#چیف ایڈیٹر

پنجاب میں امن ،برداشت اور ہم آہنگی کی ننی سمت

SAFDAR ALI KHAN 1 1

تحریر۔۔۔صفدر علی خاں

تاریخ گواہ ہے کہ قومیں صرف معاشی ترقی سے عظیم نہیں بنتیں بلکہ ان کی اصل شناخت امن، برداشت، قانون کی حکمرانی اور فکری اعتدال سے قائم ہوتی ہے۔ بلند و بالا عمارتیں، جدید شاہراہیں اور ترقیاتی منصوبے کسی ریاست کی ظاہری تصویر تو بدل سکتے ہیں، لیکن اگر معاشرے میں نفرت ، تعصب اور تشدد کو جگہ مل جائے تو ترقی کا یہ سفر زیادہ دیر قائم نہیں رہتا۔ پائیدار ترقی کا راستہ ہمیشہ امن ، مکالمے اور باہمی احترام سے ہو کر گزرتا ہے۔جب کسی معاشرۓ میں انتہا پسندی اور تشدد پر مبنی سوچ پروان چڑھتی ہے تو اس کے منفی اثرات صرف امن وامان تک محدود نہیں رہتے بلکہ تعلیم ،معیشت ،سرمایہ کاری اور سماجی استحکام بھی متاثر ہوتے ہیں ۔ آج پوری دنیا انتہا پسندی ، نفرت انگیز بیانیے ،جھوٹی معلومات اور سماجی تقسیم جیسے چیلنجز سے نبرد آزما ہے ۔پاکستان بھی ان اثرات سے مکمل طور پر الگ نہیں ہے ۔اسی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوۓ پنجاب حکومت کا یہ خوش آئند قدم ہے کہ ہوم ڈیپارٹمنٹ کے تحت "پنجاب سنٹر آف ایکسلنس آن کاونٹر وائلنٹ ایکسٹریمزم ” جیسا ادارہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔جس کا مقصد محض شدت پسندی کے خلاف ردعمل دینا نہیں بلکہ اس کے اسباب کو سمجھنا ، معاشرۓ میں برداشت اور اعتدال کو فروغ دینا اور مستقبل کی نسلوں کو ایک مثبت سمت فراہم کرنا ہے۔اس ادارے کی سرپرستی متحرک ترین وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف فرما رہی ہیں، جبکہ صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق وائس چیئرمین کے طور پر اس کی رہنمائی کر رہے ہیں۔ ادارے کے چیف کوآرڈینیٹر آفیسر غلام صغیر شاہد اپنی ٹیم کے ساتھ تحقیق، تربیت، آگاہی اور سماجی روابط کے ذریعے اس قومی مقصد کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ وہ ایک منظم، باصلاحیت اور علم دوست منتظم کے طور پر جانے جاتے ہیں اور یہی خصوصیات اس ادارے کی فعالیت کے مستقبل میں بھی جھلکتی ہیں۔غلام صغیر شاہد ایک بہت وضعدار اور محنتی ہونے کے ساتھ ساتھ علم دوست شخصیت کے بھی مالک ہیں جو یقینا” اس ادارۓ اور صوبہ پنجاب کی خوش قسمتی ہے کہ اسے یہ ادارہ اور اس کو چلانے کے لیے بہترین لوگوں کی قیادت اور ٹیم میسر آئی ہے ۔ یہ ادارہ اس تصور کے ساتھ کام کر رہا ہے کہ انتہا پسندی کا مقابلہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذریعے نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا کیونکہ برداشت کا فروغ ہی مضبوط معاشرۓ کی بنیاد ہوتی ہے ۔

اس ادارے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس نے امن کے تصور کو صرف سیکیورٹی کے دائرے تک محدود نہیں رکھا۔ اس کے نزدیک انتہاپسندی کا مقابلہ صرف قانون نافذ کرنے والے ادارے نہیں کر سکتے، بلکہ اس کے لیے تعلیمی اداروں، جامعات، علما، میڈیا، سول سوسائٹی، والدین، اساتذہ ، نوجوانوں اور خواتین کو بھی اپنا مؤثر کردار ادا کرنا ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف سیمینارز، مکالموں ، تربیتی پروگراموں اور تحقیقی سرگرمیوں کے ذریعے نوجوانوں میں تنقیدی سوچ ، برداشت ، قومی ذمہ داری اور مثبت طرزِ فکر کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ انتہاپسندی اچانک جنم نہیں لیتی بلکہ عدم برداشت ، جہالت ، تعصب ، غلط معلومات اور مکالمے کے فقدان سے آہستہ آہستہ پروان چڑھتی ہے۔ اگر معاشرے میں اختلافِ رائے کو دشمنی سمجھا جائے اور دلیل کی جگہ نفرت لے لے تو شدت پسندانہ سوچ کے لیے راستے ہموار ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے ایسے اداروں کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے جو صرف ردِعمل نہیں بلکہ فکری اور سماجی سطح پر دیرپا حل تلاش کرتے ہیں۔اس لیے ایسے ادارۓ کا قیام موجودہ حالات میں وقت کی اہم ترین ضرورت ہے جسے اعتدال ، برداشت اور امن کی جانب ایک موثر قدم قرار دیا جاسکتا ہے اور جو انتہا پسندی کے خلاف ایک فکری محاذ بن سکتا ہے ۔ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اوراس کی اکثریت امن ، رواداری اور بھائی چارے پر یقین رکھتی ہے ۔ یہی ہماری قومی شناخت بھی ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ان مثبت اقدار کو منظم انداز میں نئی نسل تک منتقل کیا جائے تاکہ وہ سوشل میڈیا کے غیر ذمہ دارانہ مواد ، جھوٹے بیانیوں اور نفرت انگیز پروپیگنڈے سے متاثر ہونے کے بجائے تحقیق ، دلیل اور شعوری سوچ کو اپنا شعار بنائیں۔ یہ امر بھی قابلِ تحسین ہے کہ ادارہ مختلف سرکاری و نجی اداروں، جامعات اور قومی و بین الاقوامی ماہرین کے ساتھ روابط استوار کر کے ایسے پروگرام ترتیب دے رہا ہے جو نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کریں اور انہیں نفرت کے بجائے مکالمے ، برداشت اور قومی ذمہ داری کا شعور دیں۔حقیقت یہ ہے کہ امن صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ والدین، اساتذہ، علما، میڈیا اور سماجی کارکن اگر اپنی اپنی ذمہ داریاں ادا کریں تو انتہاپسندی کے رجحانات کو مؤثر انداز میں کم کیا جا سکتا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ امن کی حفاظت صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں ہوتی۔ والدین گھر میں، اساتذہ درسگاہوں میں، علما منبر و محراب سے، میڈیا اپنے پلیٹ فارم پر اور ہر باشعور شہری اپنے کردار سے معاشرے کو مثبت سمت دے سکتا ہے۔ جب اجتماعی ذمہ داری کا یہ احساس بیدار ہو جائے تو انتہاپسندی کے لیے زمین خود بخود تنگ ہونے لگتی ہے۔نفرت ، عدم براشت اور انتہا پسندی سے اعتدال پسندی تک کا یہ سفر انفرادی اور اجتماعی دونوں سطح پر بھر پور توجہ اور کوششوں کا متقاضی ہے ۔ہمیں پوری قوم کو یہ باور کرانا ہو گا کہ قوموں کا مستقبل صرف ہتھیاروں یا ٹیکنالوجی ہی سے نہیں بلکہ ان ذہنوں سے محفوظ ہوتا ہے جنہیں برداشت ،علم اور مکالمے کی روشنی میسر آتی ہے ۔ وقت کا تقاضا ہے کہ پنجاب سینٹر آف ایکسلنس آن کاؤنٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریمزم کی تحقیقی، تربیتی اور آگاہی پر مبنی سرگرمیوں کو مزید وسعت دی جائے تاکہ برداشت ، قانون کی پاسداری ، اختلافِ رائے کے احترام اور قومی یکجہتی کی ثقافت مزید مضبوط ہو۔ آخرکار ایک مضبوط اور ترقی یافتہ پاکستان کی تعمیر صرف معاشی منصوبوں سے نہیں بلکہ ایسے باامن ، باشعور اور ذمہ دار شہریوں سے ممکن ہے جو اختلاف کو تصادم نہیں بلکہ مکالمے کے ذریعے حل کرنے پر یقین رکھتے ہوں ۔ یقینا” یہی سوچ مستقبل کے پاکستان کی حقیقی بنیاد اور ہماری اجتماعی کامیابی کی ضمانت ہو سکتی ہے۔یاد رہے کہ امن کوئی اتفاق نہیں بلکہ مسلسل تربیت ،اجتماعی شعور اور مشترکہ ذمہ داری کا حاصل ہوتا ہے ۔

پنجاب میں امن ،برداشت اور ہم آہنگی کی ننی سمت

10/07/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے