“ کون سا ورد کرائیں کہ بلائیں جائیں “امریکی سیاسی و عسکری نفسیات. دوسری قسط
افکارِ تازہ ڈاکٹر افتخارالحق
گزشتہ قسط میں امریکہ -اسرائیل اتحاد اور اس سے منسلک عالمی سیاست میں برپا ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیا گیا تھا ۔ صنعتی ترقی کے متعدد سنگِ میل عبور کرتا ہوا امریکہ ایٹمی قوت نہ صرف بنا بلکہ اس عملی مظاہرہ کر کے دوسری جنگِ عظیم کا اختتام بھی کیا ۔اس کے بعد کوریا ، ویت نام اور افغانستان میں اپنی طاقت منواتے ہوئے امریکہ نے سرد جنگ جیت لی اور دنیا میں واحد سپر پاور کے طور پر ابھرا ۔
امریکہ نے اپنی اس حیثیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عراق اور افغانستان پر مختلف جواز پیش کرتے ہوئے حملے کیے اور ان تمام مواقع پر اسے یورپ کی عملی اور عرب ممالک کی خاموش حمایت حاصل رہی ۔ نیٹو اور پاکستان نے افغانستان میں “دہشت گردی کے خلاف جنگ” امریکہ کی حسبِ توفیق بھرپور مدد کی ۔یہ سب کچھ امریکہ کے سیاسی نظام کے تحت مختلف صدور نے اس طرح کیا کہ کبھی بھی سوائے معدودے اہلِ قلم کے ، امریکی شہریوں نے ان خارجی امور پر کوئی توجہ نہ دی کیونکہ ان پر ان جنگی واقعات کا کوئی اثر نہ ہوا۔ یورپی ،نیٹو اور عرب اتحادی بھی اسی باعث خاموش رہے ۔نتیجہ یہ کہ امریکی اسٹیبلشمنٹ خود کو مکمل طور پر ناقابلِ تسخیر سمجھنے لگی اور ہر امریکی صدر ایک خودکار میکنزم کے تحت کم و بیش یکساں خارجہ پالیسی جاری رکھتے ہوئے حکومت کرتا رہا ۔ واحد سپر پاور بننے کا یہ ناگزیر اور منطقی نتیجہ تھا ۔
تاریخِ عالم نے 2026 کی ابتدا میں ایک نئی کروٹ لی جب صدر ٹرمپ نے چالیس سالوں سے پابندیوں کے شکار ایران پر اپنے گزشتہ اہداف کی طرح لقمۂ تر سمجھتے ہوئے “ رجیم چینج “ کا نعرۂ مستانہ لگاتے ہوئے اسرائیل کی مدد سے زبردست حملہ کر دیا ۔ ایران کو بلامبالغہ بہت زیادہ فوجی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا لیکن اس کی جوابی کاروائی کا بڑے بڑے سیاسی پنڈتوں کو معمولی سا اندازہ بھی نہیں تھا ۔ ایرانی فوجی کاروائی نے اسرائیل کو براہِ راست اور خلیجی امریکی اڈّوں پر لگاتار حملے کر کے امریکہ کو بالواسطہ اتنا نقصان پہنچایا جس کے کثیر جہتی نتائج برآمد ہوئے ۔ یورپ نے جدید تاریخ میں پہلی بار صاف انکار کرتے ہوئے امریکی ساکھ کو شدید دھچکا دیا ۔ امریکی عوام نے کھل کر اس حملے کی مخالفت کی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب تک ٹرمپ صاحب کی مقبولیت 63 فیصد گر چکی ہے ۔ ظاہر ہے اس کا واضح اثر وسط مدتی انتخابات میں صدر ٹرمپ کے حق میں نہیں ہوگا ۔
پھر اس جنگ کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ عالمی معیشت اس سے بری طرح متاثر ہوئی اور اس نے بھی صدر ٹرمپ کے تلملاہٹ آمیز غصے میں بہت اضافہ کیا ۔ مسئلہ یہاں وہی ہے کہ اتنی عظیم عسکری قوت کس طرح اپنی روایتی فتح کی تاریخ میں اتنی غیرمعمولی تبدیلی کو ہضم کرے ۔ چنانچہ ایک طرف اسرائیل بظاہر خاموشی سے الگ ہوگیا اور دوسری طرف امریکہ کا اندرونی ردِ عمل بیرون کی طرف تیزی سے منتقل ہونے لگا ۔ نتیجتاً ٹرمپ صاحب نے فوجی کاروائی کی جگہ نفسیاتی جنگ شروع کرکے ایران کا صبر آزمانا شروع کیا لیکن یہاں بھی ایرانی قیادت کی استقامت نے صورتحال زیادہ بدلنے نہ دی ۔ لہٰذا صدر ٹرمپ کی ترجیح اب یہی ہے کہ مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کی بجائے باعزت طریقے سے آبنائے ہرمز کی دلدل سے اس طرح نکلیں کہ امریکی عوام کی نظروں میں وہ فاتح ہی شمار ہوں ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ انھوں نے چالیس دن میں اتنے متضاد بیانات دیے ہیں جن سے ان کی قلبی کیفیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ اس سلسلے میں پاکستان نے شاندار سفارتکاری کرتے ہوئے شاید ایران اور امریکہ دونوں کو لچک کا مظاہرہ کرنے پر قائل کر لیا ہے۔ عمومی رائے یہی ہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے زیادہ لچکداری ہونا عالمی امن و معاشی بحالی کے لیے ناگزیر ہے ۔ دیکھیے لمحہ بہ لمحہ بدلتے منظرنامے کا پُر امن انجام کس ورد اور وظیفے سے ہوتا ہے ۔






