#کالم

معرکۂ حق. عزم، اتحاد اور وطن کی حرمت کا لازوال استعارہ

Untitled 1

تحریر: منشا قاضی

ہارمونی گروپ کے آفس میں منعقد ہونے والی “معرکۂ حق” کے عنوان سے یہ باوقار تقریب محض ایک رسمی نشست نہ تھی، بلکہ یہ اُس اجتماعی شعور کی تجدید تھی جس میں ایک قوم اپنی تاریخ، اپنی شناخت اور اپنے مستقبل کو ایک ہی دھڑکتے ہوئے دل کی مانند محسوس کرتی ہے۔ ایسے مواقع محض تقاریب نہیں ہوتے؛ یہ وہ روحانی لمحے ہوتے ہیں جہاں قومیں اپنے اندر جھانکتی ہیں، اپنی صفوں کو دیکھتی ہیں، اپنے عزم کو پرکھتی ہیں اور اپنی منزل کے لیے ایک نئی روشنی تراشتی ہیں۔
اس پُروقار محفل میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی معزز شخصیات کی شرکت اس بات کی روشن دلیل تھی کہ وطن سے محبت کسی ایک طبقے، کسی ایک پیشے یا کسی ایک منصب کی میراث نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا مقدس جذبہ ہے جو دلوں کو جوڑتا ہے، فاصلے مٹاتا ہے اور انسانوں کو ایک عظیم تر مقصد کے گرد مجتمع کرتا ہے۔ جناب شہزادہ عالمگیر صاحب، نسیم احمد عثمانی صاحب، ڈاکٹر جیمز چنن OP، کرنل زاہد بشیر صاحب، انجینئر عمر صاحب اور شیخ سجاد احمد صاحب کی موجودگی نے اس تقریب کو وقار، وسعتِ نظر اور فکری گہرائی عطا کی۔ ان کے اسمائے گرامی محض مہمانوں کی فہرست نہ تھے، بلکہ اس قومی وحدت کی نمائندگی تھے جو پاکستان کی اصل طاقت ہے۔
تقریب کے دوران کیک کاٹنا بظاہر ایک سادہ سا منظر تھا، مگر اس کے پس منظر میں ایک گہرا مفہوم پوشیدہ تھا۔ یہ گویا اس عہد کی علامت تھا کہ پاکستان کی خوشی، اس کی سلامتی اور اس کی ترقی ہر محبِ وطن پاکستانی کا مشترکہ جشن ہے۔ اور جب پاکستان نیوی، پاکستان فضائیہ، پاکستان بری فوج اور تمام سیکیورٹی اداروں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا تو یوں محسوس ہوا جیسے قوم نے اپنے اُن سپاہیوں کو سلام کیا ہو جو خاموشی سے، مگر بے مثال جرات کے ساتھ، وطن کی سرحدوں پر اپنی جان، اپنی نیند، اپنے خواب اور اپنی راحت قربان کرتے ہیں۔
یہ حقیقت فراموش نہیں کی جا سکتی کہ قومیں صرف معیشت سے نہیں بنتیں، صرف عمارتوں اور سڑکوں سے نہیں سنورتیں، بلکہ ان کی اصل بنیاد وہ نظریاتی اور اخلاقی ستون ہوتے ہیں جن پر اجتماعی اعتماد کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج اور سیکیورٹی ادارے اسی اعتماد کی علامت ہیں۔ وہ محض عسکری قوت نہیں، بلکہ قومی غیرت، دفاعی وقار اور اجتماعی اطمینان کے زندہ نشان ہیں۔ ان کی موجودگی قوم کو یہ یقین دلاتی ہے کہ یہ سرزمین بے یار و مددگار نہیں، بلکہ ایک ایسی امانت ہے جس کی حفاظت کے لیے اس کے سپوت ہر دم مستعد ہیں۔
خصوصی طور پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر صاحب اور وزیرِ اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف صاحب کی قیادت اور خدمات کو سراہا جانا بھی اس تقریب کا ایک اہم اور معنوی پہلو تھا۔ قیادت محض حکم دینے کا نام نہیں؛ یہ سمت دینے، حوصلہ پیدا کرنے، بحران میں امید جگانے اور منتشر ذروں کو ایک مرکز پر جمع کرنے کا فن ہے۔ جب قیادت میں عزم، بصیرت اور قومی درد شامل ہو جائے تو وہ محض انتظام نہیں رہتی، تاریخ کا رخ بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسی شخصیات کا تذکرہ قوم کے اعتماد، اس کے حوصلے اور اس کے مستقبل کے روشن امکانات کی یاد دہانی بن جاتا ہے۔
اس محفل میں بار بار یہ عزم دہرایا گیا کہ اگر کسی نے بھی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا تو ہماری بہادر مسلح افواج اور پوری پاکستانی قوم سیسہ پلائی دیوار بن کر وطنِ عزیز کے دفاع کے لیے ہر وقت تیار ہے۔ یہ جملہ صرف ایک نعرہ نہیں، بلکہ ایک تہذیبی اعلان ہے۔ یہ اعلان کہ ہم امن کے خواہاں ضرور ہیں، مگر اپنی خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ ہم محبت کے علمبردار ہیں، مگر جارحیت کے سامنے جھکنے والی قوم نہیں۔ ہم تعمیر کے قائل ہیں، مگر دفاع کو اپنی حرمت کا لازم جزو سمجھتے ہیں۔
فلسفۂ حیات یہی سکھاتا ہے کہ قومیں تب تک زندہ رہتی ہیں جب تک ان کے اندر غیرتِ ملی، اتحادِ فکری اور قربانی کا جذبہ موجود رہے۔ وطن ایک زمین کا ٹکڑا نہیں؛ یہ ایک امانت ہے، ایک دعا ہے، ایک خواب ہے۔ اس کی مٹی میں آباؤ اجداد کی قربانیاں، حال کے سپوتوں کی جاں نثاری اور مستقبل کے بچوں کی امیدیں دفن ہیں۔ لہٰذا جب کوئی محفل وطن کے دفاع، اس کی عزت اور اس کی مسلح قوتوں کے احترام کے گرد منعقد ہو، تو وہ دراصل تاریخ کے صفحے پر ایک نئی عبارت رقم کرتی ہے۔
ہارمونی گروپ کی یہ تقریب اس اعتبار سے بھی اہم تھی کہ شہزادہ عالمگیر کی تقریر حلق سے نکل کر خلق تک پہنچ رہی تھی آپ نے “معرکۂ حق” کو محض ایک عسکری یا سیاسی عنوان کے طور پر نہیں دیکھا، بلکہ اسے اخلاقی، فکری اور قومی استقامت کے استعارے کے طور پر پیش کیا۔ حق ہمیشہ شور سے نہیں جیتا، کبھی کبھی خاموش عزم، منظم صف بندی اور باوقار کردار سے بھی اپنی فتح کا اعلان کرتا ہے۔ اور یہی اس تقریب کا پیغام تھا: کہ پاکستان کی اصل قوت اس کے لوگ ہیں، اس کے محافظ ہیں، اس کی قیادت ہے، اور سب سے بڑھ کر وہ ایمان ہے جو اس قوم کے سینے میں دھڑکتا ہے۔ شہزادہ عالمگیر نے فضائی سائنسدان عظیم فائٹر پائلٹ اور فضائیہ کے ترجمان ائر کموڈور خالد چشتی کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ان کی شاندار کارکردگی کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ۔
یوں یہ تقریب ایک یادگار لمحہ بن گئی، جس نے ثابت کیا کہ جب قومیں اپنے محافظوں کو عزت دیتی ہیں، اپنی قیادت کی قدر کرتی ہیں اور اپنے وطن کی حرمت پر یکجا ہوتی ہیں، تو پھر کوئی طاقت ان کے ارادوں کو شکست نہیں دے سکتی۔ پاکستان کے لیے یہی وہ زندہ روح ہے جو اسے آزمائشوں میں سنوارتی، اندھیروں میں روشن کرتی اور ہر “معرکہ” کو آخررکار “حق” کی فتح میں بدل دیتی ہے۔ شہزادہ عالمگیر نے اس شعر پر اپنا خطاب اختتام کیا

معرکۂ حق. عزم، اتحاد اور وطن کی حرمت کا لازوال استعارہ

09/05/2026 Daily Sarzameen Lahore

معرکۂ حق. عزم، اتحاد اور وطن کی حرمت کا لازوال استعارہ

سندور بنا تندور

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے