#کالم

سُتھرا پنجاب اتھارٹی ایکٹ۔امید کی نئی کرن

Untitled 28

تحریر: محمد ریاض ایڈووکیٹ
صوبہ پنجاب میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، شہری توسیع، صنعتی ترقی اور دیہی علاقوں میں بنیادی سہولیات کی کمی نے صفائی اور کچرے کے انتظام کے مسائل کو نہایت پیچیدہ بنا دیا ہے۔ گلیوں، بازاروں، ندی نالوں اور خالی جگہوں پر کچرے کے ڈھیر نہ صرف ماحولیاتی آلودگی کا باعث بنتے ہیں بلکہ مختلف بیماریوں کے پھیلاؤ میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں ایک منظم، مربوط اور مؤثر نظام کی اشد ضرورت تھی جو نہ صرف کچرے کو ٹھکانے لگانے تک محدود ہو بلکہ اس کے پورے عمل کو سائنسی بنیادوں پر استوار کرے۔ اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے ماہ دسمبر میں ”سُتھرا پنجاب اتھارٹی بل 2025” پیش کیا گیا جو بالآخر گذشتہ ماہ فروری میں پنجاب اسمبلی سے منظورہوا۔ یہ بل دراصل ایک جامع فریم ورک فراہم کرتا ہے جس کے تحت پورے صوبے میں صفائی اور ویسٹ مینجمنٹ کے نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالا جا سکے۔ اس میں نہ صرف ادارہ جاتی ڈھانچہ شامل ہے بلکہ پالیسی سازی، نفاذ، نگرانی، مالیاتی نظام اور سزاؤں تک تمام پہلوؤں کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔

قانون کی ضرورت اور پس منظر
کچرے کے غیر مؤثر انتظام کی وجہ سے پنجاب کے شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں سنگین مسائل پیدا ہو چکے ہیں۔ کھلے عام کچرا پھینکنا، نالوں میں فضلہ ڈالنا، جانوروں کی باقیات کو غیر مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانا، اور پلاسٹک کے استعمال میں بے تحاشہ اضافہ ایسے عوامل ہیں جنہوں نے ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
اسی طرح صفائی کے موجودہ نظام میں ہم آہنگی کی کمی، مختلف اداروں کے درمیان اختیارات کی تقسیم اور مؤثر نگرانی کے فقدان نے صورتحال کو مزید خراب کیا۔ اس بل کے ذریعے ان تمام مسائل کا ایک مربوط حل پیش کیا گیا ہے تاکہ ایک مرکزی اتھارٹی کے تحت تمام سرگرمیوں کو منظم کیا جا سکے۔

قانون کا دائرہ کار اور نفاذ
یہ قانون پورے پنجاب پر لاگو ہوگا، تاہم حکومت کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ کسی مخصوص علاقے کو اس کے دائرہ کار سے مستثنیٰ قرار دے سکتی ہے۔ قانون کے نفاذ کے ساتھ ہی اس کے تمام احکامات فوری طور پر قابلِ عمل ہوں گے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اس معاملے کو فوری اہمیت دینا چاہتی ہے۔

اہم اصطلاحات کی وضاحت
بل میں مختلف اصطلاحات کی واضح تعریف دی گئی ہے تاکہ کسی قسم کی ابہام کی گنجائش نہ رہے۔ مثال کے طور پر ”ویسٹ مینجمنٹ” میں کچرے کی جمع آوری، ذخیرہ، نقل و حمل، ری سائیکلنگ اور ٹھکانے لگانے کے تمام مراحل شامل ہیں۔ اسی طرح ”ویسٹ” کی تعریف بھی وسیع رکھی گئی ہے جس میں گھریلو، تجارتی، ادارہ جاتی اور سڑکوں کی صفائی سے حاصل ہونے والا کچرا شامل ہے۔
یہ واضح تعریفیں قانون کے نفاذ میں آسانی پیدا کرتی ہیں اور متعلقہ اداروں کو اپنی ذمہ داریوں کے تعین میں مدد دیتی ہیں۔

سُتھرا پنجاب اتھارٹی کا قیام
بل کے تحت ایک مرکزی ادارہ ”سُتھرا پنجاب اتھارٹی” قائم کیا جائے گا، جو اس پورے نظام کی نگرانی کرے گا۔ یہ ایک خودمختار کارپوریٹ ادارہ ہوگا جسے قانونی حیثیت حاصل ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ادارہ جائیداد خرید سکتا ہے، فروخت کر سکتا ہے، معاہدے کر سکتا ہے اور قانونی کارروائی کر سکتا ہے۔
اتھارٹی کی سربراہی وزیراعلیٰ پنجاب کریں گے، جبکہ وزیر بلدیات اس کے نائب سربراہ ہوں گے۔ دیگر ارکان میں مختلف محکموں کے اعلیٰ افسران اور تکنیکی ماہرین شامل ہوں گے۔ اس طرح ایک ایسا پلیٹ فارم تشکیل دیا گیا ہے جہاں مختلف شعبوں کی نمائندگی موجود ہوگی اور فیصلے جامع انداز میں کیے جا سکیں گے۔

اتھارٹی کی ساخت اور نمائندگی
اتھارٹی میں شامل ارکان کا انتخاب اس طرح کیا گیا ہے کہ انتظامی، مالیاتی، ماحولیاتی اور تکنیکی تمام پہلوؤں کی نمائندگی ہو۔ ڈویژنل کمشنرز کی شمولیت سے علاقائی سطح پر مسائل کو بہتر انداز میں سمجھا جا سکے گا، جبکہ ماہرین کی موجودگی سے جدید اور سائنسی بنیادوں پر فیصلے کیے جائیں گے۔
مزید برآں، اتھارٹی کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ ضرورت پڑنے پر مزید ماہرین کو شامل کر سکتی ہے، اگرچہ انہیں ووٹ کا حق حاصل نہیں ہوگا۔
اتھارٹی کے اختیارات اور ذمہ داریاں
یہ اتھارٹی نہایت وسیع اختیارات کی حامل ہوگی، جن میں شامل ہیں:

  • کچرے کے انتظام کو یقینی بنانا
    •⁠ ⁠پالیسی سازی اور معیار مقرر کرنا
    •⁠ ⁠ایجنسیوں کی کارکردگی کی نگرانی
    •⁠ ⁠فیس اور چارجز کی منظوری
    •⁠ ⁠ویسٹ مینجمنٹ کے لیے رہنما اصول تیار کرنا
    •⁠ ⁠مطلوبہ مشینری و سامان کی خریداری
    •⁠ ⁠ملازمین کی تقرری اور انتظام
    اتھارٹی کو یہ بھی اختیار حاصل ہوگا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو نجی شعبے کے حوالے کر سکے یا ماہرین کی خدمات حاصل کر سکے۔ یہ لچکدار نظام کارکردگی کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
    اجلاس اور فیصلہ سازی کا طریقہ کار۔ اتھارٹی کے اجلاس ہر تین ماہ میں کم از کم ایک بار منعقد ہوں گے۔ فیصلے اکثریت کی بنیاد پر کیے جائیں گے، جبکہ برابری کی صورت میں سربراہ کو فیصلہ کن ووٹ حاصل ہوگا۔ یہ طریقہ کار شفاف اور جمہوری اصولوں کے مطابق ہے۔

ضلعی سطح پر ایجنسیوں کا قیام
بل کے تحت ہر ضلع میں ”سُتھرا پنجاب ایجنسی” قائم کی جائے گی، جو عملی طور پر صفائی اور کچرے کے انتظام کے کام انجام دے گی۔ اس ایجنسی کی سربراہی ڈپٹی کمشنر کریں گے، جبکہ دیگر ضلعی افسران بھی اس کا حصہ ہوں گے۔
یہ ایجنسیاں مقامی سطح پر مسائل کے حل کے لیے فوری اقدامات کر سکیں گی، جو اس نظام کی ایک بڑی خوبی ہے۔

ایجنسی کے فرائض
ایجنسیوں کو درج ذیل اہم ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں:
•⁠ ⁠کچرے کی جمع آوری اور تلفی
•⁠ ⁠صفائی کے نظام کی بہتری
•⁠ ⁠ری سائیکلنگ اور ویسٹ ٹو انرجی منصوبوں کا نفاذ
•⁠ ⁠عوام میں شعور بیدار کرنا
•⁠ ⁠لائسنس جاری کرنا اور نگرانی کرنا
یہ ذمہ داریاں اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ عملی سطح پر تمام کام مؤثر طریقے سے انجام پائیں۔

انتظامی قیادت: ڈائریکٹر جنرل اور منیجنگ ڈائریکٹر
اتھارٹی کا انتظامی سربراہ ڈائریکٹر جنرل ہوگا، جو پالیسیوں

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے