#کالم

عہدِ نغمہ کا اختتام: سینما کے عروج کا آخری ستون بھی گر گیا.

Untitled gtyf1

​تحریر: مدثر قدیر
​بچپن کی یادوں کے دریچوں سے جب ماضی میں جھانکتا ہوں، تو کچھ سدا بہار دھنیں اور منفرد آوازیں میرے لاشعور کا حصہ بنی نظر آتی ہیں۔ وہ بھی کیا دن تھے جب ریڈیو یا ٹیپ ریکارڈر پر "پردے میں رہنے دو، پردہ نہ اٹھاؤ”، "جائیے آپ کہاں جائیں گے”، "اچھا جی میں ہاری چلو مان جاؤ” اور "جھمکا گرا رے بریلی کے بازار میں” جیسے گیت گونجتے تھے، تو دل مٹھی میں آجاتا تھا۔ اس وقت یہ تو معلوم نہ تھا کہ ان گیتوں کے پیچھے کتنی ریاضت اور کیسا فن چھپا ہے، بس یہ دھنیں روح میں اتر جاتی تھیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ جب شعور کی آنکھ کھلی اور موسیقی کی باریکیوں سے شناسائی ہوئی، تو پتہ چلا کہ ان تمام شاہکار گیتوں کے پیچھے ایک ہی نام ہے— آشا بھوسلے۔
​ 12 اپریل 2026 کی اداس شام کو جب ممبئی کے بریچ کینڈی اسپتال سے ان کے انتقال کی خبر آئی، تو ایسا لگا جیسے میری اپنی زندگی کی یادوں کا ایک روشن چراغ گل ہو گیا ہو۔ 92 برس کی عمر میں ان کی رخصتی دراصل فلمی موسیقی کے اس سنہری باب کا اختتام ہے جس نے بلیک اینڈ وائٹ اسکرین سے لے کر ڈیجیٹل سنیما تک کے تمام مد و جزر دیکھے۔ آشا جی سینما کے اس عروج کا آخری ستون تھیں، جنہوں نے اس وقت کام شروع کیا جب فن کی قدر تھی اور اس وقت تک مائیکروفون تھامے رکھا جب موسیقی صرف مشینوں کا کھیل بن کر رہ گئی۔
​آشا بھوسلے کی کہانی صرف ایک گلوکارہ کی کہانی نہیں، بلکہ ایک ایسی فنکارہ کی داستان ہے جس نے اپنی بڑی بہن، لتا منگیشکر کے مہیب سائے میں اپنی الگ پہچان بنائی۔ جہاں لتا جی کی آواز میں ایک تقدس اور ٹھہراؤ تھا، وہیں آشا نے اپنی آواز میں وہ شوخی، لچک اور ورسٹائلٹی پیدا کی جس کی مثال پوری دنیا میں نہیں ملتی۔ انہوں نے ثابت کیا کہ اگر لتا جی موسیقی کی "سرسوتی” ہیں، تو وہ خود اس فن کی وہ "بیحدہ” (Boundless) لہر ہیں جو ہر صنفِ موسیقی کو چھو کر گزرتی ہے۔
​ان کے فنی سفر کا ایک نہایت اہم اور تاریخی گوشہ وہ ہے جب انہوں نے نئے فنکاروں کی حوصلہ افزائی کی۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ گلوکار مہندر کپور نے اپنی فنی زندگی کا پہلا گیت آشا بھوسلے کے ساتھ ہی گایا تھا۔ فلم "نورنگ” کا وہ لازوال گیت "آدھا ہے چندرما، رات آدھی” آج بھی جب سماعتوں سے ٹکراتا ہے، تو اس میں آشا کی آواز کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔ انہوں نے نہ صرف مہندر کپور بلکہ محمد رفیع، مکیش، طلعت محمود، کشور کمار اور منا ڈے جیسے دیو قامت گلوکاروں کے ساتھ سینکڑوں ایسے دو گانے (Duets) گائے جو موسیقی کی تاریخ کا قیمتی اثاثہ ہیں۔
​آشا جی کی آواز کا جادو صرف گلوکاری تک محدود نہ تھا بلکہ انہوں نے پردہ سیمیں پر رقص کی دنیا کو بھی نئی پہچان دی۔ جب ہم 70 اور 80 کی دہائی کے سنسنی خیز اور مدہوش کر دینے والے ‘کیبرے’ گیتوں کا ذکر کرتے ہیں تو ڈانسر اداکارہ ہیلن کا نام ذہن میں ابھرتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہیلن کے رقص میں جان آشا کی آواز ہی ڈالتی تھی۔ فلم ‘کارواں’ کا ‘پیا تو اب تو آجا’ ہو یا ‘تیسری منزل’ کا ‘او حسینہ زلفوں والی’، آشا کی آواز کی لچک اور ہیلن کی ادائیں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم بن گئی تھیں۔ فلم ‘انتقام’ کا ‘آ جانے جاں’ تو آج بھی کیبرے موسیقی کا انسائیکلوپیڈیا مانا جاتا ہے۔ ہیلن کے بعد جب بندو نے اسکرین پر ولن اور ڈانسر کے روپ میں قدم رکھا تو وہاں بھی آشا جی نے ‘کٹی پتنگ’ کے ‘میرا نام ہے شبنم’ اور ‘انہونی’ کے ‘ہنگامہ ہو گیا’ جیسے گیتوں سے وہ سماں باندھا کہ تماشائی دنگ رہ گئے۔ فلم ‘ڈان’ کا وہ گیت ‘یہ میرا دل پیار کا دیوانہ’ آج بھی ہیلن کی پرفارمنس اور آشا کی گائیکی کا شاہکار تصور کیا جاتا ہے۔
​آشا جی کے فن کا جائزہ لیں تو ان کے فلم فیئر ایوارڈ یافتہ گیت ان کی عظمت کی گواہی دیتے ہیں۔ "پردے میں رہنے دو” (شکار) سے لے کر "یہ میرا دل پیار کا دیوانہ” (ڈان) تک، انہوں نے ہر دہائی میں خود کو منوایا۔ ان کی آواز میں وہ تاثیر تھی کہ جب وہ "دم مارو دم” گاتیں تو ایک سماں بندھ جاتا اور جب فلم "امراؤ جان” کی غزلیں جیسے "دل چیز کیا ہے” یا "ان آنکھوں کی مستی کے” چھیڑتیں، تو سننے والا کسی اور ہی دنیا میں پہنچ جاتا۔ ان کے معاصرین کے ساتھ تعلقات اور گیتوں کا جائزہ لیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ انہوں نے ہر آواز کے ساتھ اپنی آواز کو ڈھالنے کا فن سیکھ رکھا تھا۔​محمد رفیع کے ساتھ ان کی چھیڑ چھاڑ والے گیت "او حسینہ زلفوں والی” میں جو توانائی تھی، وہ بے مثال تھی۔
​کشور کمار کے ساتھ ان کی ہم آہنگی "ایک میں اور ایک تو” میں دیدنی تھی۔
​منا ڈے کے ساتھ کلاسیکی گیت ہوں یا طلعت محمود کے ساتھ ریشمی دھنیں، آشا نے ہر جگہ اپنے فن کا لوہا منوایا۔
​بعد کے ادوار میں محمد عزیز، کمار سانو اور ادت نارائن کے ساتھ بھی ان کے گیتوں نے وہی مقبولیت حاصل کی جو ان کے ابتدائی دور کے گیتوں کو حاصل تھی۔
​آشا بھوسلے نے درجنوں فنکاروں سے فیض حاصل کیا اور پھر اسے آنے والی نسلوں میں بانٹ دیا۔ وہ ایک ایسی یونیورسٹی تھیں جہاں سے موسیقی کے ہر رنگ کی تعلیم ملتی تھی۔ ان کی زندگی محنت اور لگن کی وہ تصویر ہے جس نے کبھی ہار ماننا نہیں سیکھا۔ 16 سال کی عمر میں کی گئی پہلی شادی کی تلخیاں ہوں یا کیریئر کی شروعات میں ملنے والے "رد شدہ” گیت، انہوں نے ہر چیلنج کو اپنی آواز کی کاٹ سے سر کیا۔
​آج جب وہ ہم میں نہیں رہیں، تو موسیقی کے دیوانے خود کو یتیم محسوس کر رہے ہیں۔ وہ ستون گر گیا ہے جس پر سنیما کی موسیقی کی چھت ٹکی ہوئی تھی۔ ان

عہدِ نغمہ کا اختتام: سینما کے عروج کا آخری ستون بھی گر گیا.

14/04/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے