#کالم

سندھ طاس معاہدے کی معطلی: مودی حکومت کے مقاصد، آبی سیاست اور خطے کا مستقبل

Untitled 3

تحریر: ڈاکٹر عمرانہ مشتاق
پانی صرف زندگی کی علامت نہیں بلکہ اکیسویں صدی میں ریاستوں کی طاقت، معیشت اور سلامتی کا اہم ترین ذریعہ بن چکا ہے۔ دنیا کے کئی خطوں میں پانی کے ذخائر اور دریاؤں پر اختیار سیاسی کشیدگی کا سبب بنتا رہا ہے۔ جنوبی ایشیا میں پاکستان اور بھارت کے درمیان دریاؤں کا مسئلہ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد ہی سامنے آ گیا تھا۔ اسی مسئلے کے حل کے لیے 1960ء میں سندھ طاس معاہدہ طے پایا جس نے کئی جنگوں، بحرانوں اور سیاسی اختلافات کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان پانی کی تقسیم کا ایک مستقل نظام قائم رکھا۔
سندھ طاس معاہدہ عالمی بینک کی ثالثی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان طے پایا تھا۔ اس معاہدے کے تحت تین مشرقی دریا راوی، بیاس اور ستلج بھارت کے استعمال کے لیے مختص کیے گئے جبکہ تین مغربی دریا سندھ، جہلم اور چناب بنیادی طور پر پاکستان کے حصے میں آئے، اگرچہ بھارت کو مخصوص شرائط کے تحت مغربی دریاؤں پر محدود استعمال کی اجازت دی گئی۔
لیکن حالیہ برسوں میں بھارت کی جانب سے اس معاہدے کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کیا گیا۔ مودی حکومت نے پانی کو ایک سفارتی اور سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر بھارت سندھ طاس معاہدے کو دباؤ میں لانے یا معطل کرنے کی بات کیوں کرتا ہے؟
اس کی پہلی بڑی وجہ معلومات اور نگرانی کے نظام سے متعلق ہے۔ سندھ طاس معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے درمیان دریائی منصوبوں کی معلومات کا تبادلہ اور بعض معاملات میں معائنوں کا نظام موجود رہا ہے۔ پاکستان کو بھارتی حدود میں بننے والے بعض آبی منصوبوں، ڈیموں اور متعلقہ تنصیبات کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کا موقع ملتا تھا۔ بھارت میں کچھ حلقے اس نظام کو اپنی آبی منصوبہ بندی میں رکاوٹ سمجھتے ہیں۔
معاہدے کو کمزور کرنے کی صورت میں پاکستان کے لیے یہ جاننا مشکل ہو سکتا ہے کہ بھارتی علاقے میں موجود آبی ذخائر کی حقیقی گنجائش کیا ہے، پانی روکنے یا ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کتنی بڑھائی جا رہی ہے، اور مختلف منصوبوں کی تکنیکی نوعیت کیا ہے۔ پانی کے معاملے میں معلومات خود ایک بڑی طاقت ہوتی ہیں، کیونکہ اگر ایک ملک کو دوسرے ملک کے منصوبوں کا بروقت علم نہ ہو تو مستقبل کے خطرات کا اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔
دوسرا اہم پہلو نئے آبی منصوبوں سے متعلق ہے۔ بھارت اپنی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے مختلف ہائیڈرو پاور منصوبوں پر کام کرتا رہا ہے۔ پاکستان کو خدشہ رہتا ہے کہ بعض منصوبوں کے ذریعے دریاؤں کے قدرتی بہاؤ کو متاثر کیا جا سکتا ہے۔ خاص طور پر سرنگوں کے ذریعے پانی کا رخ تبدیل کرنے، نئے ذخائر بنانے یا بڑے پیمانے پر پانی کنٹرول کرنے جیسے معاملات پاکستان کے لیے حساس ہیں۔
اگر معاہدے کا مؤثر نظام کمزور ہو جائے تو پاکستان کے لیے نئے منصوبوں کی نگرانی، اعتراضات اٹھانے یا تکنیکی معلومات حاصل کرنے کے مواقع محدود ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے کو صرف پانی کی تقسیم نہیں بلکہ اپنی آبی سلامتی کا اہم ستون سمجھتا ہے۔
تیسری وجہ سیاسی اور سفارتی دباؤ ہے۔ بین الاقوامی تعلقات میں ممالک اکثر مختلف معاملات کو مذاکرات میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ مودی حکومت کی جانب سے پانی کے مسئلے کو ایک دباؤ کے ذریعے کے طور پر استعمال کرنے کا مقصد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب کبھی پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات شروع ہوں تو بھارت زیادہ مضبوط پوزیشن کے ساتھ میز پر بیٹھے۔
پانی ایک ایسا معاملہ ہے جس کا تعلق براہِ راست زراعت، خوراک، توانائی اور عوام کی زندگی سے ہے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور اس کی بڑی آبادی دریائی نظام سے وابستہ ہے۔ اسی لیے پانی کے معاملے میں پیدا ہونے والی کوئی بھی بے یقینی پاکستان کے لیے معاشی اور سماجی پریشانی کا سبب بن سکتی ہے۔
چوتھا اہم عنصر کشمیر کا مسئلہ ہے۔ بھارت طویل عرصے سے یہ مؤقف رکھتا ہے کہ پاکستان کشمیر میں مزاحمتی تحریکوں کی حمایت کرتا ہے، جبکہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ وہ کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کی سیاسی اور سفارتی حمایت کرتا ہے۔ اسی اختلاف کی وجہ سے دونوں ممالک کے تعلقات مسلسل کشیدہ رہتے ہیں۔
مودی حکومت کے سخت مؤقف کا ایک مقصد پاکستان پر دباؤ بڑھانا بھی سمجھا جاتا ہے تاکہ کشمیر کے معاملے پر پاکستان کی پالیسی متاثر ہو۔ پانی جیسے حساس معاملے کو اس وسیع سیاسی کشمکش سے الگ نہیں دیکھا جا سکتا۔
تاہم حقیقت یہ ہے کہ پانی کو سیاسی ہتھیار بنانا خطے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ جنوبی ایشیا پہلے ہی موسمیاتی تبدیلیوں، گلیشیئرز کے پگھلنے، بڑھتی ہوئی آبادی اور پانی کی کمی جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں تعاون کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔
دریا سرحدوں کے پابند نہیں ہوتے۔ قدرتی وسائل کا دانشمندانہ استعمال جنگ اور دشمنی کے بجائے مشترکہ حکمتِ عملی کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر پانی کو سیاسی دباؤ کا ذریعہ بنایا جائے تو اس کے اثرات صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے خطے کے امن کو متاثر کرتے ہیں۔
سندھ طاس معاہدہ دنیا کے کامیاب ترین آبی معاہدوں میں شمار کیا جاتا رہا ہے کیونکہ اس نے مشکل ترین حالات میں بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان رابطے کا ایک راستہ کھلا رکھا۔ جنگیں ہوئیں، تعلقات خراب ہوئے، سفارتی رابطے منقطع ہوئے، مگر پانی کے معاملات پر ایک بنیادی نظام موجود رہا۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں ممالک جذباتی فیصلوں کے بجائے مستقبل کی نسلوں کو سامنے رکھیں۔ پانی زندگی ہے، اور زندگی کے وسائل کو سیاسی جنگ کا میدان بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔
مودی حکومت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے پر سخت رویہ کئی مقاصد کا مجموعہ ہو سکتا ہے: پاکستان کی معلومات تک رسائی محدود کرنا، نئے آبی منصوبوں پر زیادہ آزادی حاصل کرنا، مذاکرات میں مضبوط پوزیشن بنانا، اور کشمیر کے معاملے

سندھ طاس معاہدے کی معطلی: مودی حکومت کے مقاصد، آبی سیاست اور خطے کا مستقبل

موسم کی سزا، انسان کی خطا

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے