#کالم

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے تعلیم کے شعبے میں لوٹ مار۔

Untitled 13

(شاہد بخاری)
مولانا ظفر علی خاں فاؤنڈیشن میں زیر صدارت خالد محمود صاحب حکیم راحت نسیم سوہدروی نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک میں بجٹ کی سب سے زیادہ رقم تعلیم کے لئیے رکھی جاتی ھے لیکن اس
پر پاکستان میں سب سے کم رقم مختص کی جاتی ھے اوروہ بھی خوردبرد کر لی جاتی ھے، جس کی تفصیلات گیسٹ سپیکر سیاسی و سما جی رہ نما ثروت روبینہ بتلائیں گی۔
ڈاکٹر شفیق جالندھری نے کہاکہ برائے تعلیم جو نا کا فی رقم رکھی جاتی ھے وہ انفرا سٹرکچر پر لگ جاتی ھے اور باقی سیلاب زدگان وغیرہ کی بحالی پر صرف کردی جاتی ھے۔
متعدد کمیٹیز کی رکن درد مند کالم نگار ثروت روبینہ نے کہا کہ:
رکھیو غالب مجھے اس تلخ نوائی پر معاف
آج کچھ درد میرے دل میں سوا ھوتا ھے
جنرل ضیاء الحق کی وفات کے بعد پیپلز پارٹی نے کالا باغ ڈیم پر کام رکوا دیا،جبکہ سندھ طاس منصوبے کے تحت اسے تر بیلا ڈیم سے پہلے بننا چاہئیے تھا۔ڈیمز کی 3600 میگاواٹ سستی بجلی ھم نے اپنے گرڈ سے نکال کر IPPS نجی بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کے حوالے کر دی،جن سے معا
ھدوں کے خمیاز ے ھم سب بھگت رھے ھیں۔
امریکی پروفیسر ایڈم کرل جو حکومت پاکستان میں تعلیمی منصوبہ بندی کے مشیر رھے ھیں نے اپنی کتاب میں لکھا ھے کہ پاکستان میں بیو رو کریسی و سیاسیت دان تعلیم کی
راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ھیں۔ بیوروکریسی کو یہ خوف ہے کہ تعلیم عام ہونے سے بے روزگاری پھیلے گی ۔سیاست دانوں کو یہ خدشہ ہے کہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی وجہ سے ان کا ووٹ بینک کم ہو جائے گا۔ 1993 میں جاپان نے اربوں روپے کی غیر مشروط رقم واشنگٹن میں (IDA) انٹر نیشنل ڈیویلپ مینٹ ایجنسی کے ذریعے پاکستان سیکنڈری ایجو کیشن ریفارمز پروجیکٹ کے لیے دی۔ ھونا تو یہ چاہیے تھا کہ سیا سی وابستگیوں سے بالا تر ہو کر تمام مکاتب فکر ماہرین اور سکالرز نظام تعلیم میں انقلابی تبدیلیاں لاتےلیکن ملکی ماہرین کی سابقہ کارکردی کو دیکھتے ہوئے اور اپنے آئندہ منصوبے کے تحت وا شنگٹن انتظامیہ نے پاکستان کے چاروں صوبوں اور وفاق کا محکمہ تعلیم، بیرونی ماہر ین اور ورلڈ بینک کی نگرانی میں ایسا دیا کہ اب کوئی سفارش ان کی منظوری کے بغیر قابل قبول نہیں ہو سکتی۔
ملکی تعلیم کو ناقص قرار دیتے ہوئے پاکستانی تعلیمی ڈھانچے کو امریکی تعلیمی ڈھانچے کے نمونے پر استوار کرنے کا فیصلہ کیا گیا کیونکہ نیو ورلڈ آرڈر کے مطابق” چوں کہ تم کچھ کر نہیں سکتے اس لیے ہم انتظام سنبھالیں گے اور تمہیں اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی”۔
فاضل سپیکر نے کہا یکم اپریل 1994 کو پنجاب حکومت نے جماعت اول سے انگریزی لازمی کا اعلان کر دیا یوں ہم نے قومی غیرت احساس ملت خود مختا ری و عزت نفس ڈالرز اور پاؤنڈز کے بدلے میں گروی رکھ دی۔US AIDامریکہ نے زیادہ تر گرانٹس دیں۔ اس کے منصوبوں میں سکولوں کی بہتری اساتذہ کی تربیت اور تعلیمی مواد شامل ہے۔ اسلامک ڈیویلپمنٹ بینک، جاپان انٹرنیشنل کو آ پریٹو ایجنسی ،یورپی ممالک، برطانیہ،جرمنی کینیڈا اور نیدر لینڈ وغیرہ نے بھی
مختلف ادوار میں تعاون کیا اقوام متحدہ کے ادارے ہ ,UNESCO,Unicef
ہUDPبھی مدد کرتے رھے۔
پنجاب سب سے زیادہ قرض لینے والا صوبہ ہے ۔اس کے بعد سندھ کا نمبر ہے۔ بھارت میں پاکستان کی نسبت بہت کم تعلیم کی مد میں قرضہ لیا گیا۔ انہوں نے اپنے وسائیل پر انحصار کرتے ہوئے تعلیمی میدان میں بہتر نتائج حاصل کیے ہیں۔بنگلہ دیش نے بھی کم پیسوں میں بہتر نتائج حاصل کر لیے ھیں،جبکہ ہم نے اربوں ڈالر کا قرضہ تعلیم کی مد میں اٹھایا تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم ناکام کیوں ہوئے؟قرض کی رقم کتنی ہے؟ کس منصوبے پر خرچ ھوئی؟ نتائج کیا نکلے؟ واپسی کی شرائط کیا ھیں؟قرض کے ساتھ پا لیسی کیا آئی ہے؟
یہ معلومات عوام کو دستیاب ہونی چاھئیں۔
حب الوطنی کا تقاضہ یہ ہے کہ قرض کی رقم کو ایماندا ری اور ذمہ داری سے خرچ کریں اور کم خرچ میں بہتر نتائج حاصل کیے جائیں۔ہو یہ رہا ہے کہ اربوں ڈالرز کے قرضے اور تعلیمی نظام، زیرو۔آخر وہ پیسے کہاں خرچ ھو رھے ہیں؟
یا پھر اس پر بھی استثنا حاصل ہے؟
تعلیم کی مد میں ملنے والے قرض کا غیر ضروری استعمال بد دیانتی، اقربا پروری کمیشن ،قرضوں کا حجم بڑھانے کے سوا کچھ بھی نہیں۔
سابق V.C,خالد محمود،
پروفیسر تنویر صادق،و دیگر کے سوالات کے جوابات میں ثروت روبینہ نے کہا کہ غیر ملکی ماہرین کو ڈالرز میں تنخواہیں دی جا رہی ہیں۔ مشرف دور میں سکولوں کی مانیٹرنگ کے لیے MEO جو کہ ریٹائرڈ فوجی تھے بھرتی کیے گئے قرض کے پیسوں سے تنخواہوں کا غیر ضروری بوجھ اٹھایا گیا،جو صرف فوج میں نچلے درجے تک سے اپنی حمایت حاصل کرنے کے لیے تھا، جب سکولوں کی نگرانی فوجی اور سویلینز دونوں کر رہے ہیں تو پھر سکول ناکام کیسے ہوئے ؟سکولوں کو اؤٹ سورس کیا جا رہا ہے قرض کی اس رقم سے مفت کتابوں کا شو شہ چھوڑا گیا ۔کاغذوں میں
شو کئے گئے انگریزی سکول حقیقت میں اردو میڈیم سکول تھے، وھاں جو مفت کتابیں دی جاتی تھیں،وہ انگریزی میں تھیں جسے اساتذہ اور بچے پڑھنے اور بڑھا سے قاصر تھے۔ بچے انگریزی نصاب ضائع کر دیتے اور اردو میں نئی کتابیں بازار سے خود خریدتے اس طرح مفت کتابوں کی 4سو بیسی میں بچوں کو تو کوئی فائدہ نہ ہوا ہاں البتہ کتابیں چھاپنے والوں، وزیروں مشیروں نے کمیشن کی مد میں نوٹ کمائے ۔2009/10میں کہا گیا کہ سرکاری سکولوں میں فی بچہ 2000 روپے کا خرچہ ہے جبکہ پیف PPPکے سکولوں میں فی بچہ 450 روپے ہے.(ان کی اور دانش سکولوں کی کار کردگی بخوف طوالت درج نھیں کر رھا) جنھوں نے کمال عیاری سے علم کی راہ میں کانٹے بچھائے۔ مشرف کے دور میں زیادہ تیز ی آؤٹ سورسنگ نے دکھائی ۔ریلوے کے بڑے بڑے سکولز صرف پانچ ہزار ماھانہ کرائے پر اؤٹ سورسنگ کے ذریعے حاصل کیے گئے۔PPP پبلک، پرائیویٹ،پارٹنر شپ میں جعلی داخلے، جعلی ٹیچر، جعلی نتائج۔ لمبے قرض اور لمبے ڈکار۔ ۔بین الاقوامی مطالعات میں پنجاب کا موجودہ آؤٹ سورسنگ پروگرام دنیا کے سب سے بڑے سرکاری سکول آؤٹ سورسنگ تجربات میں شمار کیا جاتا ہے۔
پوری دنیا میں کوئی ایک بھی ایسا ملک نہیں جس نے اپنا پورا سرکاری نظام تعلیم،ٹھیکے پر دے دیا ہو یہ حیرت انگیز بات ہے کہ ہم نے کس طرح خود کو اس خطرناک تجربے کے لیے پیش کر دیا اور آنے والے کل میں ہم اس کے سنگین نتائج بھگتیں گے۔ میں پورے وثوق سے یہ دعویٰ کرتی ہوں سکولوں کی آؤٹ سورسنگ سے تعلیمی نظام مفلوج ہو جائے گا۔ نظام تعلیم تباہ اور تعلیمی معیار گر جائے گا۔میرٹ کا ڈھونگ رچا کر پیسے لے لے کر آؤٹ سورسنگ کی جا رہی ہے۔
آج اساتذہ یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر سکولوں کی حالت ناگفتہ بہ ھے تو اربوں ڈالر کا قرضہ کہاں خرچ ہو رہا ہے؟ اساتذہ کو "ٹوٹی چور اور پنکھا چور” کہنے سے پہلے نظام تعلیم کی مد میں لئیے جانے والے قرضے کا حساب کیا جائے اور ان معاہدوں کو بھی پبلک کیا جائے جو حکومت نے اندر کھاتے کر رکھے ہیں۔ اربوں ڈالر کا قرضہ دینے کے باوجود سکولوں میں نہ ٹیچرز پورے ھیں نہ پینے کا پانی دستیاب ھے، نہ بیت الخلا وغیرہ۔۔ تو وہ اربوں ڈالرز کہاں صرف ہوئے؟کیا خیرپور کے اس چڑیا گھر کی طرح خرچ ہو گئے جو کہ سرے سے موجود ہی نہیں تھا”PEF,PPPسکولز
کی چند وڈیوز ثبوت کے طور پر پردہ سکرین پر دکھلائی گیئں،جہاں بجائے
سٹوڈنٹس کے مویشی گھوم رھے تھے ۔کاھنہ لاہور
کی وڈیو میں وہ سکول بھی دکھلایا گیا جو دس سال سے بند ھے،اس لیے بچے اس Pvt ٹیوشن سینٹر میں پڑھنے مجبوراً گئے،
جس کی چھت گرنے سے طالبان علم زخمی یا شھید ھوئے۔

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے تعلیم کے شعبے میں لوٹ مار۔

ابو ! آپ کے پاس پیسے ہیں

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے