#کالم

ایک عہد کا نام ،ڈاکٹر سید تنویر بخاری رح

image 2343

تحریر: افتخار احمد فلکی، فاروق آباد

ادب، فقر اور عشق کے سمندر میں بہت سے تیراک اپنی اپنی مہارت دکھاتے ہیں۔ کچھ ادب کے موتی تلاش کرتے ہیں، کچھ تصوف کی گہرائیوں سے معرفت کے جواہر نکالتے ہیں اور کچھ عشق کی ایسی ڈبکی لگاتے ہیں کہ "انا الحق” کی صدائیں بلند ہونے لگتی ہیں۔ مگر ڈاکٹر سید تنویر بخاریؒ کی شخصیت ان سب سے منفرد تھی۔انہوں نے اگر قلم اٹھایا تو ماں بولی پنجابی کی خدمت کے لیے۔ وہ ماں بولی کے ایسے عاشق اور جاں نثار سپوت بن کر سامنے آئے کہ سینکڑوں کتابیں پنجابی ادب کو عطا کر دیں۔ شاعری کی تقریباً ہر صنف میں طبع آزمائی کی، پنجابی لغت مرتب کی، پنجاب کی تہذیب، ثقافت اور لوک ورثے پر تحقیقی کام کیا اور پنجابی زبان کے وقار کو بلند کیا۔غزل کو ایسا نکھارا کہ وہ اپنی مخصوص لے اور حسن کے ساتھ دلوں میں اترتی محسوس ہوتی ہے۔ ماہیہ، ٹپہ، ڈھولا، گیت، بولی اور لوک ادب کی دیگر اصناف کو محفوظ کیا اور نئی زندگی بخشی۔ تصوف کے میدان میں بھی انہوں نے وحدت، محبت اور انسان دوستی کا درس عام کیا۔ماں بولی سے ان کا عشق بچپن سے آخری سانس تک قائم رہا۔ وہ محقق، درویش، شاعر، استاد اور دانشور تھے۔ یکم جون 2023ء کو وہ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
انا للہ وانا الیہ راجعون
"حُسن ، محبت ایکتا دا ،سدّا سبھناں تیک اپڑاویا جے
میری گل دے مگر ضرور لگنا ،میرے پچھے بے شک نہ آویا جے

ضلع قصور کے ایک گاؤں کے سید گھرانے میں جنم لینے والا یہ بچہ آگے چل کر علم و ادب کا ایسا روشن چراغ بنے گا، شاید کسی نے سوچا بھی نہ تھا۔ ان کا اصل نام فقیر محمد تھا اور واقعی وہ فقیری، درویشی اور انکساری کا پیکر تھے، جبکہ "تنویر” ان کے قلمی نام کی عملی تفسیر تھا کیونکہ انہوں نے اپنی تحریروں اور کردار سے ہر طرف روشنی پھیلائی۔ابتدائی دینی اور عصری تعلیم حاصل کرنے کے بعد مختلف علوم میں ایم اے کیا اور پھر پی ایچ ڈی کی منزل طے کی۔ علمی سفر میں رکاوٹیں ضرور آئیں مگر وہ ہر مشکل کو عبور کرتے گئے۔ بعد ازاں ان کی شاعری، شخصیت اور علمی خدمات پر بھی متعدد تحقیقی مقالے اور پی ایچ ڈی سطح کی تحقیقات مکمل ہوئیں۔ڈاکٹر تنویر بخاریؒ نے پنجابی ادب کو سینکڑوں کتابوں کا تحفہ دیا۔ حمد، نعت، نظم، غزل، رباعی، بیت، گیت اور صوفیانہ شاعری کے علاوہ انہوں نے پنجابی لغت، لوک ادب، بولیاں، لوریاں، جگنی، ماہیے، ٹپے، ڈھولے اور متعدد لوک اصناف پر تحقیق کی۔ چالیس سے زائد تحقیقی مقالات لکھے اور نصابی و قانونی نوعیت کی کتابیں بھی تصنیف کیں۔وہ اپنے گاؤں میں اپنے بزرگوں کے دربار سے وابستہ تھے اور اہلِ علم و ادب کی علمی پیاس بجھاتے رہتے تھے۔ ان کی شاعری میں دیہی زندگی، عام آدمی کے مسائل، اخلاقی اقدار اور اسلامی فکر نمایاں نظر آتی ہے۔ ان کے اشعار زندگی گزارنے کا سلیقہ بھی سکھاتے ہیں اور کہاوتوں کی طرح رہنمائی بھی کرتے ہیں۔آئیے اہلِ علم و ادب کی نظر میں تنویر بخاری رح کی شخصیت دیکھتے ہیں۔

ڈاکٹر آفتاب احمد نقوی”
ڈاکٹر آفتاب احمد نقوی کے مطابق تنویر بخاریؒ کی نعتیہ شاعری پنجابی ادب کا قیمتی سرمایہ ہے۔ ان کی کتاب "حضور دے حضور” پنجابی نعتیہ شاعری میں ایک منفرد اضافہ ہے۔
علامہ یعقوب انور:
علامہ یعقوب انور نے انہیں "ماں بولی دا ہیجلا پُتر” یعنی ماں بولی کا سچا عاشق فرزند قرار دیا۔ ان کے نزدیک تنویر بخاریؒ نے اپنی پوری زندگی پنجابی زبان کے قدموں میں نچھاور کر دی۔
امرتا پریتم:
مشہور ادیبہ امرتا پریتم نے ان کی شاعری کو درد، احساس اور انسانی تجربات کا آئینہ قرار دیا اور لکھا کہ تنویر بخاریؒ کے اشعار زندگی کے گہرے سچ بیان کرتے ہیں۔
ڈاکٹر اظہار احمد گلزار: گئی
ان کے مطابق تنویر بخاریؒ نے پنجابی غزل کو ایک نئی شناخت دی۔ ان کی زبان سادہ، دیہی اور خالص پنجابی تھی اور وہ تصنع اور لفظی بناوٹ سے دور رہتے تھے۔
ہری سنگھ (مدیر میل ملاپ، چندی گڑھ)
انہوں نے لکھا کہ اگرچہ تنویر بخاریؒ خود کو "زندگی کے چہرے پر ایک داغ” کہتے تھے، مگر حقیقت میں وہ چاند کی طرح روشن تھے جن کی روشنی آنے والی نسلوں تک پہنچتی رہے گی۔
ناصر آغا:
ناصر آغا کے نزدیک تنویر بخاریؒ ظاہری طور پر سادہ مگر باطن میں گہرے فکری اور روحانی انسان تھے جنہوں نے اپنی تمام صلاحیتیں پنجابی زبان کی خدمت کے لیے وقف کر دیں۔
پروفیسر سرفراز حسین قاضی:
انہوں نے تنویر بخاریؒ کو جدید پنجابی نظم کا منفرد شاعر قرار دیا اور کہا کہ وہ چند مصرعوں میں فلسفہ، فکر اور جذبے کا سمندر سمو دیتے تھے۔
خلیل آتش:
خلیل آتش کے مطابق تنویر بخاریؒ نئے راستوں کے مسافر تھے جن کے الفاظ قاری کے تخیل کو اپنے ساتھ بہا لے جاتے ہیں۔
پروفیسر اکرم سعید:
ان کے نزدیک تنویر بخاریؒ دکھ درد کے شاعر تھے جو انسانی مسائل پر روتے اور انسانیت کے لیے خوشی اور سکون کی دعا کرتے تھے۔
غلام مصطفیٰ بسمل:
بسمل صاحب کے مطابق تنویر بخاریؒ ایسا شاعر تھا جو صرف چنگاریاں نہیں چھوڑتا تھا بلکہ پورے ماحول کو روشنی سے بھر دیتا تھا۔
اقبال زخمی:
انہوں نے تنویر بخاریؒ کو ماں بولی کا عظیم سپوت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی خدمات کا حق ادا کرنا ممکن نہیں۔
پروفیسر عارف عبدالمتین:
ان کے مطابق "سوہنی دھرتی” پنجابی شاعری میں وطن دوستی اور دھرتی سے محبت کی ایک بے مثال کتاب ہے۔
ڈاکٹر سید اختر جعفری:
انہوں نے لکھا کہ تنویر بخاریؒ نے پنجابی زبان کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا اور دنیاوی لالچ سے بے نیاز ہو کر خاموشی سے ادب کی خدمت کرتے رہے۔
پروفیسر ڈاکٹر ارشد اقبال ارشد::
ان کے مطابق تنویر بخاریؒ جتنے بڑے شاعر تھے، اتنے ہی عظیم انسان بھی تھے۔ انہوں نے زندگی بھر محبت بانٹی اور صبر و رضا کا دامن کبھی ہاتھ سے نہ چھوڑا۔
خراجِ عقیدت
تنویر بخاریؒ ایک شاعر ہی نہیں بلکہ ایک عہد کا نام تھے۔ وہ پنجابی زبان کے ایسے عاشق تھے جنہوں نے اپنی

ایک عہد کا نام ،ڈاکٹر سید تنویر بخاری رح

04/06/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے