#کالم

طوفانوں کے بیچ ایک چراغ۔۔پاکستان

Untitled 11

تحریر۔ شفقت اللہ مشتاق

پاک سر زمین اور اس زمین کی اہمیت اور اس اہمیت کا پوری دنیا کو اس وقت ادراک ہونا جب کہ ایک تیسری عالمی جنگ کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ یہ کیا ہوگیا ہے۔ دشمن ملک ہندوستان کی حالت زار اور ان کے میڈیا کا شورو غوغا۔ کاش ان کوکوئی بتائے اور سمجھائے ” وتعز من تشاء وتزل من تشاء” جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے۔ ویسے 2025 ہندوستان کے لئے ذلت کا سال ثابت ہوا ہے اور پاکستان زندہ باد زندہ باد ہوگیا ہے. ایران امریکہ اور اسرائیل جنگ میں ٹھہراؤ اور اس کا بھی سارا سہرا پاکستان کے سر۔ سر ایسے تھوڑا اونچے ہوتے ہیں اس کے لئے آپ کو کئی محاذوں پر کام کرنا پڑتا ہے محاذ کھولنا پڑتے ہیں اور محاذ پر رک کر آگے غور سے دیکھنا پڑتا ہے اور فیصلے دیکھ بھال کرکرنا پڑتے ہیں۔ جلدی میں کئے گئے فیصلے فاصلے بڑھاتے ہیں اور بسا اوقات ایسے فیصلے لڑ بھی جاتے ہیں۔ جذبات سے کھیلنا کوئی ڈونلڈ ٹرمپ سے سیکھے اور سیکھ کر غور ضرور کرے کہ کسی کے جذبات سے کھیلنا بعض اوقات بلکہ ہمیشہ ہی مہنگا پڑتا ہے اور جان کے لالے پڑجاتے ہیں۔ یہ حقیقت اگر سب پر عیاں ہوجائے تو ہر کوئی پھونک پھونک کر قدم رکھے اور "گیلی تھاں” پر تو کبھی بھی پاوں نہ رکھے۔ یوں ہر کوئی اپنے مدار میں گردش کرے۔ لیکن جب وینزویلا کا صدر اور اس کی بیوی راتوں رات ایک ملک کے صدر کے حکم کی تعمیل میں اٹھا کر امریکہ پہنچا دیئے جائیں اور جب غزہ کے مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا جارہا ہو اور اوپر سے گریٹر اسرائیل کا نعرہ لگا کر پوری مسلمان دنیا میں مایوسی پھیلائی جائے تو کوئی موسی نمودار ہوتا ہے اور توڑ دیتا ہے طلسم سامری۔ سب ممالک سوچ کے اعتبار سے ایک جیسے نہیں ہوتے اور نہ ہی سارے انسان ایک جیسے ہوتے ہیں۔ کچھ واقعی سمجھتے ہیں کہ مایوسی گناہ ہے۔ بے عزتی کی زندگی سے موت بہتر ہے ( شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے) اور ایسی حالت میں مرنے والے زندہ رہتے ہیں۔ پہلے ہلے میں ویسے تو سید علی حسینی خامنائی دنیا سے رخصت ہوگئے۔ ارشاد ربانی ہے۔ "شہید کو مردہ مت کہو وہ تو زندہ ہے تمہیں اس بات کا شعور نہیں”۔ اللہ تعالی کے فرمان کے مطابق وہ زندہ ٹھہرے۔ امریکہ بہادر دنیا کا سب سے بڑا چوھدری اور بے تاج بادشاہ۔ شاید تاج گرنے گرانے کا وقت آگیا تھا۔ اس نے ایران کو تیسری دنیا کا ایک کمزور سا ملک سمجھ لیا اور پھر اس پر اسرائیل کا تسلط قائم کرنے کے لئے چڑھ دوڑا۔ مغربی اقوام نے پہلی جنگ عظیم کے بعد مسلمان ملکوں کے بڑے طریقے اور سلیقے سے حصے بخرے کئے تھے تاکہ اول تو یہ آپس میں ہی الجھے رہیں۔ ایک دوسرے سے خوف کھائیں اور لڑتے مرتے رہیں۔ اس طرح اسرائیل کھلا کھائے گا اور آہستہ آہستہ آگے بڑھتا جائیگا۔ سکیم تو بظاہر بڑی خوبصورت اور قابل عمل تھی اور واقعی ایران عراق جنگ کئی سال تک لڑی گئی۔ راتوں رات عراق کا کویت پر چڑھ دوڑنا، سعودی عرب اور ایران کی آپس کی مخاصمت اور کشمکش، سعودیہ اور ترکیہ کے معاملات، قطر اور متحدہ عرب امارات کی شکر رنجی اور پھر سب کا آپس میں ایک دوسرے سے بدظن ہونا بلکہ ہر کسی کا امریکہ کو اپنا مسیحا جاننا اور امداد کے لئے واشنگٹن ڈی سی کی طرف ہر وقت دیکھنا۔ یوں ممولا شہباز سے لڑتا ہے اور چوہدری آرام سے اپنی چودھراہٹ کو برقرار رکھتا ہے۔ اگر یہ سارا کچھ یوں چلے گا تو پھر سب ٹھیک نہیں تو تشکیک اور پھر دھمکیاں، پابندیاں نہیں تو اسرائیل کی دفاعی قوت ناقابل تسخیر۔ کسی بھی مسلمان ملک کو سبق سکھایا جا سکتا ہے. یہ تو ہے زمین کے بے تاج بادشاہ کی سکیم لیکن ایک سکیم عرش اور فرش کے مالک کی بھی تو ہے۔ اسی لئے مثل مشہور ہے” ات خدا دا ویر” یوں اسرائیل اور امریکہ کا اتحاد۔ بنا بنایا بہانہ کہ ایران کی یہ جرات کہ وہ جوہری ہتھیار بنائے۔ جوہری ہتھیار بنانے کا الزام ایک ایسا ہتھیار ہے جس کو بنیاد بنا کر کسی کو بھی سبق سکھایا جاسکتا ہے۔ ایران کا جرم ضعیفی اور مزید مزے کی بات ہے کہ ایران کے پاس تو مضبوط فضائیہ بھی نہیں ہے۔ دو جہاز جائیں گے اور ایران فارغ۔ نہیں تو لیڈرشپ کا خون خرابہ اور پھر بس۔ اتنی سی بات ہے اور ایران کی بس ہوجائے گی۔ کاش حملہ آوروں کو کوئی آکر کان میں بتا جاتا کہ علامہ محمد اقبال رح نے ان ایرانیوں کو بہت پہلے بتا دیا تھا کہ (اگر عثمانیوں پہ کوہ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے۔۔کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا)۔ بلکہ اقبال علیہ رحمہ نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا ( تہران ہوگر عالم مشرق کا جنیوا۔۔۔شاید کرہ ارض کی تقدیر بدل جائے ) تقدیر بدلنے کے لئے بھی تدبیر کی ضرورت ہے اور تدبیر کا تقاضہ ہے کہ مسلمانوں کے آپس میں اچھے تعلقات ہونے چاہیئیں اور ایران کو چین اور روس کے ساتھ رابطے میں رہنا ہوگا تب جا کر امریکی اور اسرائیلی جہازوں کو اڑنے سے پہلے فریز کیا جا سکتا ہے اور امریکی صدر کے جنون کو جھٹکا دیا جا سکتا ہے۔ ویسے بھی جنون کا علاج جھٹکوں سے ہی کیا جاتا ہے تاکہ امریکہ کا ہوش ٹھکانے آئے۔ یہ سارا کچھ کرنا ہوگا۔ شاید یہ سارا ہی کچھ ہو چکا ہے اور پھر پاکستان کا اس ساری کہانی میں کردار۔ اب پاکستان نے اپنے آپ کو صاحب کردار ثابت کرنا ہے۔ بقول راقم الحروف( جو آفتاب نکلا ہے اک خون شب کے بعد۔۔تاروز حشر اس کا اجالا نہ جائیگا) جنگ کے واقعات نے ثابت کردیا ہے کہ ایرانی قیادت کے پاس سارے پلان تھے اور وہ پوری طرح بھگتنے کے لئے تیار تھے۔ بیک ڈور ڈپلومیسی بھی بظاہر نظر آتی ہے ایسے تو نہ ہر ایرانی پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتا ہوا دکھائی دیا ہے اور چین روس نے اقوام

طوفانوں کے بیچ ایک چراغ۔۔پاکستان

معاہدہ نہ ہو سکا، مگر

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے