زندہ اشعار کے گمنام شاعر
احساس کے انداز تحریر :۔ جاویدایازخان
مجھ سے بار بار یہ سوال کیا جاتا ہے کہ آپ نے اپنے کالم کا نام "احساس کے انداز "کیوں رکھا ہے ؟ تو مجھے اپنے عظیم استاد اور نامور ادیب "منوبھائی ” مرحوم یاد آجاتے ہیں ۔جن سےایک مرتبہ میں نے بھی یہی سوال کیا تھا کہ ” منوبھائی "آپ نے اپنے کالم کانام "گریبان” کیوں رکھا ہوا ہے تو انہوں اپنی روائتی مسکراہٹ سے جواب دیا تھا کہ میں نے اپنے کالم کا یہ نام ایک شعرسے متاثر ہو کر رکھا تھاپھر انہوں نے استاد قمرجلالوی کا وہ مشہور شعر بھی مجھے سنایاکہ
راستے بند کئے دیتے ہو دیوانوں کے
ڈھیر لگ جائیں گے بستی میں گریبانوں کے
ایسے ہی جب میں نے کالم لکھنا شروع کیا تومیں نے بھی اپنے استاد منو بھائی مرحوم کی طرح ایک مشہور شعر سے متاثر ہو کر اپنے کالم کا نام "احساس کے انداز ” اس لیے بھی رکھا کہ اس شعرکے ساتھ ساتھ اس شعر کے خالق کو بھی یاد رکھا جاسکےگا ۔بیاض سونی پتی مرحوم کا یہ مشہور شعرآج بھی بےشمار لوگوں کی دلوں کی دھڑکن بنا ہوا ہے۔میرا یقین ہے کہ ابھی ایسے لفظ ایجاد نہیں ہوۓ جو "احساس "کو بیان کر سکیں ،احساس کی دنیا الفاظ کی دنیا سے کہیں آگے ہوتی ہے ۔اور اسکے انداز بھی ہماری سوچ کے ساتھ ساتھ بدلتے رہتے ہیں ۔
احساس کے انداز بدل جاتے ہیں ورنہ
آنچل بھی اسی تار سے بنتا ہے کفن بھی
یہ شعر مجھے بچپن سے ہی سننے کو ملا تھا کیونکہ یہ بیاض سونی پتی کا شعر تھا جو میرے چچا بھی تھے ۔مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ مظفرگڑھ میں آل پاکستان اردو مشاعرہ میں انہوں نے جب یہ شعر پڑھا تو پاکستان کے بڑے بڑے شاعر اس نوجوان کے شعر پر متوجہ ہو گئے اور یہ شعر اس مشاعرہ میں مقرر ،مقرر ،کے شور میں کئی مرتبہ سنا گیا گو یہ غزل پوری ہی بہت عمدہ تھی مگر ناجانے اس شعر میں ایسی کیا خاصیت تھی کہ یہ شعر ہر زبان پر سنائی دینے لگا ۔مگر شاید بہت کم لوگوں کو اس شعر کے خالق کےنام کے بارۓ میں معلوم تھا ۔پھر ایک مرتبہ طارق عزیز مرحوم کے ٹی وی شو "نیلام گھر "کے ایک پروگرام میں بیت بازی کے مقابلہ کے دوران یہ شعر پڑھا گیا تو طارق عزیز بھی چونکے اور پوچھا کوئی جانتا ہے کہ یہ شعر کس کا ہے ؟ مگر کوئی جواب نہ آنے پر انہوں نے تاریخی جواب دیا تھا کہ میں بھی نہیں جانتا کہ یہ شعر کس کا ہے ؟مگر یہ ضرور جانتا ہوں کہ اس شعر کا خالق ادب کی دنیا میں اپنے اس شعر کی بدولت ہمیشہ زندہ رہے گا ۔جی ہاں ! ہماری روزمرہ زندگی میں بہت سے مشہور اشعار کے خالق یا شاعر منظر عام پر نہیں آپاتے ۔کہتے ہیں کہ لفظ جب دل سے نکلتےہیں تو اپنے خالق کا تعارف نہیں مانگتے وہ سیدھے ،بلاتعارف ،بلا اجازت دلوں میں اتر جاتے ہیں ۔یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب شاعر پس منظر میں چلا جاتا ہے اور شعر منظر عام پر آکر اپنی زندگی خود جینے لگتا ہے ۔بیاض سونی پتی کی قبر پر آویزاں ان کا اپنا یہ قطعہ ناجانے کتنی ہی قبروں کے کتبوں پر لکھا جاچکا ہے مگر شاعر کو شاید بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ وہ درویش شاعر بیاض سونی پتی ہی تھا
ہر چیز پہ قادر وہی معبود خدا ہے
انسان تو مجبور ہے راضی بارضا ہے
کب جانیے کب اس کو بجھا دے کوئی جھونکا
یہ زیست لرزتا ہوا مٹی کا دیا ہے
کسی دانشور نے لکھا تھا کہ بہت سے شاعروں کانام تو وقت کےساتھ دھندلا جاتا ہے لیکن ان کا ایک ہی شعر انہیں ہمیشہ کے لیے زندہ رکھنے کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔وہ شعر جو زبانوں پر چڑھ جاۓ دل میں اتر جاۓ اور کئی نسلوں تک اس کی گونج سنائی دیتی رہے ۔وہ شاعر جو لفظوں میں تو سانس لیتے ہیں مگر ناموں میں دکھائی نہیں دیتے ۔جن کے اشعار دلوں میں چراغ کی طرح جلتے تو رہتے ہیں مگر ان کا تعارف دھندلا رہتا ہے ۔یہ وہ لوگ ہیں جو شہرت کے ہنگامے سے دور خاموشی کے کمروں میں بیٹھ کر دلوں کی دھڑکن لکھتے ہیں ۔ہمارے معاشرۓ میں ایسے بےشمار "گمنام شاعر ” موجود ہیں کبھی کسی دیہا ت یا قصبے کے چبوترے پر ،کبھی کسی ڈھابے یا چاۓ کے کھوکھے پر ،کبھی کسی بس کے سفر میں اور کبھی کسی مزدور کے پسینے میں چھپی نظم کی صور ت ہمیں جھنجھوڑ دیتے ہیں ۔ان کے دلوں کو چھو جانے والے اشعار گردش تو کر رہے ہوتے ہیں مگر ان کے خالق کہیں دور گمنامی کی دھند میں گم رہتے ہیں ۔ یہی گمنام شاعر اصل میں انسانی احساسات کے امین ہوتے ہیں ۔وہ اپنی پہچان سے زیادہ اپنے خیال کی بقاکواہم سمجھتے ہیں ۔ان کے لیے داد سے زیادہ اثر معنی رکھتا ہے ۔وہ جانتے ہیں کہ اگر شعر دل میں اتر جاۓ تو نام خودبخود مٹ جاتا ہے اور یہی ان کی اصل جیت قرار پاتی ہے ۔سچ تو یہ ہے کہ اردو ادب کی بنیادبھی انہی ان دیکھے ،ان کہے اوران سنے لوگوں نے ہی رکھی تھی ۔اگر آج امیر خسرو ،میر تقی میر اور مرزا غالب جیسے عطیم نام ادب کے روشن چراغ ہیں تو یہ گمنام شاعر وہ تیل ہیں جو ان چراغوں کو جلانے میں معاون دکھائی دیتے ہیں ۔یہی گمنام شاعر دراصل ادب کے خاموش محسن ہیں جن کے بغیر لفظ تو ہوتے ہیں مگر زندگی نہیں ہوتی ۔
آج سوشل میڈیا کے دور میں بھی ہزاروں اشعار گردش کر رہے ہیں ۔کبھی کسی نام کے بغیر ،کبھی کسی اور کے نام کے ساتھ لیکن سچ یہی ہے کہ ہر اچھا شعر تو ہمیشہ زندہ رہتا ہے مگر شاید ہر شاعر کا نام نہیں ۔گمنام شاعر دراصل ایک کیفیت کا نام ہے ایک ایسی کیفیت جہاں تخلیق کار خود کو مٹا کر اپنے لفظوں کو امر کردیتا ہے ۔ہم ایک ایسے عہد میں جی رہے ہیں جہاں نام ،کام سے زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے ۔شہرت قابلیت سے آگے نکل چکی ہے مگر ہجوم مین کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہین جو لفظوں کو دنیا کے حوالے کردیتے ہیں مگر خود گمنامی کی چادر اوڑھ لیتے ہیں ۔یہی وہ "زندہ اشعار کے گمنام شاعر "ہیں جو دکھائی نہیں دیتے مگر محسوس ضرور ہوتے ہیں ۔ان کے اشعار اکثر ہمارے موبائل سکرینوں پر نمودار ہوتے ہیں ۔واٹس ایپ اسٹیٹس بنتے ہیں ،فیس بک پوسٹ میں گردش کرتے ہیں ۔مگر ان کے نام کہیں نہیں ہوتے ۔کبھی ان کے لفظ کسی اور کے نام سے منسوب ہو جاتے ہیں اور کبھی بے نامی ہی میں ان کی پہچان چھپی ہوتی ہے ۔یہ ایک المیہ بھی ہے اور حسن بھی ہے ۔المیہ یہ کے تخلیق کار اپنی پہچان سے محروم رہ جاتا ہے مگر حسن یہ کہ اس کا تخلیق کردہ فن ہرقید سے آزاد ہوکر ہردل میں گھر کر لیتا ہے اور ہر جانب گونجتا ہے ۔گمنامی کی وجہ ان کے وسائل کی کمی،معاشرتی بےحسی یا پھر خود شاعر کی عاجزی اور کسرنفسی ہوتی ہے جو اسے شہرت کے ہجوم سے دور رکھتی ہے ۔حقیقت شاید ان سب کے بیچ میں ہی کہیں موجود ہوتی ہے ۔
ہمارے معاشرے میں ادیب اور شاعر کو وہ مقام نہیں ملتا جس کا وہ مستحق ہوتا ہے ۔یہاں اکثر لفظوں کی قیمت نہیں بلکہ نام کی پہچان بکتی ہے آج تحریر بھی نام کی شہرت کی باعث پڑھی جاتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ بہت سے باصلاحیت لوگ منظر عام پر آنے سے پہلے ہی خاموش ہو جاتے ہیں ۔مگر ایک سچ ان سب سے بڑا ہے کہ لفظ کبھی مرتے نہیں ۔وہ سفر کرتے رہتے ہیں اور ایک دل سے دوسرے دل تک ،ایک نسل سے دوسری نسل تک پہنچتے رہتے ہیں ۔گمنام شاعر دراصل فنا میں بقا کی ایک خوبصورت مثال ہے جو خود مٹ کر اپنے لفظوں کو ہمیشہ کے لیے زندہ کردیتا ہے ۔اس کی پہچان اس کا نام نہیں بلکہ اس کے شعر کا اثر ہوتا ہے ۔آج جب بھی کوئی خوبصورت شعر سامنے آۓ اور دل بےاختیار "واہ واہ "کہہ اٹھے تو ذرا رک کر سوچیں کہ اس کا شاعر کون ہے ؟ کہیں اس شعر کا خالق وہ گمنام شاعر تو نہیں جو اپنی پہچان سے زیادہ آپ کے احساس کو اہمیت دے گیا ہے ؟ یہی وہ سوچنے ،دیکھنے اور محسوس کرنے کا انداز ہے جو میرے کالم "احاس کے انداز ” میں موجزن دکھائی دیتا ہے ۔
پھولوں سے کبھی ہوتی ہے ہاتھوں میں چبھن بھی
سانسوں سے کبھی ہوتی ہے سینے میں جلن بھی
احساس کے انداز بدل جاتے ہیں ورنہ
آنچل بھی اسی تار سے بنتا ہے کفن بھی






