“ہر شر میں ہے پوشیدہ کوئی خیر کا پہلو”
افکارِ تازہ ڈاکٹر افتخارالحق
پاک-امریکہ تعلقات کو بیشتر تجزیہ کار رولر کوسٹر رائیڈ سے تشبیہہ دیتے آئے ہیں اور شاید بہت حد تک ایسا ہی ہے ۔ 1950 سے 1972 تک پاکستان کی خارجہ پالیسی میں امریکہ سے دوستانہ تعلقات اولین ترین ترجیحات میں سرِ فہرست رہے ۔ افغان جنگ کے سبب 1980 کی دہائی میں امریکہ سے تعلقات کا غالباً عظیم ترین دور تھا ۔نائن الیون کے سانحے کے بعد بھی پاکستان امریکہ کی “ دہشت گردی کے خلاف جنگ” میں بے حد اہم ساتھی بنا رہا ۔
فروری۔ مارچ کی خلیجی جنگ بالکل مختلف انداز میں پاکستان کو ایران کے رستے سے امریکہ کے قریب لے آئی اور یہ سب کچھ اتنا اچانک اور غیر متوقع طور پر ہوا کہ بڑے بڑے ممالک اور جغادری مبصرین بھی حیران رہ گئے ۔ امریکہ ۔اسرائیل کی ایران سے مشترکہ جنگ جب اپنے خطرناک ترین موڑ تک پہنچنے کے قریب تھی اور قوی خدشہ تھا کہ سعودی عرب کے ساتھ رفتہ رفتہ دیگر عرب ممالک میں زبردستی گھسیٹ لیے جاتے کہ اچانک پاکستان کی طرف سے امریکہ اور ایران سے نہایت شائستہ اور پختہ لہجے میں جنگ بندی کی اپیل نہ صرف فریقین نے سنی بلکہ اسے فوری قبول بھی کر لیا ۔
یہ امر قابلِ غور ہے کہ یہ سب اس وقت ہوا جب تمام دنیا میں تیسری عالمی جنگ کی افواہیں گردش کرنے لگی تھیں ، نیٹو اور یورپی یونین جیسی اہم سیاسی و معاشی قوتیں صدر ٹرمپ کو جنگ بندی پر قائل کرنے میں ناکام ہو چکی تھیں اور عالمِ اسلام صرف منقسم ہی نہیں متصادم بھی ہونے کی دہلیز پار کرنے کے قریب تھا ۔ سوچنے کی بات ہے کہ موجودہ صدی کے اس نازک ترین موڑ پر پاکستان جیسا ملک جو اپنے داخلی سیاسی اور پیچیدہ معاملات میں استحکام لانے کے لیے جدو جہد میں مصروف تھا ، اسی پاکستان کے وزیرِ اعظم کا جنگ روکنے کے لیے ارسال کردہ پیغام صدر ٹرمپ جیسی شخصیت ، جو شدید اشتعال کی کیفیت میں تھے ، نے کیوں قبول کر لیا ۔ اس سوال کے جواب کے لیے ہمیں پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت میں زبردست توازن کی طرف دھیان دینا ہوگا کیونکہ اسی توازن کے طفیل ایک طرف جنرل عاصم منیر صاحب کی رہنمائی میں پاک فوج نے ہندوستان کی فضائی اور بری افواج کو یادگار شکست دی تو دوسری طرف ایک ناعاقبت اندیش ہمسائے افغانستان کی طرف سے مسلط کردہ دہشت گرد گروہوں کو عبرت ناک سبق سکھایا ۔
ظاہر ہے پاکستان کی سول ۔ ملٹری لیڈر شپ کی ایسی کامیابی سے امریکہ جیسی سپر پاور صرفِ نظر نہیں کر سکتی تھی ۔ چنانچہ پاکستان کی وقعت کا بڑھنا ایک منطقی عمل تھا ۔ پوری دنیا تک ہماری فوجی قوت اور اس کا سول حکومت سے مضبوط تعلق رکھنے کا پیغام پہنچنا پاکستان کے لیے نیک شگن ثابت ہوا ۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو امریکہ اور ایران کا پاکستان کی جانب سے بھیجی گئی خیرسگالی کے جذبات پر مبنی درخواست کو نظر انداز کرنا ممکن نہ تھا ۔ یوں تاریخ نے کوئی 56 برس بعد خود کو خاصے مختلف انداز میں دہرایا ۔1970-71 کے دور میں پاکستان نے امریکہ اور چین کے مابین دوستانہ تعلقات کی مخلصانہ کاوش کی جو کامیاب بھی رہی اور دونوں سپر پاورز نے پاکستان کا شکریہ بھی ادا کیا ۔اب 2026 میں پاکستان نے خلیجی جنگ کو ہولناک ترین مرحلے میں داخل ہونے سے روک کر اپنے وقار میں قابلِ رشک اضافہ کر لیا ۔ اگرچہ یہ مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر ختم نہیں ہوئے لیکن انھیں فریقین میں سے کسی نے ناکام بھی نہیں کہا ۔تاہم ایک شر انگیزی کے عمل نے پاکستان کو خیر کا پہلو تلاش کرنے کا مبارک موقع دیا ۔






