بھارت کا پاکستان کیخلاف جارحیت میں فوجی نقصان کا اعتراف
آج کا اداریہ
بھارت نےگزشتہ سال پاکستان کے خلاف جارحیت کے دوران مارے گئے 6 بھارتی فوجیوں کی شناخت ظاہر کردی۔بھارتی اخبار دی ہندو نے اپنی خبر میں کہا کہ حکومت نے سرکاری سطح پر ہلاک فوجیوں کی شناخت ظاہر کی ہے، ان میں بھارتی آرمی کے 5 اور بھارتی فضائیہ کا ایک اہلکار شامل ہے۔بھارتی اخبار کے مطابق ہلاک فوجیوں میں میجر پون کمار، سنیل کمار ، لانس نائیک دنیش کمار، اگنی ویر ، حوالدار سنیل کمار سنگھ اور فضائیہ کے سارجنٹ سریندر کمار شامل ہیں۔
بھارت اخبار نے لکھاکہ حکومت نے ہلاک فوجیوں کی شناخت سرکاری طور پر ظاہر کی ہے۔
ان اہلکاروں کے نام ان ہلاک فوجیوں کے ساتھ جاری کیے گئے ہیں جو گزشتہ سال مختلف واقعات میں ہلاک ہوئے تھے۔مئی 2025 میں انڈیا اور پاکستان میں ہونے والی فضائی جھڑپوں کے لگ بھگ ایک سال بعد پہلی بار اپنی مسلح افواج کے اُن چھ اہلکاروں کے نام ظاہر کیے ہیں جن کی ہلاکت اس تنازع کے دوران ہوئی تھی۔اپریل 2025 کے دوران مقبوضہ کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں شدت پسندوں کے حملے کے لگ بھگ ایک ماہ انڈیا نے پاکستان میں شدت پسندوں کے مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا اور اس کارروائی کو سرکاری سطح پر ’آپریشن سندور‘ کا نام دیا گیا تھا۔پاکستان کی جانب سے بھی دفاعی اور جوابی کارروائی کی گئی تھی جسے سرکاری سطح پر ’آپریشن بنیان مرصوص‘ کا نام دیا گیا۔دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے کے دعوے کیے گئے جبکہ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ اس کارروائی کے دوران انڈیا کے جنگی طیارے بھی تباہ ہوئے تھے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے 13 مئی کو بتایا تھا کہ ان کارروائیوں میں پاکستانی مسلح افواج کے 11 فوجی شہید ہوئے جن میں چھ کا تعلق بری فوج جبکہ پانچ کا پاکستانی فضائیہ سے تھا۔تاہم 26 جون 2026 کو پہلی بار انڈین حکومت نے اس فوجی تنازع کے دوران ہلاک ہونے والے اپنے فوجی اہلکاروں کے نام ظاہر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ ’آپریشن سندور‘ میں ہلاک ہوئے۔ اس حوالے سے چھ ناموں کی فہرست نیشنل وار میموریئل کی ویب سائٹ پر ’رول آف آنر‘ میں شائع کی گئی ہے۔ہلاک ہونے والے فوجی اہلکاروں میں ہیڈکوارٹر 10 انفنٹری بریگیڈ کے صوبیدار میجر پاون کمار، 4 جموں اینڈ کشمیر لائٹ انفنٹری کے رائفل مین سنیل کمار (جنھیں ویر چکرا سے نوازا گیا)، 5 فیلڈ ریجیمنٹ کے لانس نائیک دنیش کمار، 851 لائٹ ریجیمنٹ کے ایوی ایشن ٹیکنیشن موڈ مرلی نائیک اور 237 فیلڈ ورکشاپ کمپنی کے حولدار سنیل کمار سنگھ شامل ہیں۔جبکہ انڈین فضائیہ کی 38 ونگ کے سارجنٹ سریندر کمار کا نام بھی اس فہرست میں شامل ہے جسے وایو میڈل دیا گیا تھا۔انڈین میڈیا کے مطابق ان چھ اہلکاروں کے نام نئی دہلی میں نیشنل وار میموریئل کے تیاگ چکرا پر درج کیے جائیں گے۔ان اہلکاروں کے نام 2025 کے دوران مختلف فوجی کارروائیوں میں ’عظیم قربانی دینے والے مسلح افواج کے اہلکاروں‘ کی سالانہ فہرست کے ساتھ جاری کیے گئے ہیں۔انڈیا کی آزادی کے بعد تمام ایسے سپاہیوں کے نام، رینک اور یونٹ تیاگ چکرا (گرینائٹ کی 16 دیواروں) پر درج کیے جاتے ہیں جنھوں نے ’قوم کی خدمت میں اپنی جان قربان کی۔ دنیا بھرکے جنگی ماہرین جو اقوام عالم کو سال سوال سال سے بتا رہے تھے کہ انڈین آپریشن سندور بری طرح ناکام رہااور انڈیاکو ہزیمت ہوئی۔مودی حکومت کو آپریشن سندور کے دوران اپنی جان قربان کرنے والے فوجیوں کے نام سرکاری طور پر جاری کرنے میں 400 دن لگے ہیں۔‘یادرہے 11 مئی 24کی پریس کانفرنس میں انڈین ڈی جی ایم او نے تسلیم کیا تھا کہ آپریشن سندور میں پانچ فوجیوں کی جانیں گئی ہیں جبکہ انڈین فضائیہ کے سربراہ فضائیہ کے ہلاک ہونے والے اہلکار کے گھر بھی گئے تھے۔ ان جوانوں کو ویر چکرا سمیت بہادری کے مختلف اعزازات سے بھی دیے گئے تھے تاہم مودی سرکار انکے نام اب سامنے لائی ہے۔ جب پاکستان طایک سال مکمل ہونے پرجشن معرکہ حق بھی مناچکا ہے واضح رہے کہ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس آپریشن میں انڈین مسلح افواج کے کسی اہلکار کو نقصان نہیں پہنچا۔
مرنے والے بھارتی فوجیوں کے نام ’قومی شعور میں نقش ہو جانے چاہییں تھے۔۔۔ لیکن اس کے بجائے پورے ایک سال تک بی جے پی حکومت نے اُن کی موت کو قوم سے پوشیدہ رکھا۔‘بھارتی کانگریس کے ممبر نے کہا ہے کہ ’وہی حکومت جو خود کو قومی پرچم میں لپیٹتی ہے اور قوم پرستی کی باتیں کرتی رہتی ہے۔ اس نے ان ہیروز کو اس طرح تسلیم نہیں کیا جس کے وہ مستحق تھے۔ کتنی شرم کی بات ہے۔






