امریکہ کی جانب سے ایرانی جہاز پاکستان کے حوالے
اج کا اداریہ
امریکہ نے قبضے میں لیا ایرانی جہاز عملے سمیت پاکستان کے حوالے کیا ہے۔ایران نے اس ضمن میں پاکستان کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے شکریہ ادا کیا ہے۔۔ جہاز توسکا کے پندرہ ایرانی عملے کے ارکان کو ایران کے جنوب مشرقی علاقے میں واقع ریمداں سرحدی گزرگاہ کے راستے وطن واپس بھیج دیا گیا۔دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ کے ابنائے ہرمز بارے تازہ بیان کے بعد صورت حال پیچیدہ ہوگئی ہے۔ابنائے کھلوانے کے اس منصوپے کو ’پراجیکٹ فریڈم‘ قرار دیتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ اس عمل میں کسی بھی قسم کی مداخلت ہوئی تو ’سختی سے نمٹا جائے گا۔اپنی پوسٹ میں ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکی نمائندے ایران کے ساتھ ’نہایت مثبت‘ بات چیت کر رہے ہیں اور یہ مذاکرات ’سب کے لیے کسی نہایت مثبت نتیجے‘ تک پہنچ سکتے ہیں۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ یہ کارروائی امریکہ، ایران اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کی جانب سے ’انسانی ہمدردی کا ایک اشارہ‘ ہو گی، کیونکہ بہت سے جہازوں پر موجود عملہ ’خوراک اور دیگر بنیادی ضروریات کی شدید کمی‘ کا سامنا کر رہا ہے، جو بڑے عملے کے لیے صحت مند اور مناسب حالات برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔امریکی صدر کے اس بیان کا ایران کی جانب سے سخت ردعمل ایا ہے۔ایران کے مرکزی کمانڈر کے سربراہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب آنے یا اس میں داخل ہونے والی ’کسی بھی غیر ملکی مسلح فورس‘ پر حملہ کیا جائے گا۔۔۔ ’خصوصاً جارح امریکی فوج پر‘۔میجر جنرل علی عبداللہی نے کہا کہ ایران بارہا واضح کر چکا ہے کہ آبنائے ہرمز ’ایرانی مسلح افواج کے کنٹرول‘ میں ہے
دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے ہونے والی ’ایرانی جارحیت کی نئی لہر‘ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ’خطرناک اشتعال انگیزی‘ قرار دیا ہے۔یو اے ای کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں میزائلوں اور ڈرونز کے استعمال کو ’ایرانی جارحیت کی تجدید‘ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی اور کہا کہ یہ ایک خطرناک اور ناقابلِ قبول اضافہ ہے۔وزارت نے زور دیا کہ یہ پیش رفت متحدہ عرب امارات کے امن و استحکام کے لیے براہِ راست خطرہ ہے، اور اس بات پر بھی زور دیا کہ یو اے ای اپنی خودمختاری اور سلامتی کو متاثر کرنے والی کسی بھی کارروائی کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔متحدہ عرب امارات کی جانب سے جاری کیے گئے ایک تازہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کو آج ہونے والے نئے حملوں کا مکمل طور پر ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یہ حملے خطرناک اشتعال انگیزی اور ناقابلِ قبول حد سے تجاوز ہیں‘، اور یہ کہ ایسے اقدامات بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے اصولوں کی خلاف ورزی ہیں۔یو اے ای نے مزید کہا کہ وہ بین الاقوامی قانون کے مطابق ان حملوں کے جواب میں کارروائی کا اپنا مکمل اور جائز حق محفوظ رکھتا ہے۔دوسری جانب ایرانی سرکاری ٹی وی نے ایک نامعلوم ’سینیئر فوجی اہلکار‘ کے حوالے سے کہا ہے کہ ’ایران کا متحدہ عرب امارات کو نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔عمان کا کہنا ہے کہ ولایتِ بخا کے ایک قصبے میں واقع رہائشی عمارت پر حملے کے نتیجے میں دو غیر ملکی زخمی ہو گئے ہیں عمان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایک سکیورٹی ذریعے کا کہنا ہے کہ ولایتِ بخا کے علاقے طیبات میں جس رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا، وہاں ایک کمپنی کے ملازمین رہائش پذیر تھے۔خبر کے مطابق اس حملے میں دو غیر ملکی ملازمین معمولی زخمی ہوئے، جبکہ چار گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ حملے کے نتیجے میں قریب ہی واقع ایک گھر کی کھڑکیوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔متحدہ عرب امارات میں حملے کی اطلاعات کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور خام تیل کی قیمت 115 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔پیر کو خام تیل کی قیمتوں میں اُتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری تھا، تاہم پیر کی شام فجیرہ بندرگاہ کی اہم تنصیب پر حملے کی اطلاع کے بعد تیل کی قیمت میں پانچ فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔فجیرہ آبنائے ہرمز سے آگے متحدہ عرب امارات کے مشرقی ساحل پر واقع ہے۔ابوظہبی کے آئل فیلڈز سے ایک پائپ لائن فجیرہ تک جاتی ہے، جس سے آبنائے کے مؤثر طریقے سے بند ہونے کے باوجود محدود مقدار میں خام تیل کو ٹینکروں پر لوڈ کیا جا سکتا ہے اور عالمی منڈیوں میں بھیجا جا سکتا ہے۔قطر نے متحدہ عرب امارات کے فجیرہ پیٹرولیم انڈسٹریز زون میں ہونے والے حملے کی مذمت کی ہے۔قطری وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حملہ بین الاقوامی قانون اور میری ٹائم نیوی گیشن کی آزادی کے اُصول کی کھلی خلاف ورزی ہے۔فجیرہ گورنمنٹ میڈیا آفس کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ فجیرہ پیٹرولیم انڈسٹریز زون پر ہونے والے ایرانی ڈرون حملے کے نتیجے میں تین انڈین شہری زخمی ہوئے ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ تینوں افراد کو معمولی چوٹیں آئی ہیں اور انھیں علاج کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔متحدہ عرب امارات کے حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے ڈرون حملے کے نتیجے میں ملک میں تیل کی برآمدات کے لیے استعمال ہونے والی فجیرہ بندرگاہ پر آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا ہے۔فجیرہ امارات کی سب سے بڑی بندرگاہ اور تیل ذخیرہ کرنے کی اہم ترین تنصیب ہے۔ جنگ بندی سے قبل بھی اس مقام کو ڈرون حملوں میں نشانہ بنایا جا چکا ہے۔سوشل میڈیا پر جاری بیان میں فجیرہ گورنمنٹ میڈیا آفس کا کہنا ہے کہ سول ڈیفنس کی ٹیمیں آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہیں۔اس سے قبل متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے کہا تھا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایران سے داغے گئے تین میزائل فضا میں ہی مار گرائے ہیں جبکہ چوتھا میزائل سمندر میں گرا ہے۔ایران کی جانب سے اس بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔متحدہ عرب امارات






