مشرق وسطی کی صورت حال پر پڑوسی ممالک کا کردار
أج کا اداریہ
مشرق وسطی کی صورت حال کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا ` یہ ابھی تک غیر واضح ہے۔اسی دوران معاملے کو کسی نہج تک پہنچانے کیلیے چند ممالک کا کردار اہم ہے۔ پاکستان’ ترکیے اور مصر اس سلسلے میں ابنی بساط کے مطابق سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔تاھم چین اور روس کا اس ضمن میں رول بھی انتہائی اھمیت کا حامل سمجھا جارہا ہے۔ایسے وقت میں جب بحرین اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) میں شامل دیگر ممالک اقوام متحدہ کے ذریعے آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے اقدامات پر زور دے رہے ہیں، چین ایران اور خلیجی ریاستوں کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایک جانب اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں چین نے جہاز رانی کے لیے انتہائی اہم اس گزر گاہ کو کھلوانے کے لیے طاقت کے ممکنہ استعمال کی مخالفت کی ہے دوسری جانب یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ خلیجی ممالک پر ایران کے حملوں کی حمایت نہیں کرتا۔
جنگ کے آغاز کے بعد سے ایران کے ساتھ چین کی عوامی سفارتی سرگرمیاں خلیجی ممالک کے مقابلے میں کم رہی ہیں اور تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ چین تہران کی حمایت کر کے عرب ریاستوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو نقصان نہیں پہنچائے گا، خاص طور پر اس لیے کہ خلیجی ممالک کے ساتھ اس کے معاشی تعلقات ایران کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط ہیں۔
اس وقت اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی صدارت بحرین کے پاس ہے۔ بحرین کوشش کر رہا ہے کہ ایک قرار داد کے ذریعے رکن ممالک کو اجازت دی جائے کہ وہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے ’تمام ضروری ذرائع‘ استعمال کر سکیں۔ چین نے ان کوششوں کی مخالفت کی ہے
بحرین کی جانب سے پیش کی گئی اس قرار داد کی حمایت خلیجی عرب ریاستوں اور امریکہ نے بھی کی، چین، روس اور فرانس نے قرار داد میں کسی بھی ایسے الفاظ کی مخالفت کی ہے جو طاقت کے استعمال کی اجازت دیتے ہوں۔
اقوام متحدہ میں چین کے سفیر فو کانگ نے قرارداد کی مخالفت اس بنیاد پر کی کہ یہ طاقت کے غیر قانونی اور ناجائز استعمال کو جائز قرار دے گی اور صورتحال کو مزید کشیدہ بنا دے گی۔
دو مارچ کو بحرین کے وزیر خارجہ عبداللطیف بن راشد الزیانی سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران وزیر خارجہ وانگ ژی نے اُن پانچ نکاتی اقدامات کا حوالہ دیا جو چین اور پاکستان نے مشترکہ طور پر تجویز کیے ہیں۔ ان میں آبنائے ہرمز کی سلامتی کو یقینی بنانے اور جہازوں کی معمول کی آمد و رفت بحال کرنے کی بات کی گئی تھی۔
وانگ ژی نے اس بات پر زور دیا کہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے اقدامات کا مقصد کشیدگی میں کمی لانا ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا: ’جنگی نوعیت کے غیر قانونی اقدامات کی توثیق کر کے حالات بگاڑنے کے بجائے لڑائی روک کر مذاکرات بحال کیے جائیں۔
دوسری مرتبہ تھا کہ بیجنگ نے ایران کے اقدامات سے اختلاف ظاہر کیا۔ اس سے قبل 11 مارچ کو جی سی سی ممالک اور اردن کی جانب سے بحرین نے قرار داد کا مسودہ پیش کیا جس میں ایران کے حملوں کی مذمت کی گئی تھی۔ چین نے اس پر ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا تھا۔
چین کے مندوب نے کہا تھا کہ اگرچہ چین خلیجی عرب ممالک کے اہم تحفظات کو پوری طرح سمجھتا ہے، تاہم قرار داد کا یہ مسودہ ’تنازع کی بنیادی وجوہات اور مجموعی صورتحال کی متوازن انداز میں عکاسی نہیں کرتا۔‘
دو اپریل کو اپنے تازہ بیان میں فو کانگ نے کہا کہ جنگ کی ’ابتدا‘ امریکہ اور اسرائیل نے کی۔ اسے اقوام متحدہ کے منشور کی ’واضح خلاف ورزی‘ قرار دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ صورتحال مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے فوجی کارروائیاں ختم کرنا ہی ’بنیادی حل‘ ہے۔
چین کو جی سی سی ممالک کا ’اچھا دوست اور شراکت دار‘ قرار دیتے ہوئے فو کانگ نے مزید کہا کہ جی سی سی ممالک کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کا ’مکمل احترام‘ کیا جانا چاہیے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ بیجنگ ’معصوم شہریوں اور غیر فوجی اہداف پر ہونے والے تمام حملوں کی مذمت کرتا ہے‘ اور بحری جہازوں کی گزر گاہ ’متاثر نہیں ہونی چاہیے۔‘
ایران کے ساتھ اپنی تازہ سفارتی رسائی کے بارے میں چین گریزاں نظر آتا ہے۔
دو اپریل کو چین کی وزارت خارجہ نے اس سوال کا براہ راست جواب دینے سے گریز کیا کہ کیا پاکستان کے ساتھ مشترکہ اقدامات کے حوالے سے ایران سے رابطہ کیا گیا ہے یا نہیں۔ وزارت نے صرف یہ کہا کہ ’یہ عوامی سطح پر کیے جانے والے اقدامات ہیں‘ اور ’تمام فریق اس سے آگاہ ہیں۔‘
اعداد و شمار کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد سے تہران کے ساتھ چین کی عوامی سفارتی سرگرمیاں خلیجی ممالک کے مقابلے میں کم، جب کہ پاکستان، مصر، کویت اور قطر کے ساتھ ہونے والی سفارتی سرگرمیوں کے برابر رہی ہیں۔
وزیر خارجہ وانگ ژی نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے دو بار ٹیلی فون پر بات کی، پہلے دو اور پھر 24 مارچ کو۔ جبکہ چین کے مشرق وسطیٰ امور کے خصوصی نمائندے ژائی جون 20 مارچ کو بیجنگ میں ایران کے سفیر عبدالرضا رحمانی فضلی سے ملے تھے
24 مارچ کو عراقچی کے ساتھ فون کال کے دوران وانگ ژی ایران کی حمایت میں زیادہ پر جوش نہ تھے۔ تمام فریقوں کو ’امن کے موقع سے فائدہ اٹھانے‘ کا مشورہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’بات چیت ہمیشہ لڑائی سے بہتر ہوتی ہے‘ اور ’یہی ایران اور اس کے عوام کے مفاد میں ہے۔
اس کے مقابلے پر، دو مارچ کی فون کال میں وانگ ژی نے خودمختاری، سلامتی، علاقائی سالمیت اور قومی وقار کے تحفظ کے لیے تہران کی حمایت کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ چین ایران کے ساتھ ’روایتی دوستی‘ کی قدر کرتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ کی پالیسیوں نے ’واشنگٹن پر عالمی اعتماد کو کمزور کیا ہے اور اس کا فائدہ چین کو ہوا ہے۔‘ تجزیہ کاروں نے اس توقع کا اظہار






