یورپ میں آگ برساتا موسم: موسمیاتی تبدیلی، انسانی بحران اور دنیا کے لیے ایک وارننگ
ڈاکٹر عمرانہ مشتاق
کبھی یورپ کو معتدل موسم سرسبز و شاداب مناظر اور خوشگوار آب و ہوا کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ دنیا بھر کے سیاح گرمیوں کی تعطیلات گزارنے کے لیے یورپی ممالک کا رخ کرتے تھے کیونکہ وہاں کا موسم نہ زیادہ گرم ہوتا تھا اور نہ ہی ناقابلِ برداشت مگر گزشتہ چند برسوں میں یہ تصور تیزی سے بدل رہا ہے۔ رواں سال یورپ ایک مرتبہ پھر ایسی شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے جس نے نہ صرف درجۂ حرارت کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے بلکہ انسانی جانوں، معیشت، انفراسٹرکچر اور روزمرہ زندگی کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ ہزاروں افراد کی اموات، جنگلات میں آگ، پگھلتی سڑکیں، بند ہوتے اسکول، متاثرہ ٹرانسپورٹ اور دباؤ کا شکار بجلی کا نظام اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی اب کوئی نظری بحث نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے۔
یورپ میں اس مرتبہ درجۂ حرارت کئی علاقوں میں چالیس ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا۔ فرانس، جرمنی، اٹلی، بیلجیم، پولینڈ، ہنگری، کروشیا، آسٹریا، سربیا اور دیگر ممالک شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں۔ جو ممالک کبھی برف باری اور سرد موسم کی پہچان تھے، آج وہاں کے شہری ٹھنڈے پانی، سایہ دار مقامات اور ایئر کنڈیشنڈ پناہ گاہوں کی تلاش میں ہیں۔ یہ منظر صرف موسمی تبدیلی نہیں بلکہ انسانی تہذیب کے لیے ایک بڑے چیلنج کی علامت ہے۔
شدید گرمی کی وجہ سے اموات میں خطرناک اضافہ ہوا ہے۔ بزرگ افراد، بچے، دل اور سانس کے مریض سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ جسم کا قدرتی درجۂ حرارت جب مسلسل بڑھتا رہے تو ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی، دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی اور دیگر پیچیدگیاں جنم لیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صحت کے ادارے مسلسل شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت دے رہے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر درجۂ حرارت آئندہ برسوں میں مزید بڑھتا گیا تو کیا صرف احتیاطی تدابیر کافی ہوں گی؟
گرمی کا اثر صرف انسانی صحت تک محدود نہیں رہا۔ جرمنی میں شدید درجۂ حرارت کے باعث سڑکوں کا اسفالٹ نرم ہو گیا، ٹرام کی پٹریاں متاثر ہوئیں اور ٹرانسپورٹ کا نظام معطل کرنا پڑا۔ فرانس میں شہری گرمی سے بچنے کے لیے دریاؤں اور نہروں کا رخ کرنے لگے، جس کے نتیجے میں متعدد افراد ڈوب کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ بجلی کی طلب میں غیر معمولی اضافہ ہوا کیونکہ لاکھوں افراد کولنگ سسٹمز استعمال کرنے پر مجبور ہوئے۔ یہ تمام واقعات بتاتے ہیں کہ جدید ترین انفراسٹرکچر بھی ایسی غیر معمولی موسمی شدت کے سامنے کمزور پڑ سکتا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کا سب سے بڑا سبب انسانی سرگرمیاں ہیں۔ صنعتوں سے خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسیں، جنگلات کی بے دریغ کٹائی، فوسل فیول پر انحصار، شہری آبادیوں میں بے ہنگم اضافہ اور قدرتی وسائل کا غیر متوازن استعمال زمین کے درجۂ حرارت کو مسلسل بڑھا رہا ہے۔ صنعتی انقلاب نے ترقی کی نئی راہیں ضرور کھولیں، لیکن اسی کے ساتھ ماحول پر ایسا بوجھ بھی ڈال دیا جس کے نتائج اب پوری دنیا بھگت رہی ہے۔
یورپ کی موجودہ صورتحال اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ وہ خطہ ہے جسے ماحول دوست پالیسیوں، جدید ٹیکنالوجی اور بہتر شہری منصوبہ بندی کی مثال سمجھا جاتا ہے۔ اگر اتنے ترقی یافتہ ممالک بھی شدید گرمی کے سامنے مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں تو ترقی پذیر ممالک کی صورتحال کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ جنوبی ایشیا، افریقہ اور مشرق وسطیٰ جیسے خطے پہلے ہی شدید گرمی، پانی کی قلت اور ماحولیاتی آفات کا سامنا کر رہے ہیں۔
پاکستان بھی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے محفوظ نہیں۔ چند برس پہلے آنے والے تباہ کن سیلاب، مسلسل بڑھتی گرمی، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے، خشک سالی اور بے ترتیب بارشوں نے ثابت کر دیا ہے کہ ہمارا ملک بھی موسمیاتی خطرات کی صفِ اول میں کھڑا ہے۔ اگر آج ہم نے ماحول دوست پالیسیاں اختیار نہ کیں تو مستقبل میں خوراک، پانی، صحت اور معیشت کے بحران مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔
شہری منصوبہ بندی بھی اس مسئلے کا ایک اہم پہلو ہے۔ دنیا کے بیشتر بڑے شہر کنکریٹ کے جنگل بن چکے ہیں جہاں درخت کم اور عمارتیں زیادہ ہیں۔ کنکریٹ اور تارکول دن بھر سورج کی حرارت جذب کرکے رات تک خارج کرتے رہتے ہیں، جس سے شہروں کا درجۂ حرارت دیہی علاقوں کے مقابلے میں کئی ڈگری زیادہ ہو جاتا ہے۔ اس رجحان کو "اربن ہیٹ آئی لینڈ” کہا جاتا ہے۔ اس سے نمٹنے کے لیے گرین بیلٹس، شہری جنگلات، کھلی جگہوں، پانی کے ذخائر اور ماحول دوست تعمیرات کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔
زرعی شعبہ بھی شدید متاثر ہو رہا ہے۔ زیادہ گرمی فصلوں کی پیداوار کم کرتی ہے، مٹی کی نمی ختم کرتی ہے اور آبپاشی کی ضروریات بڑھا دیتی ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو خوراک کی قیمتوں میں اضافہ، غذائی قلت اور معاشی دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔ کسان پہلے ہی غیر متوقع بارشوں، خشک سالی اور موسمی بے ترتیبی کا سامنا کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی، معیشت، صحت اور عالمی سیاست کا بھی مسئلہ ہے۔ پانی اور خوراک کی کمی مستقبل میں تنازعات کو جنم دے سکتی ہے، جبکہ بڑے پیمانے پر ماحولیاتی نقل مکانی نئی سماجی اور سیاسی مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ اس لیے دنیا کو اس مسئلے کو صرف ماحولیات کی وزارت تک محدود رکھنے کے بجائے قومی پالیسی کا بنیادی حصہ بنانا ہوگا۔
حکومتوں کے ساتھ ساتھ ہر فرد کی بھی ذمہ داری ہے۔ درخت لگانا، پانی اور بجلی کا محتاط استعمال، پبلک ٹرانسپورٹ کو ترجیح دینا، غیر ضروری ایندھن کے استعمال سے گریز اور ماحول دوست طرزِ زندگی اپنانا ایسے اقدامات ہیں جو اجتماعی طور پر بڑے نتائج پیدا کر سکتے ہیں۔ اگرچہ ایک فرد پوری دنیا کا موسم تبدیل نہیں کر سکتا، لیکن کروڑوں افراد کی چھوٹی چھوٹی کوششیں ایک بڑی تبدیلی کی بنیاد بن سکتی ہیں۔
تعلیمی اداروں میں بھی موسمیاتی آگاہی کو نصاب کا حصہ بنانا چاہیے تاکہ نئی نسل صرف مسئلے سے واقف نہ ہو





