#اداریہ

ایران ‘ امریکہ معاہدے کے اثرات و ثمرات

Fahad 01

آج کا اداریہ

پاکستان کی ثالثی میں ایران ‘ امریکہ کا مذاکرات کی میزپر آنا رواں صدی کا کارنامہ سمجھا جا رہا ہے۔اس پیش رفت سے جنگ کے سائے ڈھلے ہیں اور امن کی فاختائیں اڑنے کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں۔معایدے کے تحت پہلا بریک تھرو سامنے آیا ہے۔امریکی محکمہ خزانہ نے ایک اجازت نامہ جاری کیا ہے جس کے تحت 21 اگست تک ایرانی خام تیل اور پیٹرو کیمیکل مصنوعات کی ترسیل اور فروخت کی اجازت ہوگی۔واشنگٹن اور تہران کے درمیان گذشتہ ہفتے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت، امریکہ نے ایرانی خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات کی برآمدات کے لیے چھوٹ دینے پر اتفاق کیا تھا۔امریکی محکمہ خزانہ کے اجازت نامے میں انشورنس، بینکنگ خدمات اور نقل و حمل کے لین دین کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔
ایران کے دیان معاہدے کو عملی جامہ پہنائے جانے پرپاکستان کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل رہا ،پاکستان کو جو عزت اور مرتبہ ملا ہے قوموں کو صدیوں میں ایسی کامیابی نصیب نہیں ہوتی، دنیا کو قومی یکجہتی اور اتحاد کا پیغام دینا ہے اور اس عظیم فتح کا تقاضا ہے کہ سب ملک کی ترقی اور خوشحالی کیلئے ایک ہی صف میں کھڑے ہوں، اس معاہدے سے دنیا میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہوئی ہے، جس کے ثمرات عوام تک پہنچانے کیلئے اس میں نمایاں کمی کا اعلان وزیراعظم محمد شہبا زشریف نے کیا۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو یہ عزت بخشی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ہوا، اس کیلئے پوری پاکستانی قوم مبارک باد کے مستحق ہے۔ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے عزت عطا فرمائی ہے، پوری دنیا میں پاکستان کا نام عزت اور وقار سے گونج رہا ہے، تاہم اس عظیم کامیابی میں سب سے کلیدی کردار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ادا کیا، انہوں نے امن کے قیام کیلئے دن رات کام کیا، کئی مواقع ایسے آئے کہ جب ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جنگ بندی ختم ہونے والی ہے، تاہم خدائے بزرگ و برتر کو پا کستان کو عزت اور وقار دینا مقصود تھا، اسی وجہ سے وہ پہاڑ نما مسائل اور مشکلات بھی حل ہوئیں۔ تاہم نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے بھی اس عمل میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا، اسی طرح وزیر داخلہ سید محسن نقوی نے بھی ایران کے حوالے سے اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ پاکستان اور اس کے عوام کا ایران کی حکومت اور ایرانی قوم کی جانب سے دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا گیا ہے، جنہوں نے اس مشکل وقت میں ایران کا ساتھ دیا اور پاکستان ایران کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا رہا۔ ایرانی صدر نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیراعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ محسن نقوی کا بھی شکریہ ادا کیاہے اور پاکستانی قوم کے خلوص اور سپورٹ کا بھی شکریہ ادا کیاہے ۔تاہم پاکستان اور ایران دو ایسے بھائی ہیں جو آنے والے وقتوں میں انتہائی قربت کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں گے۔ اس جنگ بندی کے نتیجے میں اس خطے میں معاشی خوشحالی آئے گی۔ خطے میں جنگ بندی کے بعد اب تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچے آ رہی ہیں اور اس میں مزید کمی آئے گی۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا اعلان کیاگیا ہے۔ جب تین ماہ قبل جنگ چھڑی تو اس وقت تیل کی عالمی قیمتوں کو آگ لگ گئی اور مہنگائی کا ایک طوفان کھڑا ہوا۔ پاکستان کے عوام نے جس طرح اس دوران تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کیا وہ اپنی مثال آپ ہے ۔ حکومت نے مہنگائی کے اس طوفان سے عام آدمی کو بچانے کیلئے حتیٰ المقدور کوشش کی،پٹرولیم مصنوعات پر  128 ارب روپے کی سبسڈی دی تاکہ عوام پر مہنگائی کا کم سے کم بوجھ پڑے۔ یہ خوش آئند امر ہے کہ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے پٹرول کی قیمت میں 74 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 67 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا ہے ، عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے،خطے میں معاشی صورتحال میں بہتری آنے اور تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ فوری طور پر عوام کو منتقل کیا گیا ہے،پٹرول کی فی لیٹر قیمت 373 روپے سے کم ہو کر 299 روپے اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 378 روپے سے کم ہو کر 311 روپے پر آ گئی ہے،مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال میں پاکستان کی ثالثی کی بدولت امن ممکن ہوا،اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو عزت بخشی اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے،معاشی استحکام برقرار رکھنے اور مہنگائی میں مزید کمی کے لیے موثر اقدامات کئے جائیں گے ۔ خطے میں معاشی صورتحال میں بہتری آنے اور تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ فوری طور پر عوام کو منتقل ہوگا،وفاقی حکومت نے ترقیاتی بجٹ سے اور کفایت شعاری سے کی گئی بچت کے ذریعے 129 ارب استعمال کرکے ملک بھر کے عوام کو تیل کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے سے ممکنہ حد تک ریلیف فراہم کیا۔ خطے کی معاشی صورتحال کے دوران جب کچھ ممالک میں فیول راشننگ جیسے اقدامات لیے جا رہے تھے، حکومت پاکستان کی بہتر منصوبہ کی بدولت توانائی کا بحران نہیں آیا، موثر اقدامات کئے گئے تھے ،کسی قسم کی پیٹرولیم مصنوعات کی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ ملکی معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے وفاق اور صوبوں نے مکمل تعاون کیا۔ معاشی استحکام برقرار رکھنے اور مہنگائی میں مزید کمی کے لیے موثر اقدامات کئے جا رہے ہیں، بحران کے پورے عرصے میں نہ صرف حکومتی سطح پر کفایت شعاری کو اپنایا گیا بلکہ ریلیف کی مد میں محروم طبقات کو سبسڈی بھی فراہم کی گئی۔عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیرکی انتھک محنت اور پیشہ ورانہ صلاحیت کی بدولت یہ امن معاہدہ ممکن ہوا۔

ایران ‘ امریکہ معاہدے کے اثرات و ثمرات

25/06/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے