#کالم

ایران، اسرائیل اور عالمی ضمیر کی آزمائش

Untitled 3

تحریر: ڈاکٹر عمرانہ مشتاق
دنیا کے بدلتے ہوئے منظرنامے میں کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جو محض خبریں نہیں رہتے بلکہ تاریخ کے دھارے کا رخ متعین کرنے لگتے ہیں۔ حالیہ ایران اور اسرائیل کی کشیدگی بھی انہی میں سے ایک ہے، جس نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی سیاست، معیشت اور اخلاقی اقدار کو ایک نئے امتحان میں ڈال دیا ہے۔ یہ محض دو ریاستوں کے درمیان تنازع نہیں بلکہ طاقت، انصاف، مزاحمت اور عالمی ضمیر کی ایک بڑی آزمائش ہےایران نے جس جرات، حکمت اور صبر کے ساتھ اس صورتحال کا سامنا کیا، وہ قابلِ غور بھی ہے اور قابلِ مطالعہ بھی۔ ایک طرف اسے مسلسل اشتعال انگیزی کا سامنا تھا دوسری طرف عالمی دباؤ بھی موجود تھا، مگر اس کے باوجود ایران نے اپنے مؤقف کو واضح رکھا کہ وہ اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ اسرائیل کی پالیسیوں میں ایک جارحانہ تسلسل نظر آتا ہے، جو گزشتہ کئی دہائیوں سے خطے میں عدم استحکام کا باعث بنا ہوا ہے۔
اگر ہم غزہ کی صورتحال کو دیکھیں تو وہاں ہونے والے مظالم نے انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ نہتے شہری، معصوم بچے، خواتین اور بزرگ سب اس جنگ کی بھینٹ چڑھتے رہے ہیں۔ ان مظالم پر عالمی برادری کی خاموشی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ بعض حلقوں میں ان اموات پر خوشی کا اظہار بھی کیا گیا، جو انسانی اقدار کے لیے ایک المیہ ہے۔ مگر جب یہی حالات اسرائیل کے اندر پیدا ہوئے اور وہاں لاشیں واپس آنے لگیں، تو وہی معاشرہ سوگوار نظر آیا۔ یہ تضاد اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جب درد اپنے گھر تک پہنچتا ہے تو اس کی شدت کا احساس ہوتا ہے، ورنہ دوسروں کے زخم اکثر نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔
ایران کا ردعمل اس پورے تناظر میں ایک اہم پہلو رکھتا ہے۔ ایران نے نہ صرف اپنے دفاع کا اعلان کیا بلکہ بعض اطلاعات کے مطابق پیشگی خبردار بھی کیا، جو ایک ذمہ دار ریاست کے طرزِ عمل کی عکاسی کرتا ہے۔ جنگ کے اصولوں میں بھی کچھ اخلاقی حدود ہوتی ہیں، اور ایران نے کم از کم اس حد تک ان اصولوں کو مدنظر رکھنے کی کوشش کی۔ اس کے برعکس اسرائیل کی جانب سے ماضی میں ایران کے اندر حساس مقامات، تعلیمی اداروں، مساجد اور دیگر شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں جو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
یہاں ایک اہم سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا طاقت ہی حق کا معیار بن چکی ہے اگر ایک طاقتور ریاست کسی کمزور یا محدود وسائل رکھنے والے ملک پر حملہ کرے تو اسے “سیکیورٹی” کا نام دیا جاتا ہے، جبکہ اگر وہی ملک اپنے دفاع میں جواب دے تو اسے “خطرہ” قرار دیا جاتا ہے۔ یہ دوہرا معیار عالمی نظام کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔
ایران نے یہ واضح کیا کہ اگر اس کے بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنایا جائے گا تو وہ خاموش نہیں رہے گا۔ یہ مؤقف نہ صرف ایک ریاستی پالیسی ہے بلکہ ایک فطری انسانی ردعمل بھی ہے۔ کوئی بھی قوم اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدام کرتی ہے اور یہی اصول یہاں بھی کارفرما نظر آتا ہے۔
اس پورے بحران میں پاکستان کا کردار نہایت متوازن اور مثبت رہا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ امن، مذاکرات اور سفارتی حل کی حمایت کی ہے۔ اس نے نہ صرف اس کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا بلکہ فعال طور پر جنگ بندی کی کوششوں میں بھی حصہ لیا۔ اسی تناظر میں چین کے ساتھ مل کر پیش کیے گئے پانچ نکات عالمی امن کے لیے ایک اہم پیش رفت سمجھے جا سکتے ہیں۔ ان نکات میں فوری جنگ بندی، فریقین کے درمیان مذاکرات شہریوں کے تحفظ اور خطے میں استحکام کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے۔
یہ اقدام اس بات کی علامت ہے کہ دنیا میں اب بھی ایسے ممالک موجود ہیں جو طاقت کے بجائے امن کو ترجیح دیتے ہیں۔ پاکستان اور چین کا یہ مشترکہ مؤقف نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک مثبت پیغام ہے کہ مسائل کا حل جنگ نہیں بلکہ مکالمہ ہے۔
اگر ہم اس صورتحال کو وسیع تر تناظر میں دیکھیں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی طاقتوں کے مفادات کا مرکز بن چکا ہے۔ یہاں ہونے والی ہر کشیدگی کا اثر عالمی معیشت، خصوصاً تیل کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔ اسی لیے بڑی طاقتیں اس خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کے لیے مختلف حکمت عملیاں اختیار کرتی ہیں۔ مگر ان تمام سیاسی کھیلوں کے درمیان سب سے زیادہ نقصان عام انسان کا ہوتا ہے جو نہ تو جنگ چاہتا ہے اور نہ ہی اس کے نتائج کا متحمل ہو سکتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ جنگیں صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتیں بلکہ ان کے اثرات نسلوں تک پھیل جاتے ہیں۔ ایک بچے کا بچپن چھن جاتا ہے ایک ماں کی گود اجڑ جاتی ہے، اور ایک معاشرہ خوف اور عدم تحفظ کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ انسانی پہلو ہے جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
عالمی برادری کو اس وقت سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ ہے انصاف پر مبنی پالیسی۔ اگر دنیا واقعی امن چاہتی ہے تو اسے دوہرے معیار کو ترک کرنا ہوگا۔ ہر ملک کے لیے ایک ہی اصول ہونا چاہیے، چاہے وہ طاقتور ہو یا کمزور۔
یہ بھی ضروری ہے کہ میڈیا اور دانشور طبقہ اس صورتحال کو غیر جانبداری سے دیکھے اور عوام کو حقیقت سے آگاہ کرے۔ کیونکہ جب معلومات یکطرفہ ہوتی ہیں تو رائے بھی متعصب ہو جاتی ہے اور یہی تعصب مزید نفرت کو جنم دیتا ہے۔
آج کا دور تیز رفتار معلومات کا دور ہے جہاں ایک خبر چند لمحوں میں پوری دنیا تک پہنچ جاتی ہے۔ ایسے میں ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کہا جائے۔
اس تمام صورتحال میں امید کی ایک کرن بھی موجود ہے، اور وہ ہے امن کی خواہش۔ پاکستان اور

ایران، اسرائیل اور عالمی ضمیر کی آزمائش

03/04/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے