یہی کسی عظیم شاعر کی سب سے بڑی کامیابی ہوتی ہے کہ اس کا کلام وقت گزرنے کے باوجود اپنی تازگی، معنویت اور اثر آفرینی برقرار رکھے۔ باقی احمد پوری کی شاعری اس معیار پر پوری اترتی ہے اور اردو ادب کے سرمایہ شعر میں ایک قابلِ قدر اضافہ ہے۔ اس لیے ان کا کلام نہ صرف ادبی حلقوں بلکہ عام قارئین کے لیے بھی یکساں اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس میں زندگی کے وہ ابدی سچ موجود ہیں جو ہر دور کے انسان کے دل کو چھوتے ہیں۔






