شہر کے اندیشے
جمع تفریق۔۔۔ ناصر نقوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آ دمی انسان بن بھی جائے ،تب بھی اس کی بے صبری ،اجلت پسندی میں کمی نہیں آ تی، اس لیے کہ ہے تو وہ آ دم زادہ ہی، جس نے زمین پر آ تے ہی مفاد ،حسد اور اپنی برتری کے لیے نہ صرف فساد برپا کیا بلکہ اپنے سگے بھائی کو جان سے مار دیا ،بس مفاد پرستی حسد، لالچ اور اپنی برتری کی خواھش میں،یہ جنگ جب سے اب تک جاری ہے ہم پڑھے لکھے ہیں کہ جاھل، ہمارے ارد گرد کا ماحول قابل رشک ہے یا قابل اعتراض، ان حالات سے کوئی فرق نہیں پڑتا اس لیے کہ حالات و واقعات تو شخصیت پر اس وقت اثر اندازھوتے ہیں جب کوئی اس کے لیے تیار ہو، ہم تو ہر بات اور ہر قسم کے حالات میں صرف اپنے مفادات کی بات سوچتے ہیں، اگر کچھ کرنے کے قابل ہوں تو جائز ناجائز بھی کرنا اپنا حق سمجھ لیتے ہیں، نہیں تو حسد تو کرنا ہی ہے۔۔ ہر کامیاب اور خوشحال لوگوں کی شخصیت میں کیڑے نکال کر اسے ٫٫ڈی گریڈ ،،کرنا فرض جانتے ہیں حالانکہ اگر اتنی ہی محنت حسد اور خامیاں نکالنے کی بجائے مثبت انداز میں اپنی شخصیت بدلنے پر کی جائے تو معاملہ بہتر ہی نہیں، مثالی بھی بن سکتا ہے، حسد ایک حقیقت ہے جو کسی کا کچھ بگاڑنے کی بجائے اپنی شخصیت تباہ کر دیتا ہے اسی لیے کلمہ حق کے پروانوں کو اس سے بچنے کی تاکید بھی جا بجا کی گئی ہے، وجہ یہی ہے کہ کسی کی محنت اور اللہ کی دین پر اعتراض کی بجائے اپنی کمیوں اور خامیوں کو دور کرو تاکہ تم بھی اس منزل تک پہنچ سکو لیکن ہم نے خود کو بدلنے کی کبھی فکر اس لیے نہیں کی کہ ہم اور ہماری سوچ ہی نہیں انداز ہی سب سے بہتر ہے ،پھر بھی کوئی اپنے آ پ سے یہ سوال نہیں کرتا کہ میں دوسروں سے پیچھے کیوں ؟حقیقی منزل اسے کیوں ملی؟ جواب ملے گا ٫٫منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے ،،ہم تو شرافت میں مارے گئے ہماری صلاحیتوں کو نہ موقع ملا اور نہ ہی کسی نے پرکھنے کی زحمت کی جبکہ یہ بہانہ اور اپنی نااہلی سے فرار کا راستہ ہے، جو کچھ ہے اس نے بہت کچھ کیا اور جو کچھ نہیں، اس نے آ گے بڑھتے لوگوں سے صرف حسد کیا، جدوجہد اور بھاگ دوڑ سے منہ موڑ کر صرف یہی سوچتا رہا کہ اگر یہ نہ ہوتا تو میں آ گے نکل جاتا ،اس نے کسی کامیابی کی نہ حوصلہ افزائی کی اور نہ اس کامیابی سے کچھ سیکھنے کی کوشش کی بلکہ ہر کامیاب شخص سے ایسے نفرت کی جیسے اس نے اس کا حق چھین لیا حالانکہ نظام قدرت میں ارد گرد کے چھوٹے بڑے ،اچھے برے، امیر غریب سب کے سب کچھ نہ کچھ سکھانے اور سمجھانے کے لیے ہوتے ہیں ،بہتر ہے کہ خوش ہو کر مالک کائنات سے کہیں اسے دیا ہے تو کچھ تو ہمیں بھی، مسکرا کر التجا کریں کہ ہم بھی تیرے بندے ہیں غلطی کوتاہی معاف کر دے، مالک ہم تیرے بندے راضی بارضا۔۔ لیکن کچھ تو ادھر بھی۔۔ صبر و استقامت اور ہر حال میں خوش رہنا بھی عبادت سے کم نہیں ،یقین جانیے۔۔ مسکراہٹ دردکی شکست اور بندہ خدا کے چہرے کی رونق ہے حضرت معین الدین چشتی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں٫٫ خود پرستی اور نفس پرستی ہی دراصل ٫٫بت پرستی،، ہے جب تک اسے ترک نہیں کرو گے ٫٫خدا پرستی،، کی منزل نہیں ملے گی، قول عظیم یہ بھی تاریخ میں موجود ہے کہ عا قل کی ایک چھوٹی سی نیکی جاھل کے ہزار سالہ جہاد سے افضل ہے، پھر نسخہ کیمیا قر آ ن مجید میں یہ بھی سورۃ النساء میں موجود ہے کہ٫٫ اللہ تمہارے دشمنوں کو خوب جانتا ہے پھر رکھوالا اور مددگار بننے کے لیے بھی اللہ ہی کافی ہے پھر سوچنے کی بات ہے کہ اسلام دین حق٫٫ علم اور عمل،، کا مذہب ہوتے ہوئے بھی عقل سلیم کی موجودگی میں جاہلوں کی طرح حسد اور اپنے مفادات کے اصول کے لیے شہر کے اندیشے میں کیوں دبلے ہوئے جا رہے ہو؟ خود کچھ کرنا ہی نہیں چاہتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ تم خلق خدا کے لیے آ سانیاں پیدا کرو، سہارا بنو، مثبت سوچ سے جائز انداز اپناؤ ٫٫وہ دیکھ رہا ہے،،یاد رکھو۔۔ صرف ہاتھ ہی سارا نہیں بنتے، الفاظ بھی سارا بنتے ہیں بلکہ جہاں ہاتھ سے نہ تھام سکو، وہاں لفظوں سے تھامنے کی کوشش کریں ، امیروں، غریبوں، کامیاب اور ناکام لوگوں کے خدا مختلف نہیں، وہ کبھی دے کر امتحان لیتا ہے کبھی کچھ واپس لے کر لہذا سوچیں ۔۔اپنا احتساب کریں کہ جہاں ہیں جیسے ہیں کی بنیاد پر ہمیں جو بھی نصیب ہے وہ ہماری محنت، مقدر ہے کہ اس رحمان اور رحیم کی عطا لیکن ہم تو جو مل جائے وہ ہماری محنت اور جو نہ ملے اسے اللہ کی مرضی قرار دے کر بے صبرے ہو جاتے ہیں حالانکہ حکم صرف اتنا ہے کہ تم بس خدا کو جانو، باقی خدا جانے اور اس کی عطا جانے، سب کا بھلا اور سب کی خیر کی دعا مانگو۔۔ تمہیں خیر خود بخود مل جائے گی شہر کے اندیشے میں کڑھنے، مرنے ،جلنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا
بات پرسوں پرانی ہے ہمارے ایک دوست رازی صاحب شہر میں بنتی ہوئی عمارات سے بڑے پریشان تھے وہ جہاں بھی ہوں انہی٫٫ بلڈنگز،، کا تذکرہ کرتے دکھائی دیتے تھے ، مرحوم سے ایک بار پوچھا کہ آ پ کا مسئلہ کیا ہے؟ ان بڑی عمارات کا مطلب ترقی ،خوشحالی کی نوید ہے فورا غصے میں بولے٫٫ شہر میں مہنگائی، بےروزگاری اور افرا تفری بڑھ رہی ہے اور لوگ یہ اونچی اونچی عمارا ت بنا رہے ہیں آ خر یہ بھی تو ہم میں سے ہی ہیں، ایک روز وہ تاخیر سے بھی گھر نہیں پہنچے، شہر بھر میں تلاش کیا گیا، اہل خانہ نے دفتر سے بھی رابطہ کیا پتہ چلا وہاں سے تو وہ قبل از وقت ہی چلے گئے تھے اہل خانہ اور عزیز و اقارب کی پریشانی






