آنکھ جو کچھ دیکھتی ہےچھنال و دیگر افسانے
( شاہد بخاری)
پنجاب یونیورسٹی لائیبریری بک کلب کے زیر اہتمام 2018سے پنجاب یونیورسٹی لائبریری اوڈی ٹوریم میں ھر ماہ کے دوسرے بدھ کو کتب پر جائزہ لینے کا سلسلہ ڈاکٹر ھارون عثمانی چیف لائبریرین نے شروع کیا تھا اس بارسیشن میں انسٹی ٹیوٹ آف انگلش سٹڈیز کے پروفیسر ڈاکٹر شاہ زیب خان نے Byung Chul Han کی بین الاقوامی سطح پر شہرت یافتہ کتاب The sceant
ہ۔Of Time پر ایک بصیرت انگیز سیر حاصل گفتگو پیش کی ۔ انھوں نے کتاب کی فلسفیانہ تحقیق ، جدید معاشرے ،وقت کے ادراک اور عصر یہ دنیا میں تیز رفتار ی کے بڑھتے ھوئے کلچر پر روشنی ڈالتے ھوئے وقت کی رفتار اور ڈیجیٹل
خلفشار کے غلبے والے دور میں زندگی کے ساتھ اس کی عکاسی ،غوروفکر اور با معنی مشغولیت کی اھمیت پر زور دیا۔
بعد ازاں ڈاکٹر ھارون عثمانی نے” چھنال ودیگر افسانے” کے مصنف کا تعارف کراتے ھوئے کہا کہ کراچی کے اقبال خورشید فکشن نگار،انٹر ویو کار،کالم نویس،اور فلم کریٹک کے طور پر شنا خت رکھتے ھیں ۔پیشہ ورانہ سفر میں وہ معتبر روز ناموں اور میڈیا گروپس سے وابستہ رھے۔ملکی و بین الاقوامی شخصیات کے ھزار کے لگ بھگ انٹرویوز کر چکے ہیں ۔ان کے منتخب انٹرویوز "فکشن سے مکالمہ”کے زیر عنوان شائع ھو چکے ھیں۔قبل ازیں ان کے دو ناولٹ "تکون کی چوتھی جہت،اور گرد کا طوفان "شائع ھو کر ناقدین اور قارئین کی توجہ اور پذیرائی حاصل کر چکے ھیں”۔اجرا” کراچی کے مدیر ھیں ۔انھوں نے”ون منٹ سٹوری”کے زیر عنوان صحا فتی کہانیوں کا تجربہ کر
رکھا ھے جو جنگ میں چھپ رھی ھیں۔
ان کے افسانوں کے مجموعے کا انتساب ھے،
"موت کے نام جو شہر کے رگ وپے میں سرسرا رھی ھے”۔پیش لفظ شیو کمار کا مختصر سا ھے جو حسب حال ھے۔”زندگی سلو سوسائڈ ھے،ھم سب آرام سے مر رھے ھیں اور یہ ھر انٹیلکچوءل کے ساتھ ھو گا جو بھی با شعور ھے،اسکے ساتھ یہ ٹریجڈی رھے گی،
وہ مر رہا ہے ہر پل”
عرفان جاوید کا طویل دیباچہ قابل مطالعہ ھے۔
اقبال خورشید نے اس مجموعے کا انتساب اگرچہ موت کے نام کیا ھے،اس کے باوجود ان کے افسانے زندگی سے بھروا ں ھیں۔ موت سے مملو نھیں ۔ان میں مختلف طرز و انداز کے زندہ کردار ھیں،زندگی سے بھر پور کہانیاں ھیں۔رنگا رنگ ماحول، منفرد اور اچھوتے خیالات ھیں،جس کا اندازہ افسانہ”جب ایک اردو ادیب کو نوبیل انعام ملا”پڑھ کر لگایا جاسکتا ھے ،جس کی ریڈنگ عمدگی سے ڈاکٹر عثمانی نے کی،جس کا حا صل مطالعہ نذر قارئین ھے:
لٹریچر کے نوبیل کے لیئے اردو کا ایک ادیب جب شارٹ لسٹ ھوا تو یورپین ناقدین نے اس نامزدگی کو خوش آئند ٹھہرایا ۔جب اس اعلان کی بازگشت ان علاقوں تک پہنچ جہاں اردو
لکھی پڑھی،بولی اور سمجھیں جاتی ھے تو وھاں کے باسیوں نے اس طرح حیرت کا اظہار کیا۔۔۔۔”یہ شخص کون ھے؟کہاں رھتا ھے ،کیابیچتا ھے؟آج سے پہلے تو اس کا ذکر نہیں سنا”۔T.v چینلز نے اس بوڑھے آدمی کو لاھور کے ایک قدیم گنجان علاقے سے ڈھونڈ نکالا۔پیکیج تیار کئے جن سے اندازہ ھو ا کہ
تین عشرے قبل اس کا ڈنکا بجتا تھا مگر ریٹائرمنٹ کے بعد سرکاری تقریبات قصہء ماضی ھوئیں اور وہ خبروں کے مرکزی دھارے سے کٹ گیا ۔۔۔۔البتہ میلوں ٹھیلوں ادبی کانفرنسوں،سیمینارز میں وہ شرکت کیا کرتا تھا۔
۔۔۔اب صورت حال مختلف تھی تو ان کے انٹرویوز کا اھتمام کیا گیا ،خبر نامے میں جگہ دی گئی ۔۔۔۔پرگرام پرو ڈیوسرز نے فیصلہ کیا کہ اس کے ھم عصروں سے بھی رائے لی جائے۔۔۔۔”جناب
ان کا تو ادبی نظریہ ھی واضح نھیں ۔۔۔زبان لکھنی نھیں آتی،بس لابنگ کے آدمی ھیں”۔۔۔مزید یہ کہ
"لبرل ھیں،امریکہ میں مقیم
ایک مترجم مل گئی،کچھ چیزوں کا ترجمہ ھو گیا،نام بن گیا،ورنہ ان کے ادب میں دم نھیں "…ایک صاحب نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ان کا بیشتر فکشن ایک گمنام عرب ادیب کا سرقہ ھے۔ ھے۔”بس وھی پرانا چورن بیچ رھے ھیں”ایک ریٹائرڈ بیوروکریٹ نے انگریزی میں کالم لکھ مارا۔”مغرب کو مجھ سے زیادہ کوئی نھیں
جانتا۔۔یہ کسی مسلمان کو ایوارڈ نھی۔ دیں گے”
چند روز بعد جب کمیٹی نے اردو ادیب کو نوبیل انعام کا حقدار قرار دے دیا، تو ھم عصروں نے اس کے خلاف محاذ بنا لیا۔ان کے ایوارڈ کو اردو ادب کے ساتھ نا انصافی قرار دیتے ھوئے ۔۔یہ انکشاف فات کیئے۔۔۔”ان سے زیادہ کام تو گجرات کے لائیبریرین کا ھے”..”موصوف سے زیادہ قابل ھماری مسجد کے امام صاحب ھیں”…اور تو اور۔۔
"میری بیٹی ان سے اچھی شاعری کرتی ھے”
جب پڑوسی ملک کے وزیر ثقافت نے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے بوڑھے ادیب کو اپنے ھاں مدعو کرنے کا اعلان کیا اور بتلایا کہ اس کے فکشن کا اصل موضوع اور محور وہ علاقہ ھے،جہاں وہ ھجرت سے قبل مقیم تھا۔۔۔اور۔۔یہ کی وہ بین المذاھب بھائی چارے کا پرچارک ھے۔۔۔
تب سرکار کو یکدم یاد آگیا کہ یہ شاطر ماضی میں کمیونسٹ پارٹی کا عہدے دار رہ چکا ھے۔۔۔اور سنا ھے کہ ایک تقریب میں اپنی ضعیفی کی آڑ میں،قومی ترانے پر کھڑا نھیں ھوا تھا۔۔۔ایسے شخص کو سب سے بڑا ایوارڈ دینے کا مقصد اس ریاست کے نظریاتی تشخص کو مجروح کرنا ھے۔ نیم مذ ھبی،نیم سیاسی ،تنظیموں نے ایک میٹنگ میں فیصلہ کیا کہ یہ ایوارڈ ملک کے خلاف سازش ھے۔۔۔۔
بزرگ ادیب کو سمجھا دیا گیا کہ آپ یہ ایوارڈ واپس کر دیں۔۔سرکار نے اعلان کیا کہ ادیب کی خدمات کے اعتراف میں ایک مقامی ایوارڈ اور99ھزار کیش بھی ان کو دیا جائے گا۔
ادیب نے نوبیل کمیٹی کو خط لکھا”آ پ نے میری صلاحیتوں کا اعتراف کیا شکریہ ۔۔۔میرے ھموطنوں کی مجھ سے محبت ھی میرا اصل اعزاز ھے۔۔۔۔میں یہ ایوارڈ واپس کرتا ھوں۔ اور یوں نوبیل کمیٹی کی اردو کے خلاف سازش نا کام ھوئی ۔ادیب کی وفات کے بعد ایک لنگر خانہ ان سے موسوم کر دیا گیا۔






