#کالم

صرف یادیں اور کچھ بھی نہیں!!!

Untitled 14

۔ناصر نقوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آ پ دنیا کے عظیم ترین انسان ہیں کہ بدترین، طاقتور ہیں کہ کمزور ،امیر ترین ہیں کہ غریب ،صاحب منصب و اقتدارھیں کہ عام آ دمی،اس بات کی کوئی اہمیت نہیں، میری بات سے اختلاف کرتے ھوئے یکسر انکار کر دیں کہ دنیا تو ان ہی بنیاددوں پر عزت و احترام کرتی ھے ورنہ کون کسی کا؟؟؟ لیکن دنیاچار دنوں کی، پھر اندھیری رات۔۔یہ محاورہ بھی تو آ پ نے سنا ہوگا اس کا کیا مطلب ہے ؟سیانے قدم قدم پر اس بات کی نشاندہی کرتےھیں دنیا عارضی ھے جو خدا کی حاکمیت کو تسلیم کرتے ہیں وہ تو مانتے ہیں جو اسے نہیں مانتے، انہیں بھی یہ راز معلوم ہے ٫٫ہم اور آ پ،، زندگی اور عمر کو برسوں میں شمار کرتے ہیں جبکہ حقیقی مسئلہ عمر برسوں کا نہیں، سانسوں کے بندھن کاھے بڑے سے بڑے، پڑھےلکھے ،دانشور، وقت کے ارسطو، افلاطون سانسوں کی گنتی نہ کر سکے اور نہ ہی مستقبل میں ممکن ہو سکے گی اس لیے کہ قادر مطلق نے اپنی اس طاقت کو پوشیدہ راز ہی رکھا ہے موت و حیات اس کی عطا ہے جان بھی اور جہان بھی، پھر بھی آ دم زادے اپنی ظاھری حیثیت و منصب پر اتراتے نہیں تھکتے، آ نکھ اوجھل پہاڑ اوجھل ۔۔پھر کون کس کا؟؟؟لہذا حضرت انسان کو زندگی پر بھروسہ نہیں جبکہ زندگی دینے والے پر بھروسہ کرنا چاہیے کیونکہ وہی خاتمہ بالخیر کرے گا لیکن اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے بندے کو بھی خلق خدا سے بھلائی اور اپنی حیثیت ومنصب کے مطابق کچھ نہ کچھ تو کرنا ہوگا کیونکہ حقیقت میں دنیا ایک امتحان گاہ ہے یہاں بھجنے والے نے ایک پرچہ آ پ کے ہاتھ میں تھمایا ہے، اب آ پ کی مرضی آ پ اس کے مثبت جواب دیں کہ منفی، نتائج کے لیے ٫٫ یوم حشر،، مقرر ،مالک و خالق دیکھ رہا ہے اور اس نے نگرانی کے لئےدو فرشتوں کو بھی کندھے پر سوار کر رکھا ھے جس پر معروف شا عر ٫٫جون ایلیا،، کو گلہ بھی ہے ،کہتے ھیں۔۔۔
۔۔ تو اگر خود ہے خدایا میری شہ رگ سے قریب
۔۔پھر یہ شانوں پہ فرشتوں کا تکلف کیسا؟
پیدائش کے بعد زندگی نو مولود کی چند لمحات، سیکنڈز ، گھنٹوں، دنوں یا سالوں کی ھو،اس نے انجام تک پہنچنا ھی ہے یہی نظام قدرت ہے پھر بھی نسل آ دم دنیا کی رنگینیوں میں بد مست ھے یعنی سامان سو برس کا خبر کی پل کی خبر نہیں، ہم جانتے ہی نہیں دنیا کو درس بھی دیتے ہیں کہ سکندر جب دنیا سے گیا تو دونوں ہاتھ خالی تھے لیکن خود نہیں سوچتے، فاتح عالم دنیا سے کچھ نہیں لے جا سکا،تو ہماری کیا اوقات؟ھم یہ بھی جانتے ہیں کہ نہ کفن میں جیب ہے نہ قبر میں کوئی الماری،لیکن ہوس دنیا میں جائز ناجائز بٹورنے کی فکر میں 24 گھنٹے لگے رہتے ہیں مسئلہ٫٫جیو اور جینے دو،، کا ہے اور ہم صرف خود جینے اور طویل عمری کے نہ صرف خواہشمند ہیں بلکہ دوسروں کو روند نے کا بھی کوئی موقع چھوڑنے کے لیے تیارنہیں، حالانکہ طویل عمری کوئی انعام ہرگز نہیں، اگر صحت نہ ہو تو یہ خواہش بھی عذاب بن جاتی ہیں،شیر خدا حضرت علی علیہ السلام سے کسی شخص نے طویل عمری کی دعا کی درخواست کی، جواب میں مسکرا کر کہا بہت بے وقوف ہو ،جاھل اورکم عقل ھو، جب بھی طویل عمری کی خواہش کرو تو صحت کے ساتھ مانگو، ورنہ پچھتاؤ گے۔۔ دامادرسول، فاتح خیبر اپنے قافلے کے ساتھ جا رہے تھےکہ ایک قبرستان میں پڑاو ڈالنا پڑا،اس موقع پر آ پ نے کچھ اس طرح خطاب فرمایا٫٫اے شہر خموشاں کے مکینوں،تم خدا کی زمین پر بڑےغرور اور تکبر سے اکڑ اکڑ کر چلتے تھے آ ج تمہارا روعب طاقت کہاں ہے ؟تم نے دنیا میں بہت کچھ مال و دولت اکٹھاکی، کیا تم جانتے ہو؟ وہ سب کچھ کہاں گیا؟؟؟ میں بتا تا ہوں مال واسباب تمہارے پسماندگان میں تقسیم ہو گیا، یہی نہیں تمہاری شریک حیات بھی دوسروں کے عقد میں چلی گئیں،ذرا سوچئیے۔۔۔ یہ تاریخی خطاب ان مردوں کے لئےتھا کہ ھم زندوں کو راہ راست پر لانے کے ترکیب تھی؟
دنیا میں جو آ یا وہ واپس ضرور گیا جو ابھی تک موجود ہے اس نے بھی ایک روز واپسی کا سفر اختیار کرنا ہے ٫٫آ ب حیات،، پی کر اپنے آ پ کو دھوکہ دیں، پھر بھی ٫٫فیصلہ قدرت،، میں معافی کی گنجائش ہرگز نہیں، اب تاریخ کے اوراق پلٹیں، گوگل کریں، فیس بک دیکھیں ،وھاں کسی کی جائیدادیں اور باقی معاملات کے مقابلے میں صرف ان سے منسلک یادیں ہی زیادہ ملیں گی جس نے انسانیت اور اجتماعی فلاحی کام کیے انسان اور خلق خدا کے حقوق کی بات کی وہ نیلسن منڈیلا ھوں کہ عبدالستارایدھی سب سے نمایاں نظر آ ئیں گے اور جنہوں نے انسانی حقوق پامال کئے اللہ کی مخلوق پر ظلم و ستم ڈھائے ان کا بھی شماراور فہرست موجود، فیصلہ٫٫ ہم اور آ پ،، نے خود کرنا ہے ہمیں اپنا نام کس فہرست میں لکھوانا ہے اس لیے کہ ہم مٹی کے پتلوں نے آ خر کار مٹی میں ہی مل جانا ھے، باقی صرف یادیں اور کچھ بھی نہیں، سوال یہ ہے کہ پھر یہ سب کچھ کیسے ہوگا ؟ اس کا بنیادی فارمولا ایک ہے ٫٫احساس ،،جو سکھانے اور کتابوں سے نہیں ملتا نہ ھی تجربات اور مشاھدات سے پیدا کیا جا سکتا ہے یہ ایک انسانی فطرت کا تحفہ ہے کچھ لوگ اسے دنیا کی رنگینیوں اور بھول بھلیوں میں فراموش کر کے بےحس ہو جاتے ہیں یہ حقیقت ہے کہ جس نے احساس کے حساس جذبوں کو پالا وہ الفاظ، بات چیت اور اشاروں کا محتاج نہیں رھا بلکہ خاموشی کی زبان بھی خوب سمجھتا ہے اس کے برعکس لوگوں پر ہزاروں الفاظ ،بحث و مباحثہ، تقریر و تکرار بھی کو ئی اثر نہیں کرتی، ہم سے پہلی نسلیں واپس جا چکی ہیں ہمارے ارد گرد سے بھی لوگ اپنی مخصوص باری پر روز رخصت ہوتے دکھائی دے رھے ھیں اور یہ بھی ایمان کا حصہ ہے کہ باقی موج میلے میں مصروف بھی ہم سمیت سب اپنے اپنے مقررہ وقت پر سفر آ خرت پر ضرور جائیں گے پھر انتظار کس بات کا؟ آ ئیے۔۔ لمحہ موجود میں کچھ ایسا ضرور کر لیں کہ ہم تو نہیں ،یادیں باقی رہ جائیں زندگی خواہ کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو لیکن ہے محدود، لہذا اس بات کو ذہن نشین کر لیں کہ مختصراور محدود زندگی رنجشیں رکھنے، نفرتیں پالنے اور وقت ضائع کرنے کے لئے نہیں، اگر پر سکون انداز میں جینے کی تمنا ھے تو جیو مسکرا کر، مسکراو اور لوگوں کے لیے آ سانیاں پیدا کرو، محبت بانٹو، نیکی کماوء، لوگوں کی کوھتاھیوں اور کمزوریوں کو نظر انداز کر دو، جیو اور جینے دو کا آ فاقی پیغام عام کرو، اس لیے کہ آ ج نہیں تو کل ہم نے بھی اپنے حقیقی مالک کی جانب لوٹ جانا ھے مال و اسباب کی بندر بانٹ ہو گی اور کچھ بھی نہیں ، صرف یادیں باقی رہ جائیں گی
زندگی کی جمع تفریق روز اول سے جاری ہے کسی کو احساس ہے کہ نہیں روزانہ دن، گھنٹے، لمحات اور سانسیں کم ہو رہی ہیں کیونکہ نظام قدرت کا اٹل فیصلہ موت جو بر حق ھے اور اس نے اپنی وقت سے ایک لمحہ بھی پہلے یا بعد میں نہیں آ نایہ فیصلہ دنیا بنانے والے کا ہے جسے نہ کوئی تبدیل کرا سکا، نہ ہی کر سکے گا وقت کم ہے مقابلہ سخت۔۔۔ کچھ ایسا کر گزریں کہ جب صرف یادیں بچیں تو وہ ایسی یادگار اور اھم ھوں کہ کسی اپنے پرائے کو شرمند گی نہ ھو، جان جائیں کہ کچھ بھی نہیں بچے گا،بچیں گی تو صرف یادیں لہذا انہیں حسین بنائیں،

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے