محترمہ وقارالنساء نون کی خاموش جدوجہد
محمد جمیل شاہین راجپوت
پاکستان میں بندوق سے لڑی جانے والی جنگوں کے قصے تو بہت سنائے جاتے ہیں، لیکن شاید ہی کسی کو اس جنگ کا علم ہو جو توپ، ٹینک اور تلوار کے بغیر لڑی گئی؛ جس میں ہتھیار قانونی دستاویزات، تاریخی شواہد، سفارتی روابط، مذاکرات اور ناقابلِ شکست عزم تھے—اور جس کا انعام تقریباً پندرہ لاکھ ایکڑ سے زیادہ رقبے پر مشتمل گوادر تھا۔
اس جدوجہد کا روشن ترین نام محترمہ وقارالنساء نون ہے۔
وہ آسٹریا میں پیدا ہوئیں، برطانیہ میں پلی بڑھیں، مگر پاکستان کو اس شدت سے اپنا وطن بنایا کہ اپنی صلاحیت، تعلقات، دولت، وقت اور زندگی اس ملک کے نام کر دی۔ آج پاکستان کی سرکاری مردم شماری کے مطابق ملکی آبادی 24 کروڑ 14 لاکھ سے زیادہ ہے، مگر ان کروڑوں لوگوں میں شاید بہت کم جانتے ہوں کہ گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے کی سفارتی کوششوں میں اس خاتون نے کس قدر اہم اور مؤثر کردار ادا کیا تھا۔
گوادر کا محلِ وقوع اور اہمیت
لفظ ’’گوادر‘‘ کے بارے میں معروف تشریح یہ ہے کہ یہ بلوچی زبان کے دو الفاظ ’’گوات‘‘ یعنی ہوا اور ’’در‘‘ یعنی دروازہ یا راستہ کا مرکب ہے۔ یوں گوادر کا مفہوم ’’ہواؤں کا دروازہ‘‘ بنتا ہے۔ بحیرۂ عرب کے ساحل پر واقع اس خطے کی قدرتی ساخت ہتھوڑے جیسے جزیرہ نما کی ہے، جس کے دونوں جانب خلیجیں اور سامنے سمندری راستے ہیں۔ یہی محلِ وقوع اسے خلیج عمان، آبنائے ہرمز، مشرقِ وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور بحرِ ہند کے تجارتی راستوں کے قریب ایک غیر معمولی مقام بناتا ہے۔
آج گوادر کو بندرگاہ، سی پیک، بحری تجارت اور پاکستان کے معاشی مستقبل کے حوالے سے دیکھا جاتا ہے، لیکن قیامِ پاکستان کے وقت گوادر پاکستان کا حصہ نہیں تھا۔ اس زمانے میں پاکستان کے ساحل کے درمیان ایک غیر ملکی ریاست کا علاقہ موجود تھا۔گویا ایک گھر کا عقبی کمرہ کسی دوسرے شخص کے قبضے میں ہو۔
تاریخی پسِ منظر: گوادر عمان کے پاس کیسے گیا؟
اٹھارہویں صدی میں گوادر اور مکران کے علاقے خانِ قلات میر نصیر خان نوری بلوچ کے زیرِ اثر تھے۔ مقامی گچکی قبائل بھی اس خطے میں تاریخی سیاسی اور انتظامی حیثیت رکھتے تھے۔ خانِ قلات کے لیے دور افتادہ ساحلی علاقے پر براہِ راست کنٹرول برقرار رکھنا آسان نہیں تھا، اس لیے مقامی گچکی سرداروں کے ساتھ ایسا انتظام قائم ہوا جس کے تحت علاقے کا نظم و نسق ان کے پاس رہا، جبکہ آمدنی کا ایک حصہ خانِ قلات کو دیا جاتا تھا۔ یہ بندوبست 1783ء تک جاری رہا۔
تاریخی معاہدہ و عطا (1783ء)
1783ء میں مسقط کے شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے سلطان بن احمد (سید سلطان)، اپنے بھائی کے ساتھ اقتدار کی کشمکش کے بعد پناہ کے محتاج ہو کر قلات آئے۔ خانِ قلات میر نصیر خان نوری نے مسلم رواداری اور قبائلی پناہ کے اصول کے تحت ایک جاگیر یا امدادی بندوبست کے طور پر گوادر کی آمدنی اور وہاں قیام کا حق انہیں عطا کیا۔
تاریخی دستاویزات کا مؤقف: تاریخی ریکارڈ کے مطابق یہ زمین مستقل فروخت نہیں تھی بلکہ عارضی پناہ گاہ اور گزر اوقات کا ذریعہ تھی، اور یہ توقع کی گئی تھی کہ مسقط کا اقتدار واپس ملنے پر گوادر خانِ قلات کو لوٹا دیا جائے گا۔ بعد میں سید سلطان نے مسقط کا اقتدار دوبارہ حاصل کرلیا، لیکن گوادر واپس نہ کیا۔ عمان نے وہاں اپنے والی (گورنر) مقرر کرنا شروع کر دیے اور یوں یہ علاقہ تقریباً پونے دو سو سال تک سلطنتِ مسقط و عمان کے زیرِ اختیار رہا۔
برطانوی اثر و رسوخ کا دور
بیسویں صدی تک گوادر باقاعدہ طور پر عمانی علاقہ رہا، لیکن عمان خود برطانیہ کے شدید سیاسی، عسکری اور مالی اثر میں تھا۔ برطانیہ نے عمان کے ساتھ معاہدوں، بحری مفادات، تار گھر (Telegraph)، ڈاک، جہاز رانی اور سیاسی ایجنٹوں کے ذریعے گوادر میں نمایاں موجودگی قائم کی۔ 1863ء سے 1879ء تک گوادر برطانوی اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ کا مرکز بھی رہا۔ برطانوی مفادات کی وجہ سے خانِ قلات کے دعوے کو وہ حمایت نہ مل سکی جس کی انہیں توقع تھی۔
قیامِ پاکستان اور سیکیورٹی کے خدشات
1947ء میں پاکستان وجود میں آیا۔ بعدازاں مکران، خاران، لسبیلہ اور قلات سمیت بلوچستان کی ریاستیں پاکستان کے انتظامی ڈھانچے میں شامل ہوئیں، لیکن گوادر سلطنتِ مسقط و عمان کے پاس رہا۔ پاکستان کے طویل ساحل کے عین درمیان تقریباً 2,400 مربع میل کا ایسا غیر ملکی علاقہ تھا جس کے متعلق یہ خطرہ موجود رہتا کہ اسے کسی مخالف طاقت کے استعمال میں دیا یا فروخت کیا جاسکتا ہے۔
ملک فیروز خان نون نے بعد میں اپنی خودنوشت From Memory (چشم دید) میں گوادر کی غیر ملکی ملکیت کو ایک ایسے مکان سے تشبیہ دی جس کا عقبی کمرہ کسی اجنبی کے تصرف میں ہو اور وہ اجنبی اسے کسی دشمن کے ہاتھ فروخت کرسکتا ہو۔
1954ء میں پاکستان نے اپنے ساحلی علاقوں کا جائزہ کروایا۔ امریکی جیولوجیکل سروے سے وابستہ ماہرین نے گوادر کے ہتھوڑے کی شکل والے قدرتی ساحل کو گہرے پانی کی بندرگاہ کے لیے موزوں قرار دیا۔ اس دریافت نے گوادر کی اصل جغرافیائی اور معاشی اہمیت کو مزید نمایاں کردیا۔
گوادر اور مکران کی ساحلی آبادی صدیوں سے ماہی گیری سے وابستہ رہی ہے۔ مستند قومی و بین الاقوامی مطالعات پاکستان کے سمندری پانیوں میں زبردست حیاتیاتی تنوع بتاتے ہیں: تقریباً 250 تہہ کے قریب رہنے والی مچھلیوں، 50 چھوٹی سطحی، 15 درمیانی اور 20 بڑی سطحی اقسام کا ذکر موجود ہے۔
فیروز خان نون اور وقارالنساء نون کا سفارتی معرکہ
1956ء میں ملک فیروز خان نون نے پاکستان کے وزیرِ خارجہ کی حیثیت سے گوادر کے معاملے کو سنجیدگی سے آگے بڑھایا۔ انہوں نے تاریخی دستاویزات، خانِ قلات کے دعوے اور پاکستان کے قانونی مؤقف کا جائزہ لیا۔ ان کے دلائل کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ گوادر کسی خودمختار ملک کو مستقل طور پر فروخت نہیں کیا گیا تھا بلکہ ایک جلاوطن شہزادے کو گزارے کے لیے جاگیر کے طور پر دیا گیا تھا، لہٰذا خانِ قلات کے پاکستان میں شامل ہونے کے بعد اس پر پاکستان کا تاریخی حق پیدا ہوتا تھا۔
جب وہ دسمبر 1957ء میں پاکستان کے وزیراعظم بنے تو مذاکرات کو مزید تیز کردیا گیا۔ یہیں سے محترمہ وقارالنساء نون کا کردار نمایاں ہوتا ہے۔
وہ صرف وزیراعظم کی اہلیہ نہیں تھیں، بلکہ برطانوی معاشرے، شاہی و سفارتی حلقوں اور یورپی طرزِ گفتگو کو بخوبی سمجھتی تھیں۔ ملک فیروز خان نون نے ان کے وسیع روابط اور غیر معمولی سفارتی صلاحیت کو پاکستان کے حق میں استعمال کیا۔ محترمہ وقارالنساء نون نے لندن میں پاکستان کے مؤقف کے لیے فضا سازگار بنانے، بااثر شخصیات، برطانوی پارلیمانی حلقوں، ہاؤس آف لارڈز اور ونسٹن چرچل تک پاکستان کا مقدمہ پہنچانے اور عمان کے ساتھ برطانوی مزاحمت کم کرنے میں اہم ترین کردار ادا کیا۔
انہوں نے جنگ بندوق سے نہیں، قلم سے لڑی۔ انہوں نے مورچہ سرحد پر نہیں، لندن کی سفارتی محفلوں میں سنبھالا۔ انہوں نے گولی نہیں چلائی، دلیل چلائی—اور ایسی چلائی کہ تاریخ کا نقشہ بدل گیا۔
واپسی کا ریکارڈ: ساڑھے پانچ کروڑ کا تاریخی سودا
چھ ماہ کے اعصاب شکن مذاکرات کے بعد، برطانیہ کی ثالثی اور سہولت کاری سے سلطنتِ مسقط و عمان کے سلطان سعید بن تیمور گوادر کے حقوق پاکستان کو منتقل کرنے پر آمادہ ہو گئے۔
معاوضے کا برطانوی اور عمانی ریکارڈ
بین الاقوامی اور برطانوی سفارتی ریکارڈ کے مطابق، پاکستان نے گوادر کی منتقلی کے عوض عمان کو 3 ملین پاؤنڈ اسٹرلنگ (اس وقت کے حساب سے تقریباً ساڑھے پانچ کروڑ پاکستانی روپے) ادا کیے۔ اس رقم کا ایک بڑا حصہ سر سلطان محمد شاہ آغا خان سوم اور پرنس کریم آغا خان کے خاندان کی مالی معاونت سے فراہم کیا گیا، جو پاکستان کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہے۔
منتقلی کی دو اہم تاریخیں
8 ستمبر 1958ء (معاہدہ اور منتقلی کا اعلان): اس دن برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر محمد اکرام اللہ اور عمانی نمائندوں کے درمیان باقاعدہ معاہدے پر دستخط ہوئے اور وزیراعظم ملک فیروز خان نون نے قوم کو گوادر کی شمولیت کی خوشخبری سنائی۔
8 دسمبر 1958ء (عملی و انتظامی انضمام): بلوچستان ہائی کورٹ اور ضلعی تاریخی ریکارڈ کے مطابق، اس تاریخ کو عمانی پرچم اتار کر پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہرایا گیا اور گوادر باقاعدہ طور پر پاکستان کا انتظامی حصہ بنا۔
پاکستان نے سلطانِ عمان کی عزتِ نفس اور دوستانہ تعلقات کو برقرار رکھنے کے لیے اس تاریخی کامیابی پر جارحانہ انداز میں ملک گیر جشن نہیں منایا۔ یہی خاموشی بعد میں فراموشی بن گئی؛ قوم کو گوادر تو یاد رہا، مگر اسے حاصل کرنے والے کردار دھندلا گئے۔
آخر یہ وقارالنساء نون کون تھیں؟
ان کا پیدائشی نام وکٹوریہ تھا اور دوست انہیں ’’وکی‘‘ کہتے تھے۔ وہ جولائی 1920ء میں آسٹریا میں پیدا ہوئیں اور برطانیہ میں پرورش پائی۔ لندن میں ان کی ملاقات ملک فیروز خان نون سے ہوئی اور 1945ء میں دونوں نے بمبئی میں شادی کی۔ وکٹوریہ نے اسلام قبول کیا اور وقارالنساء نون کا نام اختیار کیا۔
تحریکِ پاکستان میں کردار: انہوں نے پنجاب میں خضر حیات ٹوانہ کی حکومت کے خلاف مسلم لیگ کی سول نافرمانی کی تحریک میں خواتین کو منظم کیا اور جیل بھی گئیں۔
سماجی خدمات و "مادرِ مہربان”: 1947ء کی تقسیم کے دوران انہوں نے مہاجر کیمپوں میں بے پناہ کام کیا۔ وہ آل پاکستان ویمنز ایسوسی ایشن (APWA) کی بانی ارکان میں سے تھیں اور پاکستان ریڈ کریسنٹ کی طویل عرصے تک سربراہ رہیں، جس کی وجہ سے انہیں "مادرِ مہربان” کا لقب ملا۔
تعلیمی خدمات: انہوں نے ڈھاکہ میں وقارالنساء نون اسکول (1952ء) اور راولپنڈی میں وقارالنساء نون کالج (1954ء) قائم کیے۔
ثقافت اور سفارت کاری: وہ 1978ء سے 1987ء تک پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن (PTDC) کی سربراہ رہیں اور 1987ء سے 1989ء تک پرتگال میں پاکستان کی سفیر مقرر ہوئیں۔
وکی نون ایجوکیشنل فاؤنڈیشن: انہوں نے اپنی وراثت سے یہ فاؤنڈیشن قائم کی جو آکسفورڈ اور کیمبرج میں پڑھنے والے ذہین پاکستانی طلبہ کو وظائف دیتی ہے۔ اب تک 230 سے زائد پاکستانی نون اسکالرز یہاں سے تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔
اکتوبر 1959ء میں حکومتِ پاکستان نے انہیں ان کی مجموعی قومی، تعلیمی، اور فلاحی خدمات کے اعتراف میں نشانِ امتیاز سے نوازا۔ 16 جنوری 2000ء کو وہ طویل زندگی اور بے مثال خدمات کے بعد دنیا سے رخصت ہوئیں اور ان کی وصیت کے مطابق انہیں ایک مسلمان کی حیثیت سے دفن کیا گیا۔






