بڑوں کے بھیانک رویے
تحریر: خالد غورغشتی
اس میں کوئی دو رایے نہیں کہ آج کل کے بچے کافی بگڑ چکے ہیں اور انہی بگڑی ہوئی نسلوں کے متعلق اکبر اٰلہ آبادی نے کہا تھا:
اُٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں
نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے
مگر یہ بات یک طرفہ محسوس ہوتی ہے۔ اس دور میں جب ہر چیز واضح ہو چکی ہے اور انٹرنیٹ نے دُنیا کی حقیقتیں کھول کر سامنے رکھ دی ہیں، اب بھی ہمارے ملک میں اساتذہ، والدین اور بڑے بچوں پر اپنی اجارہ داری قایم کیے ہوئے، ان پر اپنے خودساختہ فیصلے مسلط کرنے میں مگن نظر آتے ہیں۔
بچے تعلیم سے لے کر شادی اور روزگار تک ہر معاملے میں والدین کی مرضی کے محتاج ہوتے ہیں۔ جو والدین اپنے بچوں کو ذاتی حیثیت میں سوچنے کا موقع نہیں دیتے، ان کے اولادیں پڑھ لکھ کر بھی لکیر کی فقیر ہی رہتی ہیں۔
میں نے اکثر مشاہدہ کیا ہے کہ والدین کے غلط فیصلوں کی بہ دولت بچوں کا مستقبل داؤ پر لگ جاتا ہے۔ اکثر والدین بچوں پر کھیلنے کودنے اور گھومنے پھرنے کی پابندیاں عائد کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں بچے سمارٹ فون کی دنیا میں کھو کر نفسیاتی مسایل کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جب بچوں پر کھیل کود کے دروازے بند کر دیے جائیں اور وہ دن رات سمارٹ فون میں مگن رہیں تو ان سے کسی خیر کی توقع کی جا سکتی ہے؟
اسی طرح بعض والدین مسایل سے آگاہ ہونے کے باوجود، بچیوں کو ہر طرح کی سوشل میڈیا ایپس استعمال کرنے کی اجازت دیتے ہیں؛ انھیں اکیلے سفر، تعلیم یا کام کی اجازت بھی دیتے ہیں، جو نہایت افسوس ناک ہے۔ اس دور میں جب محرم رشتوں کا تقدس مکمل پامال ہو چکا ہے؛ چھوٹے بڑے کی تمیز مٹتی جا رہی ہے، ایسے حالات میں بچیوں کو اکیلا چھوڑ دینا خطرے سے خالی نہیں ہوگا۔ اگر والدین ایسا کرتے ہیں تو گویا وہ خود اپنی بچیوں کے ساتھ ناانصافی کر رہے ہیں؛ جس کے سزائیں بعد میں وہ بھگتے ہیں۔ اس وقت ضروری ہو چکا ہے کہ والدین اپنی اولاد کی بہتر نگہداشت کریں اور انہیں غیر ضروری طور پر تنہا نہ چھوڑیں۔ آج کے دور میں جوان اولاد کی حفاظت پہلے سے زیادہ مشکل ہو چکی ہے، اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی نسلوں کی حفاظت کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں، ورنہ انہیں سنگین نتایج کے لیے تیار رہنا ہوگا۔
ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے جہاں آج کے دور میں بچیاں گھروں کے اندر محفوظ نہیں ہیں، ان کو باہر کی دنیا میں کُھلی آزادی دے کر نہ صرف ان کا حال بلکہ ان کا مستقبل بھی داؤ پر لگ سکتا ہے۔
چھوٹے بچوں کو سمارٹ فون کی ایسی لت پڑی ہے کہ مائیں بچوں کو کھانا کھلانے کے لیے بھی موبایل ہاتھ سے نہیں لیتی، اس لیے کہ وہ کھانا نہیں کھاتے۔ اس طرح جو عمر بچوں کی تربیت کی ہے۔ اس میں لاڈ وپیار دے کر بگاڑتے ہیں اور پھر آنے والے وقت میں یہی بچے بڑے ہو کر معاشرے میں بھی بگاڑ پیدا کرتے ہیں۔ رہی سہی کسر آن لائن کلاسز نے پوری کر دی ہے۔ جہاں بچے پہلے ضد کر کے موبائل لیتے تھے، اب کلاس کے بہانے آسانی سے لیتے ہیں۔ ضروری ہو چکا ہے کہ بچوں کی ایسی تربیت کی جائے کہ والدین ان کی تمام سرگرمیوں پر نظر رکھیں۔






