عوام کے درمیان ایک گورنر
ن و القلم مدثر قدیر
سیاست میں عہدے آتے جاتے رہتے ہیں، مگر عوام کے دلوں میں جگہ صرف وہی لوگ بنا پاتے ہیں جو اختیار کو خدمت کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ہمارے ہاں اکثر یہ شکایت سننے کو ملتی ہے کہ عوامی نمائندے انتخابات کے بعد عوام سے دور ہو جاتے ہیں، ان کے دفاتر تک رسائی مشکل ہو جاتی ہے اور عام آدمی خود کو بے بس محسوس کرتا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر کوئی شخصیت اپنی ذمہ داری کو صرف آئینی منصب تک محدود رکھنے کے بجائے عوامی خدمت، مکالمے اور رابطے کا ذریعہ بنا دے تو اس کا اعتراف کرنا بھی صحافت کی ذمہ داری ہے۔
گزشتہ دنوں Credible Association of Media Persons (CAMP) کے وفد کے ساتھ گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان سے ملاقات کا موقع ملا۔ اس وفد میں راقم کے علاوہ عاصم شہزاد، آصفہ کنول اور انور خان لودھی بھی شامل تھے۔ یہ ملاقات رسمی کم اور فکری زیادہ محسوس ہوئی۔ مختلف قومی، سیاسی، معاشی، تعلیمی، سماجی اور میڈیا سے متعلق معاملات پر تفصیل سے گفتگو ہوئی اور گورنر پنجاب نے ہر سوال کا تحمل، سنجیدگی اور کھلے پن کے ساتھ جواب دیا۔
میری صحافتی زندگی میں متعدد سیاسی شخصیات سے ملاقاتیں رہی ہیں، لیکن سردار سلیم حیدر خان کی شخصیت میں جو چیز سب سے نمایاں محسوس ہوئی، وہ ان کا عوامی انداز، سادگی اور بے تکلفی تھی۔ ان کی گفتگو میں تصنع نہیں بلکہ خلوص دکھائی دیتا ہے۔ وہ سننے کا حوصلہ رکھتے ہیں اور اختلاف رائے کو بھی کشادہ دلی سے قبول کرتے ہیں۔ شاید یہی اوصاف کسی بھی عوامی نمائندے کی اصل طاقت ہوتے ہیں۔
ملاقات کے دوران پاکستان کے توانائی بحران پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ گورنر پنجاب نے پاکستان۔ایران گیس پائپ لائن منصوبے کو نہ صرف ایک معاشی منصوبہ بلکہ قومی ضرورت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ منصوبہ مکمل ہو جائے تو پاکستان کے توانائی کے تقریباً اسی فیصد مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان اور ایران کے بہتر ہوتے ہوئے تعلقات اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک سنہری موقع فراہم کر رہے ہیں۔ توانائی کے بحران سے متاثرہ ملک میں ایسے منصوبوں پر سنجیدہ پیش رفت یقیناً وقت کی اہم ضرورت ہے۔
سیاست کے حوالے سے ان کی ایک بات خاص طور پر قابلِ غور تھی کہ "اگر سیاست خلوصِ نیت سے کی جائے تو یہ عبادت سے کم نہیں۔” یہ محض ایک جملہ نہیں بلکہ سیاست کے اصل مقصد کی یاددہانی ہے۔ بدقسمتی سے ہماری سیاست میں خدمت سے زیادہ اقتدار کی کشمکش نمایاں رہتی ہے، حالانکہ سیاست کا اصل حسن عوامی خدمت، برداشت اور قومی مفاد میں پوشیدہ ہے۔
بطور چانسلر مختلف جامعات، سردار سلیم حیدر خان نے طلبہ کے مسائل پر بھی خصوصی توجہ دینے کی بات کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر کسی طالب علم کے ساتھ یونیورسٹی انتظامیہ، وائس چانسلر یا سنڈیکیٹ کی جانب سے ناانصافی ہو تو گورنر ہاؤس کے دروازے اس کے لیے کھلے ہیں۔ یہ یقین دہانی ایسے وقت میں اہمیت اختیار کر جاتی ہے جب طلبہ اکثر اپنے مسائل کے حل کے لیے مختلف دروازوں پر دستک دیتے نظر آتے ہیں۔
میڈیا سے متعلق گفتگو بھی خاصی اہم رہی۔ گورنر پنجاب نے اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ صحافت کسی بھی جمہوری معاشرے کا بنیادی ستون ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد، ذمہ دار اور باوقار میڈیا ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا مضبوط ذریعہ بنتا ہے۔ انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ موجودہ دور میں صحافی معاشی مشکلات، پیشہ ورانہ عدم تحفظ اور مختلف دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، جن کے حل کے لیے سنجیدہ اور دیرپا اقدامات ناگزیر ہیں۔ بحیثیت صحافی، میں سمجھتا ہوں کہ مضبوط جمہوریت صرف آزاد انتخابات سے نہیں بلکہ آزاد اور باوقار صحافت سے بھی قائم ہوتی ہے۔ اگر صحافی خود عدم تحفظ کا شکار ہوں تو معاشرے میں سچ کی آواز بھی کمزور پڑ جاتی ہے۔
گورنر پنجاب نے اپنی فلاحی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ مخیر حضرات کے تعاون سے مستحق افراد کی مدد کے لیے مختلف منصوبے جاری ہیں۔ ان کی یہ بات قابلِ توجہ تھی کہ عطیہ دہندگان کو یقین ہے کہ ان کی دی گئی رقم صحیح ہاتھوں تک پہنچ رہی ہے۔ اعتماد ہی کسی بھی فلاحی نظام کی بنیاد ہوتا ہے، اور جب عوام کو اس اعتماد کا احساس ہو تو خدمت کا دائرہ خودبخود وسیع ہوتا چلا جاتا ہے۔
اس ملاقات سے میری یہ رائے مزید مضبوط ہوئی کہ عوامی عہدے کا اصل وقار پروٹوکول، گاڑیوں کے قافلوں یا بلند و بالا دفاتر میں نہیں بلکہ لوگوں کی بات سننے، ان کے مسائل کو سمجھنے اور ان کے لیے دروازے کھلے رکھنے میں ہے۔ اختلافِ رائے ہر جمہوریت کا حسن ہے، لیکن اختلاف کے باوجود مکالمے کا دروازہ بند نہیں ہونا چاہیے۔ یہی رویہ مضبوط ریاستوں کی بنیاد بنتا ہے۔
آج پاکستان کو صرف بڑے منصوبوں، معاشی اصلاحات یا سیاسی نعروں کی ضرورت نہیں بلکہ ایسے عوامی نمائندوں کی بھی ضرورت ہے جو عوام سے رابطہ برقرار رکھیں، نوجوانوں کو آگے آنے کا موقع دیں، صحافت کی آزادی کا احترام کریں اور ریاستی اداروں پر عوام کے اعتماد کو مضبوط کریں۔ اگر اقتدار کے ایوان عوام کی آواز سننے کے لیے اسی طرح کھلے رہیں تو یقیناً فاصلے کم ہوں گے، اعتماد بڑھے گا اور جمہوریت بھی مضبوط ہوگی۔ یہی ایک مستحکم، باوقار اور ترقی یافتہ پاکستان کی بنیاد بن سکتا ہے۔






