#کالم

قصور سے سرگودھا تک ہماری اجتماعی شکست

ChatGPT Image Jun 16 2026 12 53 45 AM

حروف بے زباں مرزا رضوان

معصومیت کا قتل جب بھی ہوتا ہے، معاشرے کی بنیادیں ہل جاتی ہیں۔ قصور کی زینب کا واقعہ ہو یا آج سرگودھا کی ننھی منتہا زہرہ کا المیہ، ہر بار ہم جذباتی ہوتے ہیں، سڑکوں پر نکلتے ہیں، احتجاج کرتے ہیں اور پھر کچھ عرصے بعد اپنی روزمرہ کی زندگی میں گم ہو جاتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے ان واقعات سے کچھ سیکھا ہے؟ کیا ہم ایک ایسا معاشرہ تشکیل دے سکے ہیں جہاں ہماری بیٹیاں اپنے گھر کی دہلیز پر بھی محفوظ ہوں؟ منتہا زہرہ کا المیہ محض ایک خبر نہیں، بلکہ یہ ہماری اجتماعی بے حسی، نظام کی خامیوں اور والدین کی غفلت کا ایک کٹھن امتحان ہے،سرگودھا کی تقریبا آٹھ سالہ منتہا زہرہ کا اپنے گھر کے باہر سے اغوا ہونا اور پھر اس کی لاش کا برآمد ہونا، ایک ایسا زخم ہے جو ہر اس انسان کے دل پر لگا ہے جو انسانیت پر یقین رکھتا ہے۔ یہ محض ایک قتل نہیں، بلکہ ہمارے اخلاقی زوال کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ایک ایسی بچی جو ابھی دنیا کے رنگوں سے آشنا ہو رہی تھی، اسے درندگی کا نشانہ بنا دیا گیا۔ یہ واقعہ صرف ایک خاندان کا نہیں، پورے ملک کا غم ہے۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہمارے گلی محلے اب محفوظ نہیں رہے۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی سرگودھا پولیس نے ایک بڑے چیلنج کو قبول کیا۔ جدید ٹیکنالوجی، سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد اور ہیومن انٹیلی جنس (Human Intelligence) کا استعمال کرتے ہوئے پولیس نے اس کیس کے تانے بانے ملائے۔ تفتیش کے دوران سامنے آنے والے حقائق نے اس بات کو ثابت کیا کہ مجرم کوئی اجنبی نہیں بلکہ معاشرے کا ہی ایک حصہ تھا۔ پولیس کی کاروائی اس لحاظ سے قابل ستائش ہے کہ انہوں نے ابتدائی شواہد اکٹھے کرنے سے لے کر ملزم کی گرفتاری تک ایک مربوط حکمت عملی اپنائی۔ فرانزک ثبوتوں کی بروقت دستیابی نے ملزم کے لیے فرار کی تمام راہیں بند کر دیں۔ڈی پی او سرگودھا صہیب اشرف نے اس کیس کے حوالے سے پریس کانفرنس میں دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ "بچی کے قاتلوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔” انہوں نے کہا کہ پولیس نے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اس اندھے قتل کا سراغ لگایا۔ ڈی پی او کے مطابق، کیس میں کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور تفتیش کو میرٹ پر مکمل کر کے عدالت میں چالان پیش کیا جائے گا تاکہ ملزمان کو سخت ترین سزا مل سکے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پولیس کا مقصد صرف ملزم کو پکڑنا نہیں بلکہ اسے عبرتناک سزا دلوانا ہے تاکہ مستقبل میں کوئی ایسا کرنے کی جرات نہ کرے۔اس واقعے کا ایک تکلیف دہ پہلو ملزم کی والدہ کا موقف بھی ہے۔ ایک ماں کے لیے یہ تسلیم کرنا کہ اس کا بیٹا کسی معصوم بچی کا قاتل ہے، بہت مشکل ہوتا ہے۔ ملزم کی والدہ نے میڈیا کے سامنے اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ ان کا بیٹا اتنے سنگین جرم میں ملوث ہو سکتا ہے۔ ان کا موقف ایک معاشرتی حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ اکثر والدین اپنے بچوں کے رویوں اور تبدیلیوں سے لا علم رہتے ہیں۔ کیا ہم گھروں کے اندر ایسی فضا بنا رہے ہیں جہاں بچہ اپنے احساسات کھل کر بیان کر سکے؟ یا ہم نے ان کے ذہنوں کو ایک بند کمرے میں قید کر دیا ہے؟
والدین کی ذمہ داری اب پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ دور بدل چکا ہے۔ اب گھر کے باہر بچہ چھوڑنا اس طرح محفوظ نہیں رہا جیسا کہ آج سے دو دہائیاں قبل تھا۔ والدین کو اپنے بچوں کو "گڈ ٹچ” اور "بیڈ ٹچ” کی آگاہی دینا ہوگی۔ انہیں اجنبیوں سے فاصلہ رکھنے اور مشکوک رویوں کی فوری اطلاع دینے کی تربیت دینی ہوگی۔ والدین کا کام صرف روٹی کمانا نہیں، بلکہ اپنے بچوں کے دوست بننا ہے۔ اگر آپ کا بچہ آپ سے اپنی کوئی بھی بات شیئر کرنے سے ڈرتا ہے، تو یہ الارمنگ صورتحال ہے۔اس سب کے پیچھے ایک اور اہم عنصر انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا غلط استعمال ہے۔ آج کے دور میں بچوں کی پہنچ میں موبائل اور انٹرنیٹ ہے، جہاں وہ غیر اخلاقی اور پرتشدد مواد تک آسانی سے رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔ اس طرح کا مواد ان کے ذہنوں پر گہرے منفی اثرات چھوڑتا ہے۔ معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے راہ روی اور اخلاقی اقدار کا تیزی سے زوال بھی ایسے واقعات کی بڑی وجہ ہے۔ جب اخلاقیات کی جگہ مادیت لے لے تو پھر یہی ہوتا ہے کہ انسان انسانیت سے عاری ہو جاتا ہے۔ ہمیں اپنے تعلیمی نصاب میں اخلاقی تربیت کو مرکزی حیثیت دینی ہوگی۔میڈیا کا کام صرف بریکنگ نیوز چلانا نہیں، بلکہ معاشرے کی اصلاح کرنا بھی ہے۔ ایسے کیسز میں رپورٹنگ کرتے وقت میڈیا کو انتہائی حساسیت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ متاثرہ خاندان کی تذلیل سے گریز کرنا اور ملزمان کی ایسی تشہیر نہ کرنا جس سے وہ معاشرے میں "ہیرو” کے طور پر ابھریں، نہایت ضروری ہے۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ ایسے واقعات پر صرف تنقید نہ کرے، بلکہ ٹھوس تجاویز بھی پیش کرے۔قانون کی گرفت مضبوط ہونی چاہیے، اس میں کوئی شک نہیں۔ پھانسی اور عمر قید جیسے قوانین اپنی جگہ، لیکن کیا صرف سزائیں کافی ہیں؟ زینب کے کیس کے بعد بھی ہم نے سخت قوانین بنائے، کیا جرائم کم ہوئے؟ اس کا جواب افسوسناک "نہیں” میں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم مجرم بننے کی جڑ کو ختم نہیں کر رہے۔ مجرم پیدا نہیں ہوتے، انہیں معاشرہ اور حالات بناتے ہیں۔ جب تک ہم اپنی اخلاقی اقدار کو بہتر نہیں کریں گے، جب تک ہم نفسیاتی مریضوں کی بروقت تشخیص اور علاج نہیں کریں گے، تب تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
سرگودھا کی منتہا زہرہ کے لیے انصاف کا مطالبہ ہر شہری کا حق ہے۔ لیکن حقیقی انصاف تب ہوگا جب ہم ایک ایسا معاشرہ

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے