یہ خودکشیاں نہیں، ریاست کی خاموش ہلاکتیں ہیں
ڑاکٹر عمرانہ مشتاق
پاکستان میں آج جو کچھ ہو رہا ہے، اسے محض مہنگائی کہنا حقیقت سے آنکھیں چرانا ہے۔ یہ ایک ایسا طوفان ہے جس نے لاکھوں گھروں کے چولہے بجھا دیے ہیں، بچوں کے چہروں سے مسکراہٹیں چھین لی ہیں، اور والدین کو زندہ لاش بنا دیا ہے۔ ہر گزرتا دن ایک نئی قیمت، ایک نیا بل ایک نئی اذیت لے کر آتا ہے۔ مگر سب سے خوفناک بات یہ ہے کہ اب لوگ مرنے لگے ہیں اور وہ بھی خاموشی سے۔
گزشتہ دنوں ایک ماں اپنے چار بچوں سمیت نہر میں کود گئی۔ اس کے پاس نہ کوئی ہتھیار تھا، نہ کوئی جرم کیا تھا نہ وہ کسی جنگ کا حصہ تھی۔ اس کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ بجلی کا بل ادا نہیں کر سکتی تھی، کرایہ نہیں دے سکتی تھی اور اپنے بچوں کو کھانا نہیں کھلا سکتی تھی۔ یہ خودکشی نہیں تھی یہ ایک ایسا قتل تھا جس کے قاتل نظر نہیں آتے۔
یہ پہلا واقعہ نہیں، اور بدقسمتی سے آخری بھی نہیں ہوگا۔
آج پاکستان میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگ اسی اذیت سے گزر رہے ہیں۔ ایک مزدور جو صبح سے شام تک پسینہ بہاتا ہے وہ شام کو اپنے بچوں کے لیے دودھ نہیں لا سکتا۔ ایک باپ جو کبھی اپنے بچوں کی آنکھوں میں خواب دیکھا کرتا تھا آج ان سے نظریں چراتا ہے۔ ایک ماں جو بچوں کے لیے دعائیں کرتی تھی، آج انہیں بھوکا سوتا دیکھ کر ٹوٹ جاتی ہے۔
یہ صرف غربت نہیں، یہ بے بسی کی انتہا ہے۔
مہنگائی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ اب زندگی گزارنا ایک عیاشی لگنے لگا ہے۔ آٹا، دال، چینی، سبزیاں سب عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔ بجلی کے بل ایسے آتے ہیں جیسے کسی امیر ملک کے شہری کو بھیج دیے گئے ہوں۔ گیس کبھی آتی نہیں، مگر بل پورا آتا ہے۔ کرایے بڑھتے جا رہے ہیں، اور تنخواہیں وہیں کی وہیں جمی ہوئی ہیں۔
تو سوال یہ ہے: ایک عام آدمی زندہ کیسے رہے؟
حکمران کہتے ہیں حالات بہتر ہو رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں مہنگائی کم ہو رہی ہے۔ وہ کہتے ہیں معیشت سنبھل رہی ہے۔ مگر یہ سب باتیں صرف کاغذوں، پریس کانفرنسوں اور ایئرکنڈیشنڈ کمروں تک محدود ہیں۔ گلیوں، بازاروں اور کچی آبادیوں میں حقیقت کچھ اور ہے وہاں زندگی دم توڑ رہی ہے۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ حکمران اور عوام دو مختلف دنیاؤں میں رہتے ہیں۔
ایک دنیا وہ ہے جہاں پروٹوکول ہے لگژری گاڑیاں ہیں بیرون ملک دورے ہیں، اور ہر سہولت موجود ہے۔ دوسری دنیا وہ ہے جہاں ایک ماں اپنے بچوں سمیت نہر میں کود جاتی ہے کیونکہ اس کے پاس کوئی راستہ نہیں بچتا۔ جب فیصلے کرنے والے درد محسوس ہی نہ کریں تو انصاف کیسے ہوگا.
یہاں سوال صرف حکومت کا نہیں پورے نظام کا ہے۔
ہم ایک ایسے معاشرے میں بدلتے جا رہے ہیں جہاں انسان کی قیمت کم اور بل کی قیمت زیادہ ہو گئی ہے۔ جہاں زندگی سستی اور بجلی مہنگی ہو گئی ہے۔ جہاں ایک انسان کی موت خبر بنتی ہے، مگر اس کے پیچھے کی وجہ کبھی حل نہیں ہوتی۔
سب سے خطرناک پہلو ذہنی دباؤ ہے۔
لوگ ٹوٹ رہے ہیں۔ اندر سے، خاموشی سے، آہستہ آہستہ۔ کوئی چیخ نہیں رہا کوئی احتجاج نہیں کر رہا بس ایک دن خبر آتی ہے کہ فلاں شخص نے خودکشی کر لی۔ اور پھر اگلے دن ہم اسے بھول جاتے ہیں۔
کیا ہم واقعی ایک زندہ قوم ہیں
یا ہم صرف سانس لینے والے لوگ رہ گئے ہیں جنہیں دوسروں کے درد سے کوئی فرق نہیں پڑتا؟
معاشرے کا کردار بھی سوالیہ نشان ہے۔ ہم سب اپنے اپنے مسائل میں اس قدر الجھ چکے ہیں کہ ہمیں اپنے پڑوسی کی بھوک نظر نہیں آتی۔ ہمیں یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ہمارے آس پاس کوئی شخص کس اذیت سے گزر رہا ہے۔
حالانکہ یہ وہی معاشرہ ہے جس کی بنیاد ہمدردی، بھائی چارے اور مدد پر رکھی گئی تھی۔
حکومت اگر واقعی سنجیدہ ہے تو اب وقت گزر چکا ہے باتوں کا۔ اب اقدامات کی ضرورت ہے۔
بجلی کے بل فوری کم کیے جائیں۔ ضروری اشیاء کی قیمتوں کو کنٹرول کیا جائے۔ غریب طبقے کے لیے سبسڈی دی جائے۔ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں۔ اور سب سے بڑھ کر ایک ایسا نظام بنایا جائے جہاں کوئی شخص بھوک یا قرض کی وجہ سے مرنے پر مجبور نہ ہو۔
ورنہ یہ سلسلہ نہیں رکے گا۔
ہر چند دن بعد ایک نئی خبر آئے گی۔ ایک اور ماں، ایک اور باپ، ایک اور خاندان ختم ہو جائے گا۔ اور ہم صرف افسوس کرتے رہ جائیں گے۔
وہ ماں جو نہر میں کود گئی، وہ دراصل ہم سب کے لیے ایک سوال چھوڑ گئی ہے۔
کیا اس ملک میں جینا واقعی اتنا مشکل ہو چکا ہے؟
اور اگر ہے تو ذمہ دار کون ہے؟
اگر ہم نے اب بھی آنکھیں بند رکھیں، تو یاد رکھیں، یہ صرف غریبوں کی کہانی نہیں رہے گی۔ یہ آگ پھیلتی ہے۔ آج وہ متاثر ہیں، کل کوئی بھی ہو سکتا ہے۔
یہ خودکشیاں نہیں ہیں۔
یہ ریاست کی ناکامی کی گواہی ہیں۔
یہ ایک ایسا آئینہ ہیں جس میں ہم سب کو اپنا چہرہ دیکھنا ہوگا۔
اور اگر ہم نے اب بھی کچھ نہ کیا تو تاریخ صرف یہ لکھے گی:
"وہ لوگ مر رہے تھے، اور باقی لوگ خاموش تھے۔”






