آنکھ جو کچھ دیکھتی ہےبرطانوی استعماریتاز اکمل سومرو
( شاہد بخاری )
تقریباً تین سال قبل 14 مئی 2023 ء کو پنجاب یونیورسٹی لاہور کے مختلف شعبوں سے وابستہ طلبہ و طالبات نے مل کر یونیورسٹی میں کتب بینی کو فروغ دینے اور بحث و مباحثے کی روایت وثقافت کو اجاگر کرنے کے لئیے "پنجاب یونیورسٹی ریڈرز سو سا ئٹی(PURS) قائیم کی،جس کے اجلاسSTC سے ملحق لان،بالمقابل قائد اعظم ھال میں منعقد ہوتے ھیں۔
ان تین برسوں میں PURS کے 172 سیشن منعقد ھو چکے ہیں،جن میں ھر اتوار کی شام کو بعد نماز عصر،کسی کتاب یا اہم سماجی،سیاسی یا عالمی مسئلے پر گفتگو کی جاتی
ھے، جن میں طالب علم یا دانش ور مہمان کسی کتاب پر تبصرہ کرتے ھیں اور ایک ماھانہ سیشن کسی خاص موضوع پر اوپن ڈسکشن کا بھی رکھتے ہیں۔اسی طرح ایک سیشن On Line ھوتا ھے۔ان نشستوں میں نو وارد گان بھی حصہ لیتے ھیں،ان کی جھجک ختم ھوتی ھے اور ان میں خود اعتمادی پیدا ھوتی ھے۔جنرل سیکرٹری PURSفھد یوسفزئی کئی بین الاقوامی سپیکرز کو بھی ان سیشننز میں مدعو
کر چکے ھیں۔
معروف دانشور و اینکر پرسن اکمل سومرو نو آبادیات و رد نو آبادیات کے موضوعات پر 2014 ء سے پنجاب یونیورسٹی کی مرکزی لائبریری میں جو مضامین پیش کرتے رھے،یہ کتاب انہی کا مجموعہ ھے،جسے اردو بازار لاھور کے عکس پبلشرز نے شائع کی ھے۔
اس اتوار کو اورئینٹل کالج کے ایم۔فل غلام علی نے اس کتاب کا جائیزہ نہایت عمدگی سے پیش کرتے ھوئے کہا کہ برطانوی استعماریت: نو آبادیات، مابعد نو آبادیات اور ردِ نو آبادیات میں محمد اکمل سومرو نے برصغیر میں برطانوی استعمار کے سیاسی، معاشی، ثقافتی اور فکری اثرات کا تنقیدی جائزہ لیا ہے۔ کتاب بنیادی طور پر اس بات کو واضح کرتی ہے کہ برطانوی راج صرف فوجی یا سیاسی قبضہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسا نظام تھا جس نے مقامی معاشرت، تعلیم، زبان، معیشت اور ذہنی ساخت کو بھی تبدیل کیا۔
کتاب کے اہم نکات پر روشنی ڈالتے ھوئے فاضل سپیکر نے کہا کہ مصنف کے مطابق برطانوی استعمار نے برصغیر کے وسائل، دولت اور افرادی قوت کو استعمال کرکے یورپی سرمایہ داری کو مضبوط کیا۔
انگریزوں نے”جدیدیت”، “تعلیم” اور “اصلاحات” کے نام پر ایسے ادارے قائم کیے جن کا اصل مقصد اقتدار کو مستحکم کرنا تھا۔
اس کتاب میں نو آبادیات (Colonialism)، مابعد نو آبادیات (Postcolonialism) اور ردِ نو آبادیات (Decolonial Thought) کے نظریات کو اردو تناظر میں سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔
مصنف نے یہ مؤقف پیش کیا ھے کہ آزادی کے بعد بھی کئی نوآبادیاتی ڈھانچے۔۔جیسے بیورو کریسی، طبقاتی نظام، نصاب تعلیم ،زبان کی بالادستی اور ذہنی غلامی موجود رہے۔
اس کتاب میں تاریخی معاہدات، برطانوی پالیسیوں، مقامی اشرافیہ کے کردار اور سامراجی حکمتِ عملیوں پر بحث کی گئی ہے۔مصنف قارئین کو یہ سوچنے کی دعوت دیتا ھے کہ حقیقی آزادی صرف سیاسی آزادی نہیں بلکہ فکری، ثقافتی اور معاشی خودمختاری بھی ہے۔
یہ کتاب خاص طور پر ان قارئین کے لیے اہم ہے جو برصغیر کی تاریخ، سامراجی سیاست، اردو تنقید اور مابعد نوآبادیاتی نظریات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ کتاب کا انداز تحقیقی اور تنقیدی ہے اور اس میں سامراج کے اثرات کو تاریخی مثالوں کے ذریعے بیان کیا گیا ہے”۔PURS کے سیکرٹری جنرل فھد یوسفزئی نے کہا کہ اس اہم کتاب کے پیش لفظ میں اکمل سومرو نے لکھا ھے کہ نو آبادیاتی ممالک کے سیاسی طبقہ نے اپنے تمدنی و معاشرتی حلقوں کو اپنی سیاسی ضروریات اور پالیسی کے تحت دباؤ میں رکھا اور اپنے تمدن میں حا
کمیت،محکومیت کے تصورات کی آمیزش کر کے اسے قومی تمدن کے طور پر پیش کیا۔
کتاب میں شامل مضامین ھندوستان میں بر طانوی نو آ باد کاروں اور نو آبادیاتی عہد میں پیش آنے والے اہم سیاسی،معاشی،سماجی امور کا احاطہ کرتے ھیں۔ تقسیم ھندوستان کے اناسی
79برس کے بعد بھی انگریز
حکمرانی کے عہد پر مباحثے بنیادی طور پرنو آبادیاتی
عہد کی نیو لبرل عہد کے
ساتھ مطابقت،مماثلت اور تعلق کو واضح کر تے ھیں ۔
برطانوی استعماروں نے تقسیم کی ایسی لکیر کھینچی کہ آج تک اس لکیر سے خون رس رھا ھے۔یہ لکیر کن سیاسی عزائم پر منحصر تھی ؟؟اس سوال پر دنیا بھر کے محققین آج تک کتب لکھ رھے ھیں "۔
سوالات کے جوابات میں
یونیورسل اسلامی اسپرانتو ایسوسی ایشن کے صدر شاہد بخاری ایڈووکیٹ نے کہا کہ انگریز کی آمد سے قبل ھندو مسلم سکھ عیسائی، سب تھے ا ک دوجے کے بھائی۔۔۔ ھندوستان ھر لحاظ سے ترقی یافتہ ملک تھا،اسی لیئے اسے سونے کی چڑیا کہا جاتا تھا۔ مولانا حسین احمد مدنی کی خود نوشت ” نقش حیات” کے پہلے حصے میں انگریز کی آمد سے قبل تمام شعبہ ھائے زندگی میں ترقی کی
تفصیلات موجود ھیں۔انگریزوں نے کس کس طرح ھندوستان کی تعلیم،صنعت و حرفت،اخلاقیات کو تباہ و بر باد کیا؟ کی تفصیلا
ت،حصہ دوم میں خود ملاحظہ فر ما لیں۔لڑاوء اور حکومت کرو (Divide
&Rule Policy)
کے باوجود 1857ءکی جنگ آزادی میں ھندو، مسلم اور سکھ انگریز مخالف لڑے،اس اتحاد کا انتقام 1947ءکے خونی فسادات کروا کے اختلاف کے ایسے بیج انگریز بو گیا کہ اب ان سب میں اتحاد ایک خواب بن کر رہ گیا ہے
اور پاک و ھند اسلحے کی منڈی بن کر رہ گئیے ھیں، جس کی وجہ سے عوام کا برا حال ھے۔:
غیر ممکن ھے کہ حالات کی گتھی سلجھے
اھل دانش نے بہت سوچ کو الجھائی ھے






