#کالم

” پھلوں کا بادشاہ آم

Untitled 1

منشاقاضی حسبِ منشا

صدیوں سے ایک محاورہ خلقِ خدا کی زبان سےسنتے چلے آ رہے ہیں کہ

آم کے آم گھٹلیوں کے دام

ہمارے محسن و مربی ڈاکٹر قیصر رفیق بھی عجوبہ ء انسانی کمالات کے سائنسدان ہیں ان کے خیالات پاکیزہ اور طاقتور ہیں ۔ وہ آئے روز لوگوں کے لیئے تفریح کے سامان پیدا کرتے رہتے ہیں ۔ عادل ہسپتال کے قریب ڈی ایچ اے کی اشرافیہ بستی میں آپ نے ایک گاؤں آباد کر دیا ہے ۔ جہاں انسان لذتِ کام و دہان کی خالص اشیا دیکھ کر دنگ اور کھا کر ست رنگ ہو جاتا ہے ۔ پھلوں کا بادشاہ ڈاکٹر قیصر رفیق کی دروس نگاہ کا اعجاز ہے ۔ جس کی تشہیر کے مختلف انداز اپنائے گئے ۔ امین حفیظ کے حلق سے نکل کر یہ آواز خلق تک پہنچی تو آموں کی ڈیڑھ سو قسموں کو دیکھنے کے لیئے اشرافیہ ٹوٹ پڑی ۔ امین حفیظ کو بڑی شدید تنقید کا بھی نشانہ بنایا گیا مگر ان کا انداز ایسا ہی ہونا چاہئے ڈاکٹر صاحب نے خاص آم کو عام کر دیا ہے ۔ تو بات بھی عام نہیں، خاص انداز میں ہو گی۔ ڈسکور پاکستان کے ڈائریکٹر انس فاروقی اور امین حفیظ کے ساتھ 90 سیکنڈ میں پورے پاکستان کے منہ میں پانی آ گیا ہے، آم میلہ پاکستان کا میٹھا فخر، عام کریں!— امین حفیظ اپنی
زبان پر انگلی پھیرتے ہوئے
"گرمی آئی… اور پاکستان کا بادشاہ بھی آ گیا ، نام ہے آم… اور میلہ لگ گیا ہے ڈی ایچ اے کے بطن میں ایک گاؤں جسے آرگائنگ ویلج کے نام سے پکارا جاتا ہے ۔ سندھ کی دھوپ، پنجاب کی مٹی، بلوچستان کی ہوا… سب مل کر ایک نعمت بناتے ہیں کونسا
چونسہ، سندھڑی، انور رٹول، دسہری، لنگڑا… نام لیتے ہی رسیلی مٹھاس زبان پر آ جاتی ہے۔ دنیا میں 1000 سے زیادہ قسمیں ہیں… مگر پاکستانی آم کا ذائقہ؟ وہ دنیا مانتی ہے جس کو متعارف کروایا ڈاکٹر قیصر رفیق نے آم میلہ لگا کر تاکہ کسان کی محنت عام ہو، پاکستان کا ذائقہ عام ہو! ، آم صرف پھل نہیں ، یہ وٹامن A، C، اینٹی آکسیڈنٹ کا خزانہ ہے۔ قوتِ مدافعت بڑھائے، جلد نکھارے، دل خوش کرے۔ مگر اصل بات یہ ہے… آم ہماری تہذیب ہے۔ دسترخوان کی رونق، مہمان نوازی کی نشانی، بچپن کی یاد۔” نانی کے گھر کی چھت پر بیٹھ کر آم چوسنا… وہ لمحہ عام نہیں، خاص ہے! ، آم میلہ لگے گا تو کسان سے سیدھا آپ تک پہنچے گا۔ بیچ میں مہنگائی ختم، مٹھاس عام!
تو آم میلہ کو عام کر دیں! اپنے شہر میں، گلی میں، محلے میں ، آم کھائیں… پاکستان کا نام بنائیں کیونکہ جو ملک آم دیتا ہے… وہ دل بھی دیتا ہے!” ڈاکٹر زرقا نسیم غالب شاعرہ بھی ہیں اور کالم نگار بھی ۔ یہاں پر موصوفہ کا سٹال بھی خصوصی طور پر ادیبوں ، شاعروں اور صحافیوں کا پاک ٹی ہاؤس بنا ہوا ، وہ بڑی پذیرائی کرتی ہے اور ڈاکٹر قیصر رفیق بھی خصوصی طور پر خیال رکھتے ہیں ۔ بین الاقوامی شہرت یافتہ مصور و خطاط شفیق فاروقی اور جواں سال ماہر تعلیم سی ٹی این فورم کے رکن فہد عباس بھی خوب محظوظ ہوئے ۔ ڈاکٹر زرقا نسیم غالب نے خوشبو کی طرح پذیرائی کی ۔واقعی کسی نے سچ کہا تھا کہ

آم کے آم گھٹلیوں کے دام

"آم میلہ – میٹھا فخر، ہمارا فخر۔ پاکستان زندہ باد!”

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے