پروپیگنڈا مہم چلانے والوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ
أج کا اداریہ
پنجاب حکومت کے زیر استعمال نئے طیارے کے حوالے سے منفی پروپیگنڈا مہم عروج پر ہے اور حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ سرکاری گلف سٹریم جہاز سے متعلق ’بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈا مہم‘ میں حصہ لینے والے افراد اور پلیٹ فارمز کے خلاف ہتک عزت کے قوانین کے تحت کارروائی کرے گی۔
یہ وہی جہاز ہے جو گذشتہ مہینے بھی سوشل میڈیا پر موضوعِ گفتگو بنا ہوا تھا اور سوال اُٹھ رہے تھے کہ یہ جہاز کسی نئی ایئر لائن کے لیے خریدا گیا ہے یا وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے استعمال کے لیے۔
اس جہاز پر نیا تنازع اس وقت کھڑا ہوا جب دوبارہ سوشل میڈیا پر خبریں گردش کرنے لگیں کہ یہ لگژری گلف سٹریم طیارہ آسٹریا کے شہر ویانا میں موجود ہے اور پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ کے صاحبزادے جنید صفدر اس کا استعمال کر کے یورپ گئے ہیں۔
انسٹاگرام پر جنید صفدر الزامات کی تردید کر چکے ہیں اور کہہ چکے ہیں کہ وہ اس وقت لاہور میں ہیں لیکن اس کے باوجود بھی افواہوں کا سلسلہ رُکنے کا نام نہیں لے رہا۔
طیارے کی ویانا میں موجودگی کی تصدیق پنجاب کی وزیرِ اطلاعات اعظمیٰ بخاری نے کی تھی اور کہا تھا کہ پنجاب حکومت کا جہاز تکنیکی معائنے کے لیے ویانا گیا ہے، جس کے بارے میں جاری قیاس آرائیاں نہ صرف حقائق کے برعکس ہیں بلکہ افسوسناک بھی ہیں
ایک متعین مدت میں جہاز کا تکنیکی معائنہ کنٹریکٹ کا حصہ ہوتا ہے۔ معمول کے معائنے پر بے پر کی اڑانے والوں کو بامقصد کاموں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے
تاہم ان کی وضاحت کے باوجود سوشل میڈیا پر افواہوں کا سلسلہ نہ رُک سکا، جس کے بعد سینیئر صوبائی وزیرِ مریم اورنگزیب نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پیغام میں لکھا کہ پنجاب حکومت کے سرکاری طیارے کے استعمال کے بارے میں جھوٹ، من گھڑت کہانیوں اور بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈا کی ایک منظم مہم چند معروف جھوٹ کے عادی عناصر اور جعلی خبریں پھیلانے والوں کی جانب سے چلائی جا رہی ہے۔
انھوں نے اعلان کیا کہ صوبائی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اس مہم میں شامل ہر فرد اور پلیٹ فارم کے خلاف ہتک عزت قانون 2024 کے تحت کارروائی کی جائے گی۔
دوسری جانب وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر نے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر لکھا کہ میں نے گلف سٹریم (جہاز) استعمال نہیں کیا ہے اور نہ ہی میں اسے ویانا لے کر گیا ہوں۔
تاہم سوشل میڈیا صارفین سمجھتے ہیں کہ حکومت کو قانونی کارروائی کے بجائے شہریوں کو ان کے سوالات کے جوابات دینے چاہییں۔
اس سے قبل وزیرِ اطلاعات اعظمیٰ بخاری نے کہا تھا کہ یہ جہاز ایئر پنجاب نامی حکومتی ایئر لائن کے لیے خریداگیا
ڈی جی پی آر کے بیان میں کہا گیا تھا کہ وزیرِ اعلیٰ نے خصوصی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پاکستان کی پہلی صوبائی اِیئر لائن ایئر پنجاب کے قیام کی منظوری دی۔
ڈی جی پی آر کے مطابق وزیر اعلی نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ اس ایئر لائن کے لیے فوری طور پر چار ایئر بس طیارے لیز پر حاصل کیے جائیں۔
وزیر اعلی کا کہنا تھا کہ ایئر پنجاب ابتدائی مرحلے میں ڈومیسٹک پروازیں چلائے گی اور ایک برس بعد بین الاقوامی پروازیں بھی شروع کی جائیں گی۔
تاہم ابھی تک گلف سٹریم جہاز کو نہ تو پنجاب حکومت نے اپنے نام پر رجسٹر کروایا ہے اور نہ ہی یہ جہاز کسی ایئر لائن کے فلیٹ کا حصہ ہے۔
تو یہاں سوال تو بنتا ہے کہ پنجاب کے ٹیکس دہندگان کو جہاز کی قیمت کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کی جائیں اور بتایاجائے کہ اس کی کیا ضرورت تھی اور اس کے بجائے ایک چھوٹے جہاز، ہیلی کاپٹر یا گاڑیوں کا انتخاب کیوں نہ کیا گیا۔اور اس جہاز کے فلائٹ ڈیٹا کو شیئر کرنے میں کیا امرمانع ہے
گلف سٹریم G500 لگژری طیارے امریکی کمپنی ’گلف سٹریم ایئرو سپیس‘ تیار کرتی ہے۔ کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق گلف سٹریم جیٹ طیارے مسافروں کی آسائش کی سہولیات سے لیس ہیں اور تیز رفتاری کے ساتھ مسافروں کو اُن کی منزل مقصود پر پہنچاتے ہیں۔
ویب سائٹ کے مطابق گلف سٹریم GVII-G500 لانگ رینج لگژری ایئر کرافٹ وقت بچاتا ہے اور یہ 1000 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اُڑتے ہوئے ایک ہی پرواز میں آٹھ ہزار 334 کلومیٹر تک سفر طے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ویب سائٹ کے مطابق اس طیارے میں 13 مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے جبکہ طویل روٹس کے دوران مسافر طیارے میں آرام بھی کر سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کے مطابق نیا G500 طیارہ ساڑھے چار کروڑ ڈالر تک میں فروخت ہوتا ہے۔
کمپنی کی جانب سے ویب سائٹ پر دی گئی ایک عمومی G500 کی تصاویر کے مطابق جدید سہولیات سے آراستہ اس طیارے میں مسافروں کے آرام اور سہولت کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔ طیارے میں آرام دہ صوفہ سیٹس کے ساتھ ساتھ کھانے پینے کے لیے ڈائننگ ٹیبل بھی موجود ہیں۔
طیارے کی خریداری کے طریقہ کار اور اسکی اھمیت و افادیت پر بنیادی سوالات اٹھانے کی بجائے ” کیوں ” کو لیکر حکومت مخالف جماعتوں کی تکرار خاص طور ن لیگ سے نکالے گئے یا پارٹی چھوڑ جانے افراد کی جانب سے اعتراضات سامنے آ رہے ہیں۔جسکی وجہ سے کسی نے زیادہ اثر نہیں لیا۔اب اس مہم جوئی کو لگام دینے کیلیے پنجاب حکومت نے من گھڑت پروپیگنڈہ کرنے والوں کیخلاف قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا ھے۔ جس سے دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائیگا






