غزل
کسی سراب سے دل فیض یاب کیا کرنا
حقیقتوں سے بھلا اجتناب کیا کرنا
جہاں یقین بھی رکھا ہوا کے دوش پہ ہو
وہاں گمان کا پھر احتساب کیا کرنا
پلک جھپکنا بھی حائل جہاں وصال میں ہو
تو ایسے موڑ پہ آ کر حجاب کیا کرنا
اگر نصیب میں لکھا ہو ہجر کا موسم
تو روز روز نیا اضطراب کیا کرنا
جہاں سکوت سے بہتر کوئی جواب نہ ہو
وہاں ہر ایک سے بحث و خطاب کیا کرنا
وہاں بھی جا کے اگر دل رہے یہ کافر تو
طواف کعبے میں جا کر جناب کیا کرنا
جو درد دل نہ ہو عنبر تو شاعری کیا ہے ؟
ورق ورق کا یوں ہی انتخاب کیا کرنا
سیدہ عنبر حیدر ترمذی
(ملتان)






