#کالم

خواتین کے معاشرتی تحفظ میں مریم نواز اور فیصل آباد پولیس کا کردار

WhatsApp Image 2025 10 21 at 23.56.49 1

تحریر: محمد ندیم بھٹی

کسی بھی معاشرے کی اصل پہچان اس کے اجتماعی رویے، شہری نظم و ضبط اور کمزور طبقات کے ساتھ برتاؤ سے ھوتی ھـے۔ ترقی یافتہ اقوام صرف بلند عمارتوں، جدید سڑکوں یا صنعتی پیداوار سے نہیں بلکہ اس بات سے پہچانی جاتی ہیں کہ وہاں خواتین، بچیاں، بزرگ اور عام شہری کس قدر محفوظ اور باوقار زندگی گزار رھے ہیں۔ اگر کسی معاشرے میں عورت اعتماد کے ساتھ گھر سے باہر نکل سکے تو وہ معاشرہ حقیقی معنوں میں ترقی کی راہ پر گامزن سمجھا جاتا ھـے۔
ہمارے ہاں خصوصاً پنجاب کے صنعتی شہر فیصل آباد سمیت کئی علاقوں میں گلی محلوں کا سماجی ڈھانچہ ایک مخصوص انداز اختیار کر چکا ھـے۔ بعض مقامات پر یہ رجحان عام دکھائی دیتا ھـے کہ لوگ گلیوں کے نکڑوں، چوراہوں اور راستوں کے درمیان چارپائیاں یا منجے لگا کر گھنٹوں بیٹھے رہتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک غیر رسمی سماجی نشست معلوم ھوتی ھـے، لیکن حقیقت میں اس کے اثرات شہری نظم و نسق اور عوامی آمدورفت پر گہرے ھوتے ہیں۔
جب عوامی راستے غیر ضروری طور پر محدود ھو جائیں یا ان پر مستقل ہجوم موجود ھو تو اس کا سب سے زیادہ اثر خواتین اور بچیوں کی نقل و حرکت پر پڑتا ھـے۔ خصوصاً وہ طالبات جو اکیلی اسکول، کالج، یونیورسٹی یا صنعتی اداروں کام کرنے کے لئے جاتی ہیں، ایسے ماحول میں اکثر غیر آرام دہ محسوس کرتی ہیں۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں بیٹی گھر سے باہر قدم رکھتے وقت خوف یا جھجھک محسوس کرے، وہاں حقیقی سماجی ترقی کا خواب ادھورا رہ جاتا ھـے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ھـے کہ بعض علاقوں میں فارغ نوجوان یا افراد نکڑوں پر کھڑے ھو کر یا بیٹھ کر آنے جانے والی خواتین اور طالبات کو غیر ضروری نظروں سے دیکھنے کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ رویہ ہر فرد یا ہر جگہ پر لاگو نہیں کیا جا سکتا، لیکن جہاں کہیں بھی ایسا رجحان موجود ھو، وہ سماجی بے چینی اور عدم تحفظ کے احساس کو جنم دیتا ھـے۔ ایک مہذب معاشرے میں ہر فرد کی ذمہ داری ھـے کہ وہ دوسروں کے لیے سہولت، عزت اور آسانی کا باعث بنے۔
اس پورے پس منظر میں وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز کا ویژن ایک ایسے سماجی ڈھانچے کی طرف اشارہ کرتا ھـے جہاں خواتین کو نہ صرف تحفظ حاصل ھو بلکہ انہیں تعلیم، روزگار اور نقل و حرکت میں مکمل آزادی بھی حاصل ھو۔ یہ ویژن دراصل اس سوچ کی نمائندگی کرتا ھـے کہ خواتین کو معاشرے کا فعال حصہ بنایا جائے، نہ کہ انہیں محدود رکھا جائے۔
ڈیجیٹل دور میں جہاں جدید ٹیکنالوجی نے بے شمار سہولتیں فراہم کی ہیں، وہیں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے غلط استعمال نے نئے سماجی خطرات کو بھی جنم دیا ھـے۔ اسی تناظر میں آر پی او فیصل آباد سہیل اختر سکھیرا نے خصوصاً خواتین، طالبات اور نوجوان بچیوں کو اہم پیغام دیتے ھوئے کہا ھـے کہ وہ اپنی ذاتی تصاویر یا ویڈیوز غیر ضروری طور پر سوشل میڈیا، فیس بک یا دیگر آن لائن پلیٹ فارمز پر شیئر کرنے سے حتیٰ الامکان گریز کریں۔ ان کا کہنا ھـے کہ بعض شرپسند عناصر جدید اے آئی ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کرتے ہوئے تصاویر میں رد و بدل کر کے جعلی مواد تیار کرتے ہیں اور پھر اسی بنیاد پر بلیک میلنگ، ہراسمنٹ اور ذہنی اذیت کا باعث بنتے ہیں۔ انہوں نے والدین اور تعلیمی اداروں پر بھی زور دیا کہ وہ نوجوان نسل کو ڈیجیٹل سیکیورٹی، آن لائن پرائیویسی اور ذمہ دارانہ سوشل میڈیا استعمال کے بارے میں آگاہ کریں تاکہ معاشرے کو ایسے بڑھتے ھوئے جرائم سے محفوظ بنایا جا سکے اور خواتین بااعتماد انداز میں اپنی تعلیمی اور پیشہ ورانہ سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔ ان کا یہ پیغام دراصل اس حقیقت کی عکاسی کرتا ھـے کہ موجودہ دور میں جسمانی تحفظ کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل تحفظ بھی اتنا ھی ضروری بن چکا ھے، کیونکہ ایک معمولی سی غفلت کسی خاندان اور خصوصاً نوجوان بچیوں کے لیے سنگین سماجی اور نفسیاتی مسائل کا سبب بن سکتی ھے۔
خواتین کسی بھی معاشرے کا نصف سے زیادہ حصہ ھوتی ہیں۔ اگر اس بڑے طبقے کو تعلیم کے مواقع ملیں تو نہ صرف خاندانی نظام مضبوط ھوتا ھـے بلکہ قومی سوچ بھی ترقی کرتی ھے۔ ایک تعلیم یافتہ ماں بہتر نسل کی تربیت کرتی ھـے اور ایک باشعور خاتون پورے گھرانے کی فکری بنیادوں کو مضبوط بناتی ھے۔ یہی وجہ ھـے کہ دنیا بھر میں خواتین کی تعلیم کو بنیادی اہمیت دی جاتی ھـے۔
اسی طرح اگر کوئی خاتون اعلیٰ تعلیم حاصل نہ بھی کر سکے تو اس کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کرنا بھی ریاست کی ذمہ داری ھـے۔ فیصل آباد جیسے صنعتی شہر میں ہزاروں خواتین اور لڑکیاں فیکٹریوں میں کام کر کے اپنے گھروں کا معاشی بوجھ ہلکا کرتی ہیں۔ یہ عمل نہ صرف ان کے خاندانوں کے لیے مددگار ھوتا ھـے بلکہ مجموعی قومی معیشت میں بھی اہم کردار ادا کرتا ھـے۔
اگر خواتین کو محفوظ، باوقار اور پرسکون ماحول فراہم کیا جائے تو وہ زیادہ اعتماد کے ساتھ تعلیم اور روزگار کے میدان میں آگے بڑھ سکتی ہیں۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ھـے جس پر جدید ریاستوں کی ترقی کا انحصار ھوتا ھـے کہ شہریوں کو مساوی مواقع اور تحفظ فراہم کیا جائے۔
فیصل آباد میں امن و امان اور شہری نظم و ضبط کے حوالے سے پولیس اور انتظامی سطح پر جو اقدامات کیے جا رھے ہیں، ان میں مقامی سطح پر سماجی ماحول کی بہتری پر خصوصی توجہ دی جا رھی ھـے۔ آر پی او فیصل آباد سہیل اختر سکھیرا کی قیادت میں شہری نظم و نسق کو بہتر بنانے اور عوامی مقامات پر غیر ضروری رکاوٹوں اور بے مقصد اجتماعات کی حوصلہ شکنی کے حوالے سے جو اقدامات دیکھنے میں آئے ہیں، انہیں مجموعی طور پر ایک مثبت انتظامی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ھـے۔
ان اقدامات کا مقصد کسی مخصوص طبقے کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایسا ماحول پیدا کرنا ھـے جہاں ہر شہری بلا خوف و خطر اپنی روزمرہ زندگی گزار

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے