#اداریہ

صدر ٹرمپ کا جنگ بندی کا عندیہ

Fahad 01

أج کا اداریہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک بار پھر جنگ ختم کرنے کا اشارہ ملا ہے تاھم اس ضمن میں کوئی ٹائم فریم نہیں دیا گیا۔انکاکہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اپنے اختتام کے قریب ہے اور امریکا کسی بھی صورت میں اپنا مشن مکمل کر کے پیچھے ہٹ جائے گا چاہے ایران مذاکرات کی میز پر آئے یا نہ آئے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کو اس حد تک نقصان پہنچایا جا چکا ہے کہ وہ 20 سال پیچھے جا چکا ہے اور اگر امریکا کو یقین ہوگیا کہ ایرانی ایٹمی خطرہ ختم ہوچکا ہے تو وہ بغیر کسی معاہدے کے بھی جنگ سے نکل جائے گا۔دوسری جانب پاکستان جنگ بندی کیلیے کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں ۔ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار ترکیے۔مصراور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ سے اسلام أباد میں اھم بیٹھک کے بعد چین کے دورے کے دوران چینی حکام سے ملاقاتیں کی ہیں۔ڈار کی بیجنگ میں چینی ہم منصب وانگ یی سے ملاقات میں دونوں ممالک نے خلیج و مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے پانچ نکاتی مشترکہ منصوبہ پیش کیا۔دونوں رہنماؤں نے ملاقات میں خطے کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا جبکہ پانچ نکات پر مبنی مشترکہ امن منصوبہ پیش کیا
اعلامیے کے مطابق پاکستان اور چین نے مشرق وسطیٰ و خلیج میں تنازع کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے، جنگ سے متاثرہ علاقوں میں انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کا منصوبہ پیش کیا
دونوں ممالک نے زور دیا کہ ایران اور خلیجی ریاستوں کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کا تحفظ کیا جائے جبکہ پاکستان اور چین نے مسائل کے حل کے لیے سفارتکاری اور مذاکرات کو واحد مؤثر راستہ قرار دیتے ہوئے تمام فریقین پر تنازع کے پرامن حل کے لیے مذاکرات شروع کرنے کی تجویز دی
دونوں  ممالک نے زور دیا کہ کوئی بھی ملک طاقت کا استعمال یا دھمکی سے گریز کرے جبکہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے اور غیر عسکری تنصیبات پر حملے فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا۔دونوں ممالک کی جانب سے توانائی، پانی صاف کرنے کے پلانٹس، بجلی گھروں اور پرامن جوہری تنصیبات کے تحفظ پر بھی زور دیا گیا۔
آبنائے ہرمز کو عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے دونوں ممالک نے جہازوں اور عملے کی حفاظت یقینی بنانے اور تجارتی جہازوں کی محفوظ و جلد آمدورفت بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔ چین  اور پاکستان نے کثیرالجہتی نظام کو فروغ دینے، اقوام متحدہ کے کردار کو مضبوط بنانے اور بین الاقوامی قوانین کی بنیاد پر جامع امن فریم ورک تشکیل دینے کی حمایت کا اعادہ کیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ دونوں ممالک کی جانب سے پیش کیے گئے نکات خطے میں دیرپا امن کے قیام اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہو سکتے ہیں۔ ادھرصدر ٹرمپ نے میڈیا کو بتایا کہ ایران میں بڑی تبدیلیاں آچکی ہیں اور وہاں ایک کم شدت پسند گروپ سامنے آیا ہے جبکہ ان کے مطابق امریکا کا مقصد رجیم چینج نہیں بلکہ صرف ایٹمی خطرے کا خاتمہ تھا۔
انہوں نے عندیہ دیا کہ آئندہ 2 سے 3 ہفتوں میں جنگ مکمل طور پر ختم ہوسکتی ہے تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اگر ڈیل ہوتی ہے تو ٹھیک ورنہ امریکا کو اس کی ضرورت نہیں کیونکہ ایران کو ڈیل کی زیادہ ضرورت ہے ہمیں نہیں۔
اپنی گفتگو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے داخلی معاملات پر بھی سخت مؤقف اپناتے ہوئے ڈیموکریٹس پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ انہوں نے سرحدیں کھول کر امریکا کو جرائم پیشہ افراد کے لیے آسان بنا دیا تھا تاہم اب سخت قوانین کے ذریعے حالات کو کنٹرول کرلیا گیا ہے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اپنے اختتام کے قریب ہے اور امریکا کسی بھی صورت میں اپنا مشن مکمل کر کے پیچھے ہٹ جائے گا چاہے ایران مذاکرات کی میز پر آئے یا نہ آئے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کو اس حد تک نقصان پہنچایا جا چکا ہے کہ وہ 20 سال پیچھے جا چکا ہے اور اگر امریکا کو یقین ہوگیا کہ ایرانی ایٹمی خطرہ ختم ہوچکا ہے تو وہ بغیر کسی معاہدے کے بھی جنگ سے نکل جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران میں بڑی تبدیلیاں آچکی ہیں اور وہاں ایک کم شدت پسند گروپ سامنے آیا ہے جبکہ ان کے مطابق امریکا کا مقصد رجیم چینج نہیں بلکہ صرف ایٹمی خطرے کا خاتمہ تھا۔
انہوں نے عندیہ دیا کہ آئندہ 2 سے 3 ہفتوں میں جنگ مکمل طور پر ختم ہوسکتی ہے تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اگر ڈیل ہوتی ہے تو ٹھیک ورنہ امریکا کو اس کی ضرورت نہیں کیونکہ ایران کو ڈیل کی زیادہ ضرورت ہے ہمیں نہیں۔
اپنی گفتگو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے داخلی معاملات پر بھی سخت مؤقف اپناتے ہوئے ڈیموکریٹس پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ انہوں نے سرحدیں کھول کر امریکا کو جرائم پیشہ افراد کے لیے آسان بنا دیا تھا تاہم اب سخت قوانین کے ذریعے حالات کو کنٹرول کرلیا گیاہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ واشنگٹن ڈی سی میں جرائم کی شرح 98 فیصد تک کم ہوچکی ہے اور شہر امریکا کا محفوظ ترین علاقہ بن چکا ہے۔
اسی دوران انہوں نے صدارتی حکم نامہ جاری کرتے ہوئے میل ان ووٹنگ کے نظام کو مزید سخت اور محفوظ بنانے کی ہدایت دی جبکہ وائٹ ہاؤس کی سیکیورٹی کو بھی غیرمعمولی سطح تک بڑھانے کا اعلان کیا جس میں بلٹ پروف شیشے، ڈرون پروف چھت اور بم شیلٹرز شامل ہیں۔
ایرانی صورتحال پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا تو وہ اب تک استعمال کرچکا ہوتا اس لیے امریکا نے بروقت کارروائی کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کو محفوظ بنایا جا رہا ہے اور دنیا کے ممالک وہاں سے باآسانی تیل حاصل کر سکتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کا جنگ بندی کا عندیہ

02/04/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے