ہمیں ! جگنوں اور تتلیوں کے دیس جانا ہے ؟
احساس کے انداز تحریر:۔ جاویدایازخان
ابو ! یہ جگنو کیا ہوتاہے ؟ سنا ہے کہ یہ رات کے اندھیرۓ میں چمکتا ہے ؟ سنا ہے کہ یہ رات کو اندھیرۓ میں اپنا گھر بھول جانے والے پرندوں کو ٹارچ کی طرح روشنی کرکے ان کو گھر کا راستہ دکھاتا ہے ؟ ہمارۓ چھوٹے بچے اکثر کتابوں میں حضرت علامہ اقبالؒ کی نظمیں پڑھ کر یہ سوال کرتے ہیں کیونکہ ان کی نئی نسل نے تو جگنو دیکھا ہی نہیں ہے ۔کبھی بھولے بسرے سے کہیں کوئی تتلی نظر آجاۓ تو وہ ڈر کر سوالات کی بھر مار کردیتے ہیں ۔جب ہم انہیں بتاتے ہیں کہ یہ جگنو اور تتلیاں تو ہمارۓ ماحول کا خوبصورت حصہ ہوا کرتی تھیں تو پوچھتے ہیں کہ پھر یہ اب کہاں چلی گئی ہیں ؟ تو انہیں کیسے بتائیں کہ ہم نے خود ہی اان قدرتی خوبصورتیوں کو اپنے سے دور کردیا ہے ۔
مجھے آج بھی یاد ہے جب گرمیوں کی برسات میں کبھی شام ڈھلتی تھی تو جگنو اندھیروں میں امید کے چراغ جلاتے تھےاور ہم اس روشنی کا پیچھا کرتے دور نکل جاتے اور بہار کی صبح کے اجالے میں تتلیاں پھولوں کے درمیان زندگی کے رنگ بکھیرتی تھیں تو ہم بچے ان کے خوبصورت رنگ چرانے کے لیے انہیں پکڑنے کی کوشش کرتےاور اگر پکڑ کر چھوڑ دیتے تو ان کے رنگ ہاتھوں اور انگلیوں پر ثبت ہو جاتے ۔ مگر آج یوں محسوس ہوتا ہے جیسے جگنو ہم سے ناراض ہیں اور تتلیاں ہم سے خوفزدہ ہیں ۔ شاید جگنو اس لیے ناراض ہیں کہ ہم نے ان کی راتوں کا سکون چھین لیا ہے۔ ہماری مصنوعی روشنیوں کے جنگل میں ان کی ننھی ننھی روشنیاں کہیں گم ہو کر رہ گئی ہیں۔ اور تتلیاں اس لیے خوفزدہ ہیں کہ ہم نے ان کے پھول، باغ اور مسکن اجاڑ دیے ہیں۔ کھیت زہریلے سپرے سے بھر گئے، درخت کٹ گئے اور فطرت کے رنگ ماند پڑ گئے۔ یہ صرف جگنوؤں اور تتلیوں کی کہانی نہیں، یہ انسان اور فطرت کے بگڑتے ہوئے تعلق کی داستان ہے۔ فطرت بدلہ نہیں لیتی، صرف خاموش ہو جاتی ہے۔ اور جب فطرت خاموش ہونے لگے تو پرندوں کی چہچہاہٹ کم ہو جاتی ہے، تتلیوں کے رنگ پھیکے پڑ جاتے ہیں اور جگنو اپنی روشنی سمیٹ لیتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ جگنو کہاں گئے اور تتلیاں کیوں غائب ہوئیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے اپنی زمین اور ماحول کو کو ان کے لیے کتنا غیر محفوظ اور ویران کیوں بنا دیا ہے؟اگر ہم چاہتے ہیں کہ آنے والی نسلیں بھی جگنوؤں کی چمک اور تتلیوں کی اڑان دیکھ سکیں تو ہمیں فطرت کے ساتھ اپنا رشتہ دوبارہ جوڑنا ہوگا۔ ورنہ ایک دن ہمارے بچے کتابوں میں تصویریں دیکھ کر پوچھیں گے: "کیا واقعی کبھی راتوں میں جگنو چمکتے تھے اور پھولوں پر تتلیاں ناچا کرتی تھیں؟a
میں پڑھ رہا تھا کہ ؟ چین میں جگنوں سے اربوں روپے کماۓ جارہے ہیں ۔چین میں جنگل کے خاص علاقے میں لاکھوں کی تعداد میں جگنو ہیں اور سیاح انہیں دیکھنے کے لیے بڑی رقم خرچ کرکے یہاں پہنچتے ہیں جس سے اربوں روپے کی آمدنی ہوتی ہے ۔چین کے ایک دوردراز جنگل میں قدرت کا ایک انوکھا اورسحر انگیز نظارہ دیکھنے کو ملتا ہے جہاں اندھیری راتوں میں لاکھوں کی تعداد میں جگنو یکجا ہو کر پورۓ ماحول کو روشن کردیتے ہیں ۔اس قدرتی کہکشاں کو دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے سیاح بڑی رقم خرچ کرکے یہاں تک پہنچتے ہیں۔جس کے نتیجے میں یہ علاقہ چین کے لیے اربوں روپے کی آمدنی کا ذریعہ بن گیا ہے ۔اس منفرد "ایکو ٹورازم "نے نہ صرف مقامی معیشت کو سہارا دیا ہے بلکہ چین کو ماحولیاتی سیاحت کی دنیا میں ایک نیا مقام عطا کیا ہے ۔یہ خاص جنگل جسے "فائر فلائی ویلی ” بھی کہا جاتا ہےسخت حفاظتی اقدامات اور قدرتی ماحول کی پائیداری کے اصولوں پر چلایا جارہا ہے ۔سیاحوں کی صرف مخصوص اوقات اور راستوں پر جانے کی اجازت دی جاتی ہی تاکہ ان نازک حشرات کی زندگی متاثر نہ ہو ۔ماہرین کا خیال ہے کہ یہ تجربہ یہ ثابت کرتا ہے کہ اگر قدرت کے وسائل کی درست حفاظت اور دیکھ بھال کی جاۓ تو وہ نہ صرف ماحولیاتی توازن برقرار رکھتے ہیں بلکہ انسانوں کے لیے معاشی خوشحالی کا باعث بی بن سکتے ہیں ۔جگنوں کی یہ سحرانگیز روشنی اب چین کی سیاحت کا ایک چمکتا ہوا نشان بن چکی ہے ۔
سوال یہ ہے کہ یہ نظارے اب پاکستان میں کیوں دکھائی نہیں دیتے ؟کبھی بہار آتی تھی تو پھولوں پر رنگ برنگ تتلیاں منڈلاتی تھیں اور گرمیوں کی برسات کی راتواں میں کھیتوں ،باغوں اور پگڈنڈیوں پر جگنو ستاروں کی طرح ٹمٹماتے تھے ۔آج نہ وہ تتلیاں رقص کرتی دکھائی دیتی ہیں اور نہ جگنو کی روشن قطاریں نظر آتی ہیں ۔ذرا غور کریں ہم نے انہیں خود ہی زرعی ادویات کے بےتحاشا استعمال ،درختوں ،جھاڑیوں پودوں اور ان کے قدرتی مسکن کے خاتمے ،شہروں اور دیہات میں بڑھتی ہوئی مصنوعی روشنی جس سے جگنوں کا قدرتی نظام متاثر ہوتا ہے اور ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلیوں کی نذر کردیا ہے ۔کیسے ہیں ہم لوگ جو قدرتی خوبصورتی کی قدر نہیں جانتے ؟
تتلیاں اور جگنو دراصل فطرت کی صحت کے پیمانے ہوتے ہیں ۔جب یہ کم ہونے لگیں تو سمجھ لیں کہ ماحول میں کچھ گڑبڑ ضرور ہے ۔ان کا غائب ،کم یاب اور یا نایاب ہونا صرف چند خوبصورت حشرات کا کھو جانا نہیں بلکہ فطرت کے توازن کے بگڑنے کا اشارہ ہے ۔ پتہ نہیں تتلیاں کہاں چلی گئیں ؟ شاید پھولوں سے ناراض ہو گئیں یا انسانوں کے رویوں سے روٹھی ہیں ؟ ۔ اور جگنو؟ وہ بھی شاید راتوں کی بڑھتی ہوئی مصنوعی روشنی میں اپنی شناخت کھو بیٹھے۔ اب نہ باغوں میں رنگوں کی وہ سرگوشیاں اور خوشبو کی مہکاریں ہیں اور نہ اندھیروں میں امید کے ننھے چراغ جلتے بجھتے دکھائی دیتے ہیں ۔ شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم صرف یہ سوال ہی نہ پوچھیں کہ "وہ تتلیاں اور وہ جگنو کیا ہوئے؟” بلکہ یہ بھی سوچیں کہ "ہم نے ان کے ساتھ کیا کیا؟مجھےاس بارۓ میں چند مشہور اور خوبصورت اشعار یاد آگئے ہیں ۔
ہم کو تتلیوں کے جگنوں کے دیس جانا ہے
ہمیں رنگوں کے جگنو روشنی تتلیاں آواز دیتی ہیں
نئے دن کی مسافت رنگ میں ڈوبی ہوا کے ساتھ
کھڑکی سے بلاتی ہے






