#کالم

آ نکھ جو کچھ دیکھتی ھےغیر مسلم شعراء کا نذرانہء

Untitled 2


عقیدت برائےحضرت امام حسین رضی اللّٰہ تعالٰی (شاھدبخاری)
اسلام کی آفاقی تعلیمات اورنبی ص کی ذات والا صفات کے اظہار وتوصیف میں مسلمان تو شامل ھیں ھی کہ وہ ان کے پیرو کار ھیں لیکن انصاف پسند،
سیکولر اور پاکیزہ ذہن رکھنے والے با شعور غیر مسلم بھی،انھیں اور ان کی تعلیمات کو محبوب رکھتے ھیں۔
میدان کربلا میں امام حسین نے قربانی و ایثار سے جو نقوش ابھارے،وہ بے مثال ھیں۔اسی وجہ سے آپ دنیا کے کروڑوں انسانوں کے لئیے حریت و آزادی کی ایک ایسی علامت ھیں جن سے بلا لحاظ مذھب و ملت ھر انسان محبت کرتا ھے اور دل سے خراج عقیدت پیش کرتا ھے۔مذھبی روادار کے اس پہلو کو نور احمد میرٹھی نے بوستان عقیدت میں یکجا کردیا ھے۔اس میں سے کچھ غیر مسلموں کا رثائی کلام ملاحظہ فرمائیں:
آج دنیا کو ضرورت ھے،حسینی آن کی
ورنہ پھر خطرے میں ھے،اب زندگی ایمان کی
(رگھبیر سرن)
انسانیت کا درس جومر کر بھی دے گیا
خلق خدا کوایسی شہادت پہ ناز ھے(کیلاش چند عیش)
اسلاف کو بھی ان سے عقیدت تھی اے ادیب
میراث میں ملی ھے،محبت حسین کی(گر سرن لال)
وھی تو باشعور و باخبر ھے
حسین راہ پر،جس کی نظر ھے(ڈاکٹر ست نام سنگھ)
دنیائے عقل جتنا بھی سمجھی ھے،آج تک
اس سے بہت بلند ھے رتبہ حسین کا(موھن کمار)

جی کے مرنا تو سب کو آتا ھے
مر کے جینا سکھا دیا تو نے
(کنور مہندر سنگھ بیدی سحر)
روشنی دائم ھے جن کی،وہ ستارے ھیں حسین
عالم انسانیت میں سب کے پیارے ھیں حسین
(نارائن داس پانی پتی)
موت کو بھی ناز،تیری موت پر ھے،اے حسین
آج تک دنیا ترے زیر اثر ھے اے حسین(مہر لال سونی)
اس دور میں یزید تو ھیں سیکڑوں مگر
محسوس ھو رھی ھے تمھا
ری کمی حسین(سریواستوا)
پہلے یزید ایک تھا،لاکھوں ھیں،اب یزید
پھر اک مزاج نو کی سیاست ھے،یاحسین(سادھو رام)
تخصیص نہ ھندوکی نہ مسلم کی ھے اس میں
شبیر کا پیغام،جہاں بھر کے لئیے ھے(گجر پرشاد گوھر)
کربلا میں سبط پیغمبر کی قربانی ھوئی
خوب دعوت آپ کو دی،
خوب میھمانی ھوئی
(چھیدی لال)
جن سے روشن ھے،جہان حریت
کربلا کے ان بہتر کو سلام
(بدھ پرکاش،دیو بندی)

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے