” قائدِ روحانی انقلاب "
حروف بے زباں مرزا رضوان
برصغیر پاک و ہند کی سرزمین ہمیشہ سے روحانیت کا مرکز رہی ہے۔ اس خطے میں سینکڑوں اولیاء اللہ نے اپنی ذات کو فنا کر کے انسانیت کو قرب الہی،عشق رسول اور بقا کا درس دیا ہے۔ برصغیر پاک و ہند کو دین اسلام کی شمع سے روشناس کرنے کا سہرا بھی بزرگان دین اور اولیاء اکرام کے ہی سر ہے ، جنہوں نے دین اسلام کی حقیقی روح کی بنیاد پر معاشرے میں امن و محبت، بھائی چارے کے فروغ اور اپنے اعلی اخلاق و کردار سے پورے خطے کو منور کیا، انہی بزرگان دین اور اولیاء اکرام نے وطن عزیز پاکستان کے قیام میں بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ علیہ کے شانہ بشانہ عملی خدمات پیش کیں، انہی بزرگان دین نے برصغیر پاک و ہند کے تمام مذاہب کے پیروکاروں کو اللہ وحدہ لا شریک اور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے سچی محبت سے روشناس کرتے ہوئے دین اسلام میں داخل کیا، انہی اولیاء اللہ نے معاشرتی بیماریوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں اپنا کلیدی کردار ادا کرتے ہوئے تمام مذاہب اور مسالک کیلئے ایک پرامن معاشرے کی بنیاد رکھی۔ معاشرے کو بے راہ روی سے بچاتے ہوئے اللہ رب العزت اور اس کے پیارے حبیب خاتم النبیین نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پکی اور سچی محبت کو ان کے دلوں بسانے اور دین اسلام کے راستے پر گامزن کرنے والے انہی درخشاں ستاروں میں ایک نمایاں نام پاکستان کے شہر فیصل آباد کے "قائدِ روحانی انقلاب” صوفی مسعود احمد صدیقی المعروف لاثانی سرکارؒ کا بھی ہے۔ آپ کی ذاتِ گرامی محض ایک روحانی پیشوا کی نہیں، بلکہ ایک ایسی تحریک کا نام ہے جس نے دورِ حاضر کے مادیت پرست معاشرے میں انسانیت، اخوت، حب الوطنی اور عشقِ مصطفیٰ ﷺ کا پیغام عام کیا۔ آپ کا مشن محض عبادات تک محدود نہ تھا بلکہ آپ نے معاشرتی اصلاح اور پاکستان کے استحکام کو بھی اپنی دعوت کا اہم جزو بنایا۔قائد روحانی انقلاب صوفی مسعود احمد صدیقی لاثانی سرکارؒ کی حیاتِ مبارکہ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ بچپن ہی سے ایک درویش صفت طبیعت کے مالک تھے۔ آپ کی شخصیت میں ایک ایسا تقدس اور وقار تھا جو آپ کو اپنے ہم عصروں سے ممتاز کرتا تھا۔ آپ نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ اللہ کی رضا اور اس کے بندوں کی خدمت کے لیے وقف کر دیا۔ آپ کے والدین نے آپ کی تربیت میں قرآنی تعلیمات ، خوف خدا، انسانیت سے محبت اور اسلامی اقدار کا خاص خیال رکھا، جس کا اثر آپ کی جوانی اور بعد کی زندگی میں واضح دکھائی دیتا تھا۔ آپ نے روحانیت کے پیچیدہ راستوں کو اس طرح آسان کر کے بیان کیا کہ عام آدمی بھی اس سے مستفید ہو سکا۔قائد روحانی انقلاب صوفی مسعود احمد صدیقی لاثانی سرکارؒ کی سب سے بڑی خدمت معاشرتی اصلاح ہے۔ آپ کا ماننا تھا کہ ایک صحت مند معاشرہ ہی مضبوط ریاست کی بنیاد ہو سکتا ہے۔ آج کے معاشرے میں جو بگاڑ پیدا ہوا ہے، اس کی بنیادی وجہ اخلاقی گراوٹ، دین اسلام کی حقیقی روح سے دوری ہے۔ وطن عزیز پاکستان کے مانچسٹر فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے قائد روحانی انقلاب صوفی مسعود احمد صدیقی لاثانی سرکارؒ نے اپنی تمام تر توجہ اس بات پر مرکوز رکھی کہ انسان کے دل کو دنیا کی محبت سے خالی کر کے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت سے آباد کیا جائے۔آپ نے اصلاحِ معاشرہ کے لیے آپ نے اپنے مریدین اور عقیدتمندوں کو سکھایا کہ اسلام صرف نماز، روزہ کا نام نہیں بلکہ حسنِ اخلاق کا نام ہے۔ آپ کے وعظ و نصیحت کا مرکز ہمیشہ یہ رہا کہ اپنے معاملات کو درست کرو تاکہ معاشرے میں بگاڑ ختم ہو۔آپ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ مخلوق کی خدمت ہی خالق کی قربت کا بہترین ذریعہ ہے۔ آپ نے غریبوں، یتیموں اور بے سہارا لوگوں کی مدد کے لیے ایک ایسا نظام ترتیب دیا جو آج بھی خدمتِ خلق کے طور پر جاری ہے۔آپ نے حرام رزق، سود، جھوٹ، دھوکہ دہی، اور ظلم کے خلاف آواز بلند کی اور عوام کو ان برائیوں سے بچنے کی تلقین کی۔آج کے دور میں نوجوان نسل سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور مغربی ثقافت کے طوفان نے نوجوانوں کو اپنے نظریے اور مقصدِ حیات سے دور کر دیا ہے۔ لاثانی سرکارؒ نے نوجوانوں کو اس بے راہ روی سے نکالنے کے لیے ایک ٹھوس لائحہ عمل پیش کیا۔ آپ نے فرمایا کہ جب تک نوجوانوں کے دلوں میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کا بیج نہیں بویا جائے گا، تب تک وہ فکری گمراہی سے نہیں بچ سکتے۔آپ نے نوجوانوں کو دعوتِ فکر دی کہ وہ اپنی توانائیوں کو مثبت کاموں میں صرف کریں۔ آپ نے ان کے دلوں میں حب الوطنی اور دین کی خدمت کا جذبہ بیدار کیا۔ آپ کی روحانی تربیت کا خاص پہلو یہ تھا کہ آپ نے نوجوانوں کو "نفسِ امارہ” کے خلاف جنگ لڑنا سکھایا۔ جب ایک نوجوان کا باطن اللہ کی یاد سے منور ہوتا ہے، تو پھر وہ بیرونی اثرات سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ آپ نے نوجوانوں کو سکھایا کہ وہ خود کو پہچانیں، اپنے رب کو پہچانیں، اور اپنے ملک کے لیے مفید شہری بنیں۔
قائدروحانی انقلاب صوفی مسعود احمد صدیقی لاثانی سرکارؒ کا پاکستان سے عشق ڈھکا چھپا نہیں تھا۔ آپ کا یہ پختہ ایمان تھا کہ پاکستان کا قیام محض ایک سیاسی واقعہ نہیں بلکہ ایک روحانی نعمت ہے، جس کی حفاظت کرنا ہر شہری کا فرض ہے۔ آپ نے ہمیشہ استحکامِ پاکستان کے لیے آواز بلند کی اور عوام کو متحد رہنے کا درس دیا۔آپ کے نزدیک استحکامِ پاکستان کے اہم ستون یہ تھے، آپ نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کا قیام "لا الہ الا اللہ” پر ہوا ہے، لہذا ملک کی بقا اسی نظریے کے تحفظ میں ہے۔آپ نے فرقہ واریت کو ملک کے لیے زہرِ قاتل قرار دیا۔ آپ کی محفلوں میں بلا تفریقِ مذہب و ملت ہر مکتبہ فکر کے لوگ آتے تھے، اور آپ نے تمام مسالک و مذاہب کے درمیان ہمیشہ اتحاد اور اتفاق کا درس دیا۔آپ نے اپنے مریدین اور پیروکاروں کو ملک کے قانون اور اداروں کے احترام کی ہمیشہ تلقین کی، کیونکہ ایک پرامن معاشرہ قانون کی پاسداری کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا۔آج کے پرفتن دور میں، جہاں انسان اپنی شناخت کھو چکا ہے، لاثانی سرکارؒ کی تعلیمات ایک چراغِ راہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ آپ نے روحانیت کو خانقاہوں کی چار دیواری سے نکال کر عام انسان کے گھر اور بازار تک پہنچایا۔ آپ کے بیانات میں انسانی نفسیات کی گہری سمجھ بوجھ ملتی تھی، جس کے ذریعے آپ مشکل ترین روحانی مسائل کو انتہائی سادہ انداز میں حل کر دیتے تھے۔ آپ کا مشن یہ تھا کہ ہر انسان اپنی زندگی کو حضور نبی کریم ﷺ کی سیرتِ طیبہ کے مطابق ڈھالے، کیونکہ اسی میں دنیا اور آخرت کی کامیابی ہے۔اگرچہ صوفی مسعود احمد صدیقی لاثانی سرکارؒ آج جسمانی طور پر ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں، مگر آپ کا فیض آج بھی جاری و ساری ہے۔ آپ کے عقیدت مند آج بھی آپ کے دکھائے ہوئے راستے پر چل کر اپنی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لا رہے ہیں۔ آپ نے ایک ایسی منظم تنظیم جو آج بھی اصلاحِ معاشرہ اور خدمتِ خلق کے مشن کو پوری تندہی کے ساتھ آگے بڑھا رہی ہے۔ آپ کے ملفوظات، کلام اور آپ کی عملی زندگی آج بھی تحقیق کا موضوع ہے، جس سے سیکڑوں لوگ روحانی سکون پا رہے ہیں،قائدِ روحانی انقلاب صوفی مسعود احمد صدیقی لاثانی سرکارؒ ایک ایسی عظیم شخصیت تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی اللہ کے دین کی سربلندی ، خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تعلیمات، شریعت محمدی کی پاسداری اور انسانیت کی بھلائی کے لیے وقف کر دی۔ آپ کی شخصیت میں شریعت اور طریقت کا حسین امتزاج تھا۔ آپ نے سکھایا کہ دنیا میں رہ کر بھی اللہ کا قرب کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ آج ہمیں ضرورت ہے کہ ہم آپ کے بتائے ہوئے اصولوں پر عمل کریں، اپنے معاشرے کو امن کا گہوارہ بنائیں، اور اپنی آنے والی نسلوں کو مادیت کی دلدل سے نکال کر عشقِ الہیٰ اور عشقِ رسول ﷺ کی روشنی سے منور کریں۔یہ وقت ہے کہ ہم متحد ہو کر پاکستان کے استحکام کے لیے کام کریں، کیونکہ ایک مستحکم، پرامن اور اسلامی اقدار کا حامل پاکستان ہی آپ کا خواب تھا، اور اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنا ہی آپ کے لیے بہترین خراجِ تحسین ہے۔ قائدروحانی انقلاب صوفی مسعود احمد صدیقی لاثانی سرکار رحمتہ اللہ علیہ کے پانچویں سالانہ عرس مبارک کی مناسبت سے 9 اور 10 جولائی بروز جمعرات، جمعہ ان کے دربار مرکز روحانیت، دربار عالیہ لاثانی سرکار روشن والی جھال سمندری روڈ فیصل آباد میں 36 ویں سالانہ محفل ذکر و نعت و سماع اور استحکام پاکستان و بین المذاہب امن کنونشن منعقد ہو رہا ہے جس میں اندرون و بیرون ممالک سے علماء و مشائخ عظام، پیر صاحبان ، تمام مذاہب عالم کے اسکالرز سمیت مریدین و عقیدت مند ہر سال کثیر تعداد میںشریک ہوتے ہیں، 36 ویں سالانہ محفل ذکر و نعت / استحکام پاکستان و بین المذاہب امن کنو نشن کی صدارت قائد روحانی انقلاب صوفی مسعود احمد صدیقی لاثانی سرکار رحمتہ اللہ علیہ کے فرزند اکبر صاحبزادہ شہزادہ پیر شبیر احمد صدیقی صاھب فرماتے ہیں۔جہاں تمام مکاتب فکر سے وابستہ مرد و خواتین کثیر تعداد میں شریک ہوتے ہیں جبکہ عرس مبارک کی تقریبات میں خواتین کے بیٹھنے کیلئے علیحدہ باپردہ اہتمام کیا جاتا ہے۔ آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور بزرگان دین و اولیاء کرام کے نقشِ قدم پر چلنے اور ان کے مشن و تعلیمات کو سمجھنے اور اسے عملی جامہ پہنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔






