عرب و عجم کی دیوار کے پار: مفادات، نظریات اور آخری موقع
تحریر: ڈاکٹر عمرانہ مشتاق
دنیا کی سیاست میں بعض اوقات ایسے لمحات آتے ہیں جب پردے ہٹتے ہیں اور حقیقت اپنی پوری تلخی کے ساتھ سامنے آ کھڑی ہوتی ہے۔ حالیہ برسوں میں مشرقِ وسطیٰ کی سیاست نے بھی ایک ایسا ہی موڑ لیا ہے جہاں تعلقات، مفادات اور نظریات کے درمیان چھپی ہوئی پرتیں بے نقاب ہو رہی ہیں۔ خلیجی ریاستوں، خصوصاً متحدہ عرب امارات کی حکمران اشرافیہ کے کاروباری روابط، اسرائیل کے ساتھ تعلقات اور بھارت کے ساتھ بڑھتی ہوئی شراکت داری نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ یہ بحث صرف سفارتی تعلقات تک محدود نہیں بلکہ اس نے پورے مسلم دنیا کے فکری، مذہبی اور سیاسی ڈھانچے کو چیلنج کیا ہے۔
یہ حقیقت اب کسی سے پوشیدہ نہیں رہی کہ عالمی سیاست میں مستقل دشمنی یا مستقل دوستی کا کوئی تصور نہیں ہوتا، بلکہ مفادات ہی اصل محور ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ متحدہ عرب امارات نے جہاں ایک طرف اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لایا، وہیں بھارت کے ساتھ اپنے اقتصادی و دفاعی روابط کو بھی غیر معمولی حد تک وسعت دی۔ ان تعلقات نے خطے میں ایک نیا توازن پیدا کیا، مگر اس کے ساتھ ساتھ کئی سوالات بھی کھڑے کیے۔ کیا یہ تعلقات محض اقتصادی مفادات کا نتیجہ ہیں یا ان کے پیچھے ایک بڑی اسٹریٹجک سوچ کارفرما ہے؟
یہاں ایک اور اہم پہلو سامنے آتا ہے، اور وہ ہے ایران اور عرب دنیا کے درمیان دیرینہ کشیدگی۔ ایران خود کو ایک انقلابی ریاست کے طور پر پیش کرتا ہے جو نہ صرف اپنے نظریات بلکہ اپنے سیاسی ماڈل کو بھی دنیا کے سامنے رکھنا چاہتا ہے۔ دوسری طرف عرب دنیا، خصوصاً سعودی عرب، ایک مختلف مذہبی و سیاسی ڈھانچے کی نمائندگی کرتا ہے جہاں بادشاہت کو ایک مستحکم نظام کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
مسئلہ یہ نہیں کہ کون سا نظام بہتر ہے، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہر فریق اپنے نظام کو دوسروں پر مسلط کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ ایران کی طرف سے انقلابی نظریات کی برآمد ہو یا عرب دنیا کی طرف سے سنی یا وہابی فکر کی ترویج، دونوں نے مسلم دنیا میں تقسیم کو گہرا کیا ہے۔ یہ تقسیم صرف نظریاتی نہیں بلکہ اس نے عملی طور پر کئی ممالک کو عدم استحکام کا شکار کیا ہے۔
آج جب متحدہ عرب امارات کے تعلقات اسرائیل اور بھارت کے ساتھ کھل کر سامنے آ رہے ہیں، تو یہ ایک موقع بھی ہے اور ایک تنبیہ بھی۔ موقع اس لیے کہ مسلم دنیا اپنے اندر جھانک کر دیکھے کہ اصل خطرہ کہاں سے ہے۔ کیا خطرہ واقعی ایک دوسرے کے نظریات سے ہے، یا پھر وہ سیاسی و اقتصادی کمزوری ہے جس نے بیرونی قوتوں کو ہمارے اندر مداخلت کا موقع دیا؟
ایران کے لیے یہ لمحہ خاص طور پر غور و فکر کا ہے۔ اگر عرب ممالک اپنے سیاسی نظام، یعنی بادشاہت، کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو یہ ان کی عوام کا داخلی معاملہ ہے۔ کسی بیرونی قوت کو اس میں مداخلت کا حق نہیں ہونا چاہیے۔ اسی طرح عرب دنیا کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی مخصوص مسلک یا مذہبی فکر کو دوسرے ممالک میں پھیلانے کی کوشش نہ صرف غیر ضروری ہے بلکہ نقصان دہ بھی ہے۔
عرب و عجم کی تقسیم، جو صدیوں پرانی ہے، آج بھی ہمارے ذہنوں پر حاوی ہے۔ یہ تقسیم صرف لسانی یا نسلی نہیں بلکہ اس نے ایک ذہنی دیوار کی شکل اختیار کر لی ہے۔ اس دیوار نے ہمیں ایک دوسرے سے دور کر دیا ہے، اور اسی دوری کا فائدہ عالمی طاقتیں اٹھا رہی ہیں۔
یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ مسلم دنیا کے اکثر مسائل داخلی ہیں۔ فرقہ واریت، سیاسی عدم استحکام، اقتصادی کمزوری اور تعلیمی پسماندگی وہ عوامل ہیں جنہوں نے ہمیں کمزور کیا ہے۔ جب تک ہم ان مسائل کا حل تلاش نہیں کریں گے، تب تک بیرونی قوتیں ہمارے معاملات میں مداخلت کرتی رہیں گی۔
پاکستان کا کردار اس تمام صورتحال میں نہایت اہم ہے۔ پاکستان نے حالیہ کشیدگی میں ایک متوازن اور محتاط پالیسی اختیار کی ہے، جو نہ صرف اس کی سفارتی بصیرت کا مظہر ہے بلکہ اس کی داخلی ضروریات کا بھی تقاضا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب دنیا دو واضح بلاکس میں تقسیم ہو رہی ہے، پاکستان کا غیر جانبدار رہنا ایک دانشمندانہ فیصلہ ہے۔
یہ غیر جانبداری کمزوری نہیں بلکہ حکمت عملی ہے۔ پاکستان بخوبی جانتا ہے کہ کسی ایک فریق کے ساتھ کھڑے ہونے کا مطلب دوسرے فریق کو کھونا ہو سکتا ہے، اور اس کا خمیازہ پورے خطے کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم دنیا اپنی ترجیحات کا ازسرنو تعین کرے۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا ہم اپنے وسائل کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرتے رہیں گے، یا انہیں اپنے عوام کی بہتری کے لیے بروئے کار لائیں گے۔
یہ وقت ہے کہ ایران اور عرب دنیا ایک دوسرے کے سیاسی اور مذہبی نظام کا احترام کریں۔ ایران کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ عرب ممالک میں بادشاہت ایک حقیقت ہے، اور اسے بدلنے کی کوشش نہ صرف غیر ضروری ہے بلکہ غیر عملی بھی ہے۔ اسی طرح عرب دنیا کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ ایران کا اپنا ایک نظریاتی اور سیاسی ڈھانچہ ہے جسے زبردستی تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
اگر ہم نے اس موقع کو ضائع کر دیا تو اس کے نتائج نہایت بھیانک ہو سکتے ہیں۔ ہماری آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی کہ ہم نے اپنے اختلافات کو ختم کرنے کے بجائے انہیں مزید بڑھایا۔
عرب و عجم کی اس تقسیم سے باہر نکلنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ ہمیں ایک نئی سوچ، ایک نئے وژن اور ایک نئی حکمت عملی کی ضرورت ہے جو ہمیں ایک مضبوط اور متحد مسلم دنیا کی طرف لے جا سکے۔
یہی وہ لمحہ ہے جب ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہم تاریخ کا حصہ بننا چاہتے ہیں یا اس کے بوجھ تلے دب کر رہ جانا چاہتے ہیں۔ اگر ہم نے اب بھی اپنی ترجیحات درست






