بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں اضافہ
اج کا اداریہ
صوبائی دارلحکومت لاہور سمیت پنجاب بھر میں میں کئی کئی گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے ۔اگرچہ پاکستان میں اپریل کے مہینے میں عمومی طور پر موسم زیادہ گرم نہیں ہوتا اور بجلی کی طلب بھی کم رہتی ہے، تاہم اس کے باوجود ملک کے مختلف حصوں میں بجلی کی فراہمی کی صورتحال خراب ہوتی دکھائی دے رہی ہے جس سے شہری اور دیہی علاقوں میں رہنے والے صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔اگرچہ فی الحال صورتحال اتنی بُری نہیں مگر چونکہ گذشتہ کچھ برسوں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ لگ بھگ ختم ہو گئی تھی، اسی لیے صارفین پر اب یہ صورتحال گراں گزر رہی ہے۔معلوم ہواہے کہ پاکستان میں بجلی کی طلب 18000 میگا واٹ ہے جبکہ اس کے مقابلے میں 13500 میگا واٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے، چنانچہ بجلی کی طلب اور رسد میں 4500 میگا واٹ کا فرق ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ آنے والے دنوں میں بجلی کی طلب میں اضافے کے باعث لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ مزید بڑھے گں پاور ڈویژن نے گزشتہ روز ایک اعلامیہ جاری کرتے ہوئے موجودہ صورتحال کی وضاحت کی ہے۔پاور ڈویژن کے مطابق بجلی کی لوڈ شیڈنگ حکومت کی پیک ریلیف سٹریٹجی کا حصہ ہے‘ اور اگر اس ضمن میں بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو بجلی کے نرخوں میں پانچ سے چھ روپے فی یونٹ تک اضافہ ہو سکتا تھا۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’ہمیں اس وقت سب سے بڑا چیلنج پیک آورز (شام پانچ بجے سے لے کر رات ایک بجے) کے دوران درپیش ہے جہاں بجلی کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے‘ جبکہ دوسری جانب اِن دنوں پانی سے چلنے والے بجلی گھروں کی پیداوار میں کمی ہے۔اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ ’پیک آورز (شام پانچ سے رات ایک بجے تک) میں سوا دو گھنٹے کی لوڈ مینجمنٹ کے ذریعے بجلی کی قیمت میں تقریباً تین روپے فی یونٹ اضافے کو روکا جا سکتا ہے تاہم فرنس آئل کے محدود استعمال کے باوجود تقریباً ڈیڑھ روپے فی یونٹ اضافے کا امکان برقرار ہے۔‘پاور ڈویژن نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں یعنی ڈسکوز کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ ہر فیڈر کی لوڈ شیڈنگ کے اوقات صارفین کے ساتھ شیئر کریں۔ترجمان کا کہنا ہے کہ حکومت کی کوشش ہے کہ عوام عالمی حالات کے اثرات سے کم سے کم متاثر ہوں اور انھیں ہر ممکن ریلیف فراہم کیا جائے۔لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی یا لیسکو کی طرف جاری کردہ بیان پاور ڈویژن کی وضاحت سے تھوڑا مختلف ہے۔لیسکو کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’موجودہ ملکی توانائی اور طلب و رسد میں ممکنہ فرق کے پیش نظر لیسکو ریجن میں عارضی طور پر لوڈ مینجمنٹ کی جا رہی ہے۔ جیسے ہی بجلی کے کوٹہ میں بہتری آئے گی یا طلب و رسد کا فرق ختم ہو گا تو لوڈ مینجمنٹ کا سلسلہ فوری طور پر بند کر دیا جائے گا۔پاکستان میں بجلی کئی طریقوں سے پیدا کی جاتی ہے جس کے لیے ایل این جی، ہائیڈرو پاور، فرنس آئل، فاسل فیول، کوئلہ، ہوا، سولر اور بائیوگیس سمیت دیگر وسائل استعمال کیے جاتے ہیں۔اس میں سے 46 فیصد بجلی پاکستان کے مقامی وسائل کو استعمال کرتے ہوئے بنائی جاتی ہے جبکہ 54 فیصد کے لیے گیس، تیل اور کوئلہ دوسرے ممالک سے درآمد کیا جاتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اپریل کے مہینے میں لوڈ شیڈنگ کی وجہ ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع کے بیچ پاکستان میں درآمدی ایل این جی کی سپلائی کا بند ہونا ہے۔
پاور سیکٹر کے تجزیہ کار کے مطابق جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز بند ہوئی تو قطر سے پاکستان آنے والی ایل این جی کی سپلائی معطل ہو گئی جبکہ پاکستان میں چار ہزار سے پانچ ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کے لیے مختلف پاور پلانٹس ایل این جی کا استعمال کرتے ہیں۔کے مطابق اس صورتحال کے باعث بجلی طلب کے مطابق نہیں بن پا رہی اور اب اس کی رسد میں خلل واقع ہو رہا ہے۔ اگرچہ پاکستان میں دیگر ذرائع جیسا کہ ڈیزل سے بھی بجلی پیدا کی جا سکتی ہے تاہم ڈیزل کی زیادہ قیمت کی وجہ سے حکومت یہ ذریعہ استعمال نہیں کر رہی کیونکہ اس صورت میں بجلی مہنگی ہو گئی اور لامحالہ اس کا اثر عوام پر مہنگی بجلی کی صورت میں منتقل کرنا پڑے گا۔ اپریل کے مہینے میں ملک میں پانی سے بجلی بنانے کی صلاحیت بھی کم ہوتی ہے جس کی وجہ سے ہائیڈرو پاور ذرائع سے کم بجلی آتی ہے اور یہی صورتحال ملک میں لوڈ شیڈنگ کی وجہ بن رہی ہیں۔موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ آنے والوں دنوں میں بھی بجلی کی لوڈ شیڈنگ جاری رہے گی کیونکہ فی الحال ایل این جی سپلائی معطل ہے اور اگر آبنائے ہرمز آئندہ بھی بند رہی تو پاکستان میں گرمیوں میں بجلی کا بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ابھی تو حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پیک آورز میں دو سے ڈھائی گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے مگر حقیقت میں بجلی اس سے کہیں زیادہ جا رہی ہے۔
اس کے علاوہ ایل این جی کی فراہمی میں رکاوٹ کی وجہ سے بھی بجلی کی فراہمی متاثر ہے جبکہ فرنس آئل پر چلنے والے پاور پلانٹ بھی بند ہیں۔
موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ انرجی کرائسس تیزی سے بڑھ رہا ہے۔آنے والے دنوں میں یہ مسئلہ مزید بڑھ سکتا ہے کیونکہ گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ لوگ اے سی کا استعمال بھی زیادہ شروع کر دیں گے اور بجلی کی طلب میں نمایاں اضافہ ہو گا۔‘






