#کالم

داتا علی ھجویری کےدربار کا تقدس،اور انتظامی مجرمانہ غفلت

WhatsApp Image 2025 10 21 at 23.56.49 1

تحریر: محمد ندیم بھٹی

داتا دربار برصغیر پاک و ہند کی روحانی تاریخ کا وہ عظیم مرکز ھـے جہاں صدیوں سے محبت، اخلاص، رواداری اور انسانیت کا چراغ روشن ھـے۔ حضرت علی ہجویریؒ المعروف داتا گنج بخشؒ نے اس خطے میں روحانیت، علم، برداشت اور انسان دوستی کا وہ پیغام دیا جس نے لاکھوں لوگوں کے دلوں کو متاثر کیا۔ آج بھی روزانہ ہزاروں جبکہ سالانہ لاکھوں زائرین اس مقدس مقام پر حاضر ھوتے ہیں اور روحانی سکون حاصل کرتے ہیں۔ داتا دربار صرف ایک مزار نہیں بلکہ پاکستان کی مذہبی، ثقافتی اور تاریخی شناخت کا ایک اہم ستون ھـے۔ یہی وجہ ھـے کہ یہاں کا ماحول، صفائی، نظم و ضبط اور تقدس ہمیشہ مثالی ھونا چاہیے، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ھـے کہ حالیہ عرصے میں یہاں پیدا ہونے والی صورتحال نے زائرین کو شدید ذہنی اور روحانی اذیت میں مبتلا کر دیا ھـے۔
زائرین کی بڑی تعداد مسلسل اس امر کی شکایت کرتی نظر آتی ھـے کہ دربار کے مرکزی راستوں، بالخصوص سونے والے دروازے سے ملحقہ اور اطراف کی گزرگاھوں میں شدید بدبو محسوس ھوتی ھـے۔ بعض مقامات پر گندگی اور ناقص صفائی کے باعث صورتحال اس قدر خراب ھـے کہ عقیدت مندوں کو ناک بند کر کے گزرنا پڑتا ھـے۔ یہ منظر نہ صرف افسوسناک ھـے بلکہ ایک ایسے روحانی مرکز کے تقدس کے بھی خلاف ھـے جہاں لوگ قلبی سکون اور روحانی راحت کی امید لے کر آتے ہیں۔ جب ایک زائر روحانی کیفیت میں دربار میں داخل ھو اور اسے بدبو، گندگی اور ناقص انتظامات کا سامنا کرنا پڑے تو اس کے جذبات بری طرح مجروح ھوتے ہیں۔
یہ سوال اب شدت اختیار کرتا جا رھا ھـے کہ آخر محکمہ اوقاف اور مذہبی امور پنجاب اس صورتحال کو سنجیدگی سے کیوں نہیں لے رھا ؟ سیکرٹری اوقاف پنجاب اور ایڈمنسٹریٹر داتا دربار کی ذمہ داری صرف رسمی دوروں، اجلاسوں اور کاغذی کارروائیوں تک محدود نہیں ھونی چاہیے بلکہ زمینی حقائق پر بھی مکمل توجہ دی جانی چاہیے۔ زائرین کا کہنا ھـے کہ اعلیٰ حکام جب دورے پر آتے ہیں تو چند مخصوص حصوں کو عارضی طور پر صاف کر دیا جاتا ھـے، مگر مجموعی صورتحال جوں کی توں برقرار رہتی ھـے۔ اگر روزانہ لاکھوں روپے کے اخراجات صفائی اور دیکھ بھال پر کیے جا رھے ہیں تو پھر سوال پیدا ہوتا ھـے کہ نتائج کیوں نظر نہیں آتے؟
راقم کو گزشتہ دنوں فجر کی نماز سے پہلے داتا دربار جانے اور مشاہدہ کرنے کا موقع ملا۔ رات کے آخری پہر اور صبح کے ابتدائی اوقات میں جب زائرین کی تعداد نسبتاً کم تھی تو مرکزی برآمدوں اور گزرگاھوں کی صورتحال دیکھ کر شدید افسوس محسوس ھوا۔ بعض مقامات پر فرش پر گندگی کے واضح نشانات جو برآمدے کے قیمتی لگے پتھر کا رنگ بھی بدل چکے تھے اور فضا میں طہارت خانوں کی وجہ سے بدبو محسوس ھو رھی تھی۔ ماضی میں یہاں جدید مشینوں کے ذریعے صفائی کی جاتی رھی تھی، معلومات پر افشاں ھو کہ وہ مشینری استعمال کرنے کی اجازت نہیں اور اب زیادہ تر کام وائپروں کے ذریعے ھوتا دکھائی دیتا ھـے۔ ایک سپروائزر نے غیر رسمی گفتگو میں بتایا کہ مشینری کی جگہ محدود دستی صفائی پر انحصار بڑھ چکا ھـے، حالانکہ صفائی کے لیے مختص بجٹ اور وسائل بدستور موجود ہیں۔ اگر واقعی ایسا ھـے تو یہ معاملہ توجہ طلب ھـے کیونکہ جس دربار سے لاکھوں لوگ روحانی فیض حاصل کرتے ھوں، وہاں صفائی کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ھونا چاہیے۔
یہ حقیقت بھی اپنی جگہ اہم ھـے کہ داتا دربار صرف لاھور یا پنجاب کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا روحانی چہرہ ھـے۔ یہاں بیرون ملک سے آنے والے زائرین بھی حاضری دیتے ہیں اور پاکستان کے بارے میں اپنا ابتدائی تاثر اسی مقام سے لیتے ہیں۔ اگر یہاں صفائی، نظم و ضبط اور خوشگوار ماحول کا فقدان ھو گا تو یہ صرف ایک مذہبی مقام کی بدانتظامی نہیں بلکہ پورے ملک کی ساکھ پر منفی اثر ڈالے گا۔ دنیا بھر کے بڑے مذہبی مراکز میں صفائی اور ماحول کو بنیادی اہمیت دی جاتی ھـے کیونکہ یہ صرف ظاہری مسئلہ نہیں بلکہ روحانی تجربے کا حصہ ھوتا ھـے۔
صورتحال اس وقت مزید سنگین محسوس ھوتی ھـے جب طہارت خانوں اور نکاسی آب کے ناقص انتظامات کی بدبو مرکزی گزرگاھوں تک پہنچتی ھـے۔ زائرین یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ آخر ایسی منصوبہ بندی کیوں کی گئی جس کے باعث بدبو پورے ماحول کو متاثر کر رھی ھـے؟ اگر طہارت خانوں اور دیگر سہولیات کو بہتر منصوبہ بندی کے ساتھ مناسب فاصلے پر منتقل کیا جائے تو صورتحال میں واضح بہتری لائی جا سکتی ھـے۔ یہ کوئی ناقابلِ حل مسئلہ نہیں بلکہ صرف سنجیدہ توجہ اور عملی اقدامات کا تقاضا کرتا ھـے۔
افسوس کی بات یہ بھی ھـے کہ اکثر ترقیاتی منصوبوں، تزئین و آرائش اور جدید سہولیات کے دعوے تو کیے جاتے ہیں، مگر زمینی حقائق ان دعوؤں کی نفی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ کئی زائرین کا کہنا ھـے کہ دربار کے بعض حصوں میں صفائی صرف اس وقت بہتر کی جاتی ھـے جب کسی اہم شخصیت مثال کے طور پر ڈپٹی وزیر اعظم محترم جناب اسحاق ڈار صاحب کی آمد متوقع ھو۔ سوال یہ ھـے کے ان کو بھی مخصوص راستے سے گزار کر دربار تک پہنچایا جاتا ھے دلی عقیدت رکھنے والے عام زائرین کوئی اہمیت نہیں ؟ کیا وہ لوگ جو دور دراز علاقوں سے عقیدت کے ساتھ یہاں حاضر ھوتے ہیں، انہیں صاف اور خوشگوار ماحول فراہم کرنا انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری نہیں؟
یہ بھی ایک حقیقت ھـے کہ صفائی نصف ایمان قرار دی گئی ھـے۔ ایک مذہبی اور روحانی مرکز میں صفائی کی اہمیت کہیں زیادہ بڑھ جاتی ھـے۔ جب زائرین دربار میں داخل ھوتے ہیں تو وہ صرف عمارت یا سجاوٹ نہیں دیکھتے بلکہ پورا ماحول محسوس کرتے ہیں۔ خوشبو، سکون، صفائی اور نظم و ضبط ان کے روحانی تجربے کا حصہ ھوتے ہیں۔ اگر یہی ماحول بدبو اور گندگی سے متاثر ھو جائے تو یہ اس مقدس مقام کے روحانی وقار کو بھی متاثر کرتا ھـے۔
وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ سے بھی گزارش ھـے کہ

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے