قراردادِ پاکستان : کچھ بنیادی سوالات
افکارِ تازہ ڈاکٹر افتخار الحق
پاکستانی قوم 23 مارچ کو یومِ پاکستان کے طور پر مناتی ہے کیونکہ اس دن مسلم لیگ نے باضابطہ طور پر آزاد مسلم ریاست “ پاکستان “کا مطالبہ کیا تھا۔تاہم اس مطالبے سے جُڑے کچھ تاریخی حقائق پر گفتگو سے ممکن ہے ہم بہتر انداز میں نئی نسل کی مثبت ذہن سازی کر سکیں کیونکہ ڈاکٹر صفدر محمود نے اپنی مشہور کتاب “ پاکستان : تاریخ و سیاست “ کی ابتدا میں یہ چشم کشا قول لکھا ہے : “جو قوم اپنی تاریخ یاد نہیں رکھتی ، اس کا جغرافیہ اسے فراموش کر دیتا ہے ۔”
اس بابت سب سے اہم حقیقت یہ ہے کہ تاریخی دستاویزات میں قراردادِ پاکستان میں ایک آزاد مسلم ریاست کی بجائے شمال مغربی اور مشرقی بھارت کے مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل آزاد “ ریاستوں “ کا مطالبہ کیا گیا تھا اور اس کا مطلب یقیناً دو آزاد ممالک ہی لیا جا سکتا ہے اور یہی جمع کا صیغہ مینارِ پاکستان پر کندہ عبارت میں بھی درج ہے ۔
تاہم مارچ 1940 کے بعشرے میں رفتہ رفتہ اپنے بیانات میں قائدِ اعظم نے “ ایک “آزاد مسلم ریاست کا ہی ذکر کیا۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ کانگرسی اور برطانوی عمائدین سے مذاکرات میں بھی انھوں نے ہمیشہ ایک آزاد مملکت پاکستان کے مطالبے پر زور دیا ۔ صرف اور صرف تاریخ کے معروضی مطالعے کی نیت سے ہر باشعور پاکستانی یہ سوال کر سکتا ہے کہ پہلے “ ریاستوں “ اور پھر “ ریاست “ کی بات محض اتفاقیہ ہے یا واقعی قائدِ اعظم کے ذہن میں مارچ 1940 میں مسلم اکثریتی صوبوں کی آزادی کے حوالے سے کچھ اور بیانیہ تھا جو بعد میں زمینی حقائق کے ساتھ کچھ اور عوامل کی بنا پر تبدیل ہوتا چلا گیا ۔ یہ ہونا بعید از قیاس ہے کہ ہماری تمام اہم ترین دستاویزات میں کچھ اور درج ہو اور صرف اس قرارداد میں غلطی سے ایسا لکھا گیا اور پھر مینارِ پاکستان پر آزادی کے کئی سال بعد بھی کسی کو اس غلطی کا ادراک نہیں ہوا اور اس مینار پر بھی “ ریاستوں “ کا لفظ لکھ دیا گیا ۔
میرے خیال میں اس اہم موضوع کا تجزیہ ضروری ہے کیونکہ اگر 1971 کا سانحہ پیش نہ آیا ہوتا تو اس تجزیے کی ضرورت بھی پیش نہ آتی ۔ اس بہانے ممکن ہے ہماری قوم اور سیاسی قیادت تاریخ سے کچھ بہتر اسباق سیکھ لے ۔ جناب حسن عسکری رضوی کی کتاب
Pakistan: Political and Constitutional Engineering
میں دیگر بہت سے تاریخی انکشافات کے ساتھ دو بہت اہم حقائق درج ہیں ۔ ایک یہ کہ 1955 تک مشرقی پاکستان کا سرکاری نام “ مشرقی بنگال “ تھا ۔ دوسری تلخ حقیقت یہ کہ پہلے بنگالی افسر کو میجر جنرل کے عہدے پر ترقی 1970 میں دی گئی ۔
اس طرح کے کئی اور اہم حقائق کے تناظر میں کچھ منطقی سوال پیدا ہوتے ہیں ۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ قائدِ اعظم کی سیاسی بصیرت نے بھانپ لیا تھا کہ شمال مغربی و مشرقی علاقوں پر مشتمل ایک ہی ریاست کا قیام ،جس کے دو حصوں کے درمیان بھارتی علاقے کی طویل پٹّی ہوگی ، شاید بہت سی سیاسی پیچیدگیوں کا پیش خیمہ ثابت ہو ۔ پھر دیگر مسلم لیگی رہنماؤں کے مشورے اور دباؤ پر قائد نے اپنے مطالبے میں ترمیم کی ہو ۔ کیا مشرقی پاکستان کے ساتھ امتیازی سلوک انگریزوں کے اس کلیے کے تحت تو نہیں کیا گیا : “ بنگالیوں پر کبھی بھروسا نہ کرنا۔” کیا ابتدا سے ہی دو الگ اور آزاد مسلم ممالک کے طور پر مغربی اور مشرقی پاکستان ایک ڈھیلی ڈھالی فیڈریشن کے طور پر جڑے رہتے تو کہیں زیادہ معاشی ترقی نہ کر لیتے جیسا کہ چین نے ہانگ کانگ کے 1997 میں دوبارہ الحاق کے بعد “ ایک ریاست ، دو نظام “ کا دانش مندانہ فارمولہ اپنا کر عملاً سیاسی استحکام اور معاشی ترقی کی منزل پائی ۔ عالمی شہرت یافتہ خورشید کمال عزیز سمیت کچھ اور مورخین نے بھی اپنی تصنیفات میں ایسے ہی سوالات اٹھائے ہیں ۔کاش ان سوالات کے مفصل جواب ہماری تاریخ کی کتب میں شامل کر دیے جائیں تاکہ ہم مزید سیاسی غلطیوں سے اجتناب کر سکیں ۔






