آ ج تم بے حساب یاد آ ئے!
آ ج کاروز نامہ نوائے وقت میرے سامنے کھلا ہے۔ پچھلے صفحے پر جلی حروف میں سرخی ہے غربت سے تنگ باپ نے 4 بچوں کے ساتھ نہر میں
شہزاد احمد ورک
آ ج کاروز نامہ نوائے وقت میرے سامنے کھلا ہے۔ پچھلے صفحے پر جلی حروف میں سرخی ہے غربت سے تنگ باپ نے 4 بچوں کے ساتھ نہر میں چھلانگ لگا دی۔ اس خبر کی تفصیلات پڑھنے کی ہمت نہیں۔اخبار الٹ پلٹ کی تو پہلے صفحے پر ایک 8 سالہ بچے کی تصویر اپنی ماں کے ساتھ چیخ رہی ہے جو کوڑے کے ڈھیر سے روٹی کے نوالے ڈھونڈ رہے ہیں۔ تصویر کے نیچے سرخی ہے ساندہ کے قریب کوڑے کے ڈھیر سے ماں اپنے بچے کے ساتھ روٹی کے ٹکڑے تلاش کر رہی ہے۔
2018 ءمیں میری تعیناتی سیالکوٹ میں رہی۔ مجھے وہاں کئی ایسے لوگوں سے ملنے کا موقع ملا جو یہ کہتے تھے ہمارے گھر آ ئس کریم سوئٹزرلینڈ سے آ تی ہے کیونکہ یہاں سے خالص دستیاب نہیں ہوتی۔ یہ وہ نظام ہے جس میں امیر کا کتا ڈبل روٹی کھاتا ہے جب کہ غریب کے بچے کو باسی کھانا بھی مشکل سے دستیاب ہوتا ہے۔
پنجابی کے شاعر استاد تجمل کلیم یاد آگئے وہ کہتے ہیں۔
لبھ کون اے لٹن والا
جو وی اے، تقدیر نئیں ہندی
یہ تمام خبریں اس دن کے اخبار میں چھپی ہیں جس دن زمانہ ایک عظیم کامریڈ کی برسی منا رہا ہے۔ڈاکٹر لال خاں۔ انقلابی شخص جس نے سماجی طبقات کے خاتمے کے لیے دیوانہ وار جدو جہد کی اور اپنی جان کی
کبھی پرواہ نہ کی۔ کیسے کیسے عظیم انسان تھے جنہوں نے اپنی زندگیاں بڑے بڑے مقاصد کے لیے وقف کر دیں۔لینن، چی گویرا، عبدالستار ایدھی، جام ساقی، جاوید شاہین جیسے لوگ صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں۔
پاکستان میں نظریاتی لوگوں کا جب بھی ذکر آئے گا ان میں ڈاکٹر لال خاں سرفہرست ہوں گے میرے پسندیدہ کامریڈ۔ ان کی برسی کے موقع پر ٹی وی چینل پر ان کا پرانا پروگرام میری جدو جہد،، کے عنوان سے دیکھنے کا موقع ملا جس میں 1980 کے اپنی جلا وطنی کے ہالینڈ میں گزارے ایام بتا رہے تھے۔ تو یادوں کا ایک دریچہ کھل گیا۔ 2004 کا سال تھا۔ میں نیا نیا یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کر کے عملی صحافت میں آیا تو اوائل ایام میں ڈاکٹر لال خاں، فاروق طارق، فرخ سہیل گوئندی سے رابطہ ہوا تو زندگی کو صحیح طرح سمجھنے کا موقع ملا۔ فاروق طارق صاحب نے لاہور میں ایک فنکشن رکھا جس میں ان کو پہلی بار سننے کا موقع ملا۔کہتے ہیں۔سرمایہ دارانہ نظام نے انسان سے صرف روٹی نہیں چھینی، اس سے شعور بھی چھن لیا ہے۔ یہاں جہالت حادثہ نہیں، بلکہ ایک منصوبہ ہے۔ تعلیم کو جان بوجھ کر مہنگا کیا گیا تاکہ غریب کا بچہ ہمیشہ مزدور، ڈرائیور، چوکیدار اور فیکٹری کا ملازم رہے اور امیر کا بچہ حاکم سرمایہ دار اور افسر بنے۔ آج یونیورسٹیاں علم کے مرکز نہیں، کاروبار کی منڈیاں بن چکی ہیں۔ ڈگریاں فروخت ہو رہی ہیں، کتابیں مہنگی ہیں، اسکول پرائیویٹ مافیاز کے قبضے میں ہیں اور غریب نوجوان فیسوں کے بوجھ تلے اپنی زندگیاں دفن کر رہے ہیں۔سرمایہ دارانہ نظام نہیں چاہتا کہ مزدور کا بچہ سوچنا سیکھے، سوال کرنا سیکھے، یا اپنے حقوق مانگے۔ کیونکہ جس دن غریب باشعور ہو گیا، اس دن محلوں کی بنیادیں ہل جائیں گی۔یہ نظام نوجوان کو علم نہیں دیتا، بلکہ انہیں ٹک ٹاک، فضول مذہبی نفرت، قوم پرستی اور جھوٹے خوابوں میں الجھا دیتا ہے تاکہ وہ انقلاب، سوشلزم اور طبقاتی ظلم کے خلاف آواز نہ اٹھا سکیں۔غریب آدمی سارا دن محنت کرتا ہے، پھر بھی پریشان، مقروض اور ذلیل رھتا ہے، جبکہ چند سرمایہ دار اس کی محنت پر محلات تعمیر کرتے ہیں۔ کمیونسٹ نظریہ یہی کہتا ہے کہ تعلیم ہر انسان کا بنیادی حق ہے، کاروبار نہیں۔ سوشلسٹ نظام میں علم چند امیروں کی جاگیر نہیں ہوتا بلکہ ہر مزدور، ہر کسان، ہر غریب بچے تک مفت پہنچتا ہے۔ وہ سماج جہاں انسان کی قدر اس کے پیسے سے نہیں بلکہ اس کی محنت اور انسانیت سے ہو وہی حقیقی آزادی ہے۔
یاد رکھو! جہالت میں رکھا گیا انسان کبھی آزاد نہیں ہو سکتا۔ اور جو نظام انسان کو علم سے محروم رکھے، وہ انسانیت کا دشمن ہے۔ انقلاب صرف بندوق سے نہیں آتا شعور سے آتا ہے۔ کتاب اٹھاو¿، سوال کرو، منظم
ہو جاو¿، کیونکہ سرمایہ دار تمہاری خاموشی سے طاقتور ہے اور تمہارے شعور سے خوفزدہ۔
ڈاکٹر لال خاں دنیا بھر کی عوامی تحریکوں کے ساتھ نہ صرف منسلک رہے بلکہ ان کے ساتھ مسلسل رابطے میں بھی رہے۔ امریکہ، لاطینی امریکہ، افریقہ، ایشیا، جنوبی ایشیا میں چلنے والی تمام عوامی تحریکوں پر اپنی منفرد رائے رکھتے تھے۔منفرد تجزیہ نگار اور ایکٹیوسٹ عملی کارکن تھے۔ جس طبقے نے 1980ء کے بعد سوشلزم کے خاتمے کا دعوی کیا تھا ہمیشہ ان کے خلاف لڑتے رہے اور ان کو بتاتے رہے کہ سوشلزم ہی اصل نظام ہے جس میں غریب کو صحت تعلیم اور تفریح کی سہولیات ملتی ہیں۔ غریب پیٹ بھر کر روٹی کھاتا ہے۔ اور اپنے خاندان کے ساتھ خوشحال زندگی گزارتا ہے۔ سوشلزم ہی بے انصافی کا خاتمہ کرتا ہے۔
ڈاکٹر لال خاں جیسا شخص صدیوں بعد پیدا ہوتا ہے،جو تاریخ بدلتا ہے۔اس کے بعد ڈاکٹر لال خاں سے کئی ملاقاتیں رہیں۔ روزنامہ دنیا میں ان کے چھپنے والے کالموں کو بھی پڑھنے کا موقع ملتا رہا۔ بڑا عرصہ ان کا کالم چھپنا بند ہو گیا پھر نذیرنا جی صاحب نے اخبارمالکان کو راضی کیا کہ ان کا کالم چھاپا جائے کیونکہ کوئی بھی سرمایہ دار، حکومت ان کی کاٹ دار تحریر کو برداشت نہیں کر سکتی تھی۔ڈاکٹر لال خاں نے سماجی طبقات کے خاتمے کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی۔ حالانکہ بھلے وقتوں میں ان کے والد صاحب فوجی کرنل تھے اور انہوں نے نشتر میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس میں داخلہ لیا مگر اندر کا انقلابی انسان انہیں کہاں سے کہاں لے گیا۔ جیلیں کاٹیں،کوڑے کھائے مگر غریب کے حق کے لیے استعماری قوتوں کے خلاف لڑتے رہے وہ اکثر کہتے تھے: اس کرہ ارض پر تمام غریبوں اور محنت کشوں کے طبقوں کو سامراج اور استعمار کی قوتوں نے باہم تقسیم کر رکھا ہے۔ لوگوں کو زبان، نسل، جغرافیہ اور کچھ دوسری چیزوں کی بنیاد پر تقسیم در تقسیم(Divide and Rule) کیا گیا ہے۔کارل مارکس بہت حقیقت پسند تھے جب انہوں نے کہا کہ مظلوم عوام کو استعماری (کالونیل) قانون سرمایہ دارانہ استحصالی نظاموں کی قوتوں کے خلاف ایک وسیع عالمی انقلاب کی صورت میں متحد ہو جانا چاھیے۔ یہی ڈاکٹر لال خاں کا منشور تھا جس کا پرچار وہ پوری عمر کرتے رہے۔ آج اتفاق سے ان کی برسی بھی ہے اور اخباری خبریں پڑھ کر وہ بے حساب یاد آئے۔






