#کالم

"بنیان المرصوص”جب قوم سیسہ پلائی  دیوار بن جاتی ہے 

Untitled 5

احساس کے انداز تحریر :۔ جاویدایازخان

تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ جنگیں ہتھیاروں سے نہیں، کردار سے جیتی جاتی ہیں۔ تلواریں صرف میدان بدلتی ہیں، مگر نظریات زمانے بدل دیتے ہیں۔ جب انسان اپنے ذاتی مفاد سے اوپر اٹھ کر ایک اجتماعی مقصد کا سپاہی بن جائے تو وہ محض فرد نہیں رہتا، بلکہ ایک ایسی اینٹ بن جاتا ہے جو ایک عظیم عمارت کی بنیاد مضبوط کرتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قرآن کا سنہری اصول “بنیانٌ مرصوص” ہمارے سامنے آتا ہے۔ یہ محض ایک لفظ نہیں، ایک زندہ تصور ہے۔ ایک ایسی دیوار، جو اینٹوں سے نہیں بلکہ ایمان، یقین اور نظم و ضبط سے تعمیر ہوتی ہے۔ ایسی دیوار جس میں نہ دراڑ ہوتی ہے، نہ کمزوری، نہ خودغرضی کی جگہ۔ جب افراد اپنی انا کو قربان کر کے ایک صف میں کھڑے ہو جاتے ہیں تو وہ محض لوگ نہیں رہتے، بلکہ تاریخ کا دھارا موڑنے والی قوت اور قوم بن جاتے ہیں۔اسلامی تاریخ مین جابجا ایسی مثالیں ملتی ہیں جہاں اتحاد ویکجہاتی کی سیسہ پلائی دیوار نے اپنے سے زیادہ طاقتور دشمن کو بےبس کرکے رکھ دیا  اور دنیا پر اسلامی پرچم لہرا دیا ۔لوگوں کے دل جیتنے کا یہ سلسلہ آج بھی "آپریشن بنیان المرصوص "میں دکھائی دیا جب ہماری بہادر اور مسلح عسکری قیادت اور افواج نے اپنے سے کئی گنا بڑے ازلی دشمن کے ناصرف ناپاک عزائم خاک میں ملا دیے بلکہ دشمن کے آٹھ جدید ترین جنگی طیارۓ گرا کر دشمن کی کمر توڑ کر رکھ دی ۔اور دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستانی قوم اور افواج ایک ایسی سیسہ پلائی دیوار کی مانند ہیں جو ناقابل تسخیر ہے ۔پاکستان کی  کی جانب سے جس عزم ،حوصلے ،بہادری ،استقامت اور یکجہاتی کا مظاہرہ دیکھنے میں آیا وہ پوری دنیا کے لیے ایک مثال بن گیا ۔پوری دنیا کو ہماری بہادر افواج نے پیغام دیا کہ ہم ایک امن پسند قوم ہیں لیکن ہماری امن پسندی کو کمزوری  ہرگز نہ سمجھا جاۓ۔جہاں ایک طرف "بنیان مرصوص” جیسا قرآنی  تصور ہمیں اتحاد ،نظم اور استقامت کا درس دیتا ہے وہیں دوسری جانب دنیا ہم وقت پڑنے پر ایک سیسہ پلائی دیوار بن جاتے ہیں ۔

ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم 

رزم حق  و   باطل ہو تو فولاد ہے مومن 

فرمان الہی ہے کہ "بےشک خدا ان (مجاہدوں) کو دوست رکھتا ہے جو اس کی راہ میں یوں صف  بستہ ہوکر جنگ کرتے ہیں کہ گویا وہ سیسہ پالئی دیوار ہیں (القران) اگر ہم غزوہ بدر کے میدان پر نظر ڈالیں تو ہمیں ایک ایسا ہی منظر دکھائی دیتا ہے۔ جہاں ایک جانب تین سو تیرہ کا مختصر قافلہ، وسائل سے محروم، مگر ایمان و یقین سے لبریز۔ دوسری طرف ایک منظم، مسلح اور تعداد میں کئی گنا بڑا لشکر کفار تھا ۔ لیکن نتیجہ کیا نکلا؟ حق نے باطل کو شکست دی، کیونکہ وہاں ایک “بنیانٌ مرصوص” موجود تھا—ایک ایسی دیوار جسے کوئی طاقت توڑ نہ سکی۔ پھر غزوہ احد ہمیں ایک اور سبق دیتا ہے۔ جب عزم کی اسی دیوار میں نظم کی ایک چھوٹی سی اینٹ ڈھیلی پڑی تو نقصان ہوا۔ یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ “بنیانٌ مرصوص” صرف جذبے کا نام نہیں، بلکہ مکمل اطاعت، نظم اور قربانی کا تقاضا بھی کرتا ہے۔ اور غزوہ خندق میں تو گویا اس تصور کو عملی شکل دے دی گئی۔ دشمن چاروں طرف سے حملہ آور تھا، مگر مسلمانوں نے اتحاد اور حکمت عملی سےگہری خندق کی   ایک ایسی دیوار کھڑی کر دی جسے عبور کرنا ممکن نہ رہا۔ یہ صرف ایک خندق ہی نہیں تھی، یہ ایمان اور اتحاد کی مضبوط لکیر تھی—ایک زندہ “بنیانٌ مرصوص”۔یعنی سیسہ پلائی دیوار تھی ۔ حضرت خالدبن ولیدکی فتوحات ہوں یا پھر حضرت طارق بن زیاد  اور نوجوان فاتح محمد بن قاسم کی جنگی حکمت عملی ہو تو مسلمانوں نے سیسہ پلائی دیوار بن کر ہی پوری دنیا پر اپنا جھنڈا لہرایا تھا ۔

آج کے دور میں جب “آپریشن بنیان المرصوص” جیسی اصطلاحات سننے کو ملتی ہیں تو سوال یہ نہیں ہوتا کہ اس کے پیچھے کتنی طاقت ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ کیا اس کے پیچھے وہی روح موجود ہے؟ کیا وہی اتحاد، وہی نظم، وہی اخلاص؟ کیونکہ اگر دل بٹے ہوں، نظریات منتشر ہوں، اور مفادات غالب ہوں تو بڑے سے بڑا لشکر بھی ریت کی دیوار ثابت ہوتا ہے۔ لیکن اگر نیتیں یکسو ہوں، قیادت پر اعتماد ہو، اور مقصد واضح ہو تو کمزور ترین قوم بھی ناقابلِ شکست بن جاتی ہے۔ معرکۂ حق ہمیشہ تلواروں سے نہیں جیتا جاتا، بلکہ کردار، اتحاد اور استقامت سے جیتا جاتا ہے۔ آج کا میدان جنگ صرف بارود کا نہیں، بلکہ فکر، میڈیا، معیشت اور نظریات کا بھی ہے۔ یہاں بھی “بنیانٌ مرصوص” بننے کی ضرورت ہے—ایک ایسی قوم، جو اختلاف کے باوجود انتشار کا شکار نہ ہو، جو تنقید کے باوجود اپنی بنیادیں کمزور نہ ہونے دے۔ یہ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے اندر جھانکیں۔ کیا ہم واقعی اس دیوار کا حصہ ہیں، یا محض تماشائی؟ کیا ہم اپنی انا، مفاد اور اختلافات کو قربان کر کے ایک مضبوط صف بنا سکتے ہیں؟ کیونکہ تاریخ نے ہمیشہ یہی ثابت کیا ہے کہ جب قوم دیوار بن جائے، تو طوفان راستہ بدل لیتے ہیں۔ بنیانٌ مرصوص” صرف ایک عسکری نعرہ نہیں، بلکہ ایک قومی و ایمانی فلسفہ ہے—جو ہمیں سکھاتا ہے کہ فتح کا راستہ اتحاد، نظم اور اخلاص سے ہو کر گزرتا ہے۔”بنیان مرصوص ” کا مطلب ہے کہ کوئی دراڑ نہیں ،کوئی بکھراؤ نہیں ،امن پسندی ہے کوئی کمزوری نہیں صرف ایک عہد کہ ہم اپنی دھرتی کی مٹی پر آنچ نہیں آنے دیں گے ۔صرف دفاع ہی نہیں کریں گے بلکہ اللہ کے حکم کے مطابق صف بستہ ہوکر جہاد کریں گے اور دشمن کو بتائیں گے کہ ہماری طاقت اسلحے یا ہتھیاروں میں نہیں ہے بلکہ اتحاد ،اخلاص اور ایمان میں ہے ۔ہم اپنے ایک ایک خون کا مل کر حساب لیں گے انشااللہ !آج کا یوم” بنیان المرصوص ” یوم تشکر کے ساتھ ساتھ اس بات کا اعادہ بھی کرتا ہے کہ اگر کسی نے میلی آنکھ سے دیکھا بھی تو ہم سیسہ پلائی دیوارکی طرح متحدہ اور مقابل نظر آئیں گے ۔ہم اس یوم تشکر پر اپنی عسکری قیادت اور افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔درحقیقت”بنیان مرصوص ” بننا ایک نعرہ ہی نہیں ایک مسلسل عمل ہے ۔یہ روزمرہ کے فیصلوں ،رویوں اور ترجیہات سے تشکیل پاتا ہے ۔جب ایک قوم یہ طے کر لے کہ اسے بکھرنا نہیں بلکہ جڑنا ہے تو پھر دنیا کی کوئی طاقت اسے شکست نہیں دۓسکتی۔عالمی سیات میں بعض ایسے لمحات ہوتےہیں جب بندوقیں خاموش ہو جاتی ہیں مگر اصل جنگ شروع ہوتی ہے ۔یہ جنگ ہوتی ہے سفارت کاری ،بیانیے اور اعتماد کی اور حالیہ امریکہ ۔ایران جنگ بندی اور مذاکرات اسی نوعیت کا ایک نازک موڑ ہے جہاں طاقت کے بعد حکمت کا مرحلہ آتا ہے ۔جہاں پاکستان نے ایک ایسے مشکل تنازع میں پل کا کردار  ادا کیا اور یہی وہ مقام ہے جہاں بنیان مرصوص”کا تصور ایک نئے معنی میں  سامنے آتا ہے ۔اب یہ جنگی صف بندی نہیں بلکہ سفارتی اتحاد ،قومی یکجہاتی اور حکمت عملی کی مضبوطی ہے ۔آج کا معرکہ صرف میدان جنگ میں نہیں بلکہ مذاکرات کی میز پر ،عالمی میڈیا میں اور اقتصادی ومعاشی فیصلوں میں  لڑا جارہا ہے۔اگر کوئی قوم واقعی "بنیان مرصوص ” بننا چاہتی ہے تو اسے جنگ میں بھی مضبوط ہونا ہوگا اور امن میں بھی متحد رہنا ہو گا ۔پاکستا ن اور اسکی قیادت کا کردار ایک سفارتی کامیابی کے طور پر ابھرا ہے ۔اسلامی تعلیمات اس مرحلے پر صلح ،حکمت اور اتحاد کا درس دیتی ہیں کہ ‘بنیان مرصوص”اب صرف جنگ نہیں  بلکہ سفارتی کاری میں بھی درکار ہے ۔اگر سفارت کاری مضبوط ہو نیت واضح ہو اور قوم متحد ہو تو جنگ بندی صرف وقفہ نہیں رہتی بلکہ مستقل امن کی بنیاد بن سکتی ہے۔اصل فتح وہ نہیں جب جنگ رک جاۓ بلکہ وہ ہے جب امن قائم رہ جاۓ۔پاکستانی افواج کا کردار جنگ میں بھی مثالی رہا اور آج امن کے قیام میں بھی تاریخی اور مثالی دکھائی دیتا ہے ۔آج پوری دنیا کی نظریں امن کے لیے پاکستان کی جانب دیکھ رہی ہیں ۔جس کے لیے ہماری عسکری وسیاسی قیادت کو پوری قوم کی تائیدو حمایت  حاصل ہے ۔یہی یکجہاتی پوری قوم کو "بنیان مرصوص ” یعنی سیسہ پلائی دیوار بناتی ہے ۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے